موت زندگی تو چھین سکتی ہے، یادیں نہیں!

موت زندگی تو چھین سکتی ہے، یادیں نہیں!
موت زندگی تو چھین سکتی ہے، یادیں نہیں!

  

 صحافتی دُنیا کا ایک اور چراغ زندگی اور موت کی جنگ سے لڑتا ہوا زندگی کی بازی ہار گیا۔ ابھی اُس کی عمر ہی کیا تھی، جب کینسر جیسے موذی مرض نے اُسے زندگی کی رونقوں سے دُور کرنا شروع کر دیا۔ اتوار ساڑھے 12 بجے جب مجھے ایک فون کال کے ذریعے یہ افسوس ناک خبر سنائی کہ ”عائشہ ہارون ازنومور“.... یہ خبر صرف میرے لئے نہیں، بلکہ تمام صحافی برادری سے تعلق رکھنے والوںکے لئے انتہائی تکلیف دہ تھی، مگر شاید اتنی تکلیف دہ نہیں، جتنی تکلیف سے عائشہ اِس بیماری کا مقابلہ کر رہی تھی۔ صحافت کیا ہوتی ہے اور اس کے قواعد و ضوابط اور ذمہ داریوں سے عائشہ ہارون بخوبی واقف تھی اور آنے والے نئے لوگوں کو صحافت کے رموز سمجھاتی تھی۔ اس نے بہت سارے نئے لوگوں کو عملی طور پر آگے آنے کا موقع دیا اور مدد بھی کی۔ اونچا لمبا قد، صحافتی خوبیوںسے مالا مال، شاندار شخصیت کی مالک تھی۔ کہتے ہیں صحافت کی دُنیا بہت خوبصورت اور رنگین، مگر انتہائی سبق آموز ہوتی ہے۔ اس دُنیا کا عائشہ ہارون نے انتہائی مردانہ وار مقابلہ کیااور اپنے مقاصد میں ثابت قدم رہی۔ سچ اور جھوٹ کی لڑائی میں سچ کا ساتھ دیتی۔ بڑے بزرگ کہتے ہیںکہ اچھے لوگ اس دُنیا سے پہلے جائیںگے۔ شاید عائشہ ہارون بہت زیادہ اچھی تھی، اس کے کالم بہت جاندار ہوتے تھے۔ وہ پاکستان میںایک نئی صبح دیکھنے کی متلاشی تھی۔ اس کے کالم پڑھنے کے بعد اس کی دُور اندیشی کا اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی خبر کے تمام پہلوﺅں پر مکمل ریسرچ کے بعد ہی کالم یا آرٹیکل پر مضبوط گرفت بنا پاتی۔ یہی ایک اچھے اور با اصول صحافی کی پہچان ہے۔ عائشہ ہارون کو سب ایک بہترین ایڈیٹر کے طور پر جانتے ہیں۔ عائشہ ہارون نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک نجی انگلش اخبار سے کیا، وہیں میری عائشہ سے ملاقات، میرے شوہر آغا اقرار نے کروائی۔ یوں ہماری دوستی کا آغاز ہوا ۔ مَیں نے اُن کی شفیق والدہ سے بہت کچھ سیکھا۔ اگر مَیں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ وہ ایک بہادر ماں کی بہادر بیٹی تھی، عائشہ ہارون صرف ایڈیٹر کے طور پر نہیں، بلکہ اس کی پہچان اس طرح سے بھی ہے کہ اپنی عمر کا بہترین حصہ اس نے جس اخبار کے لئے بطور ایڈیٹر وقف کر دیا تھا، اسی اخبار کا اُردو ٹی وی چینل منظر عام پر لانے کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اس چینل کے لئے اس خاتون نے دوبارہ پرانی انگلش اخبار کی ٹیم کو اکٹھا کیا، مگر اس کو منظر عام پر دیکھنا شاید اس کی قسمت میں نہیں تھا۔اس کی لانچنگ سے پہلے ہی عائشہ ہارون نے اس چینل کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہاں مَیں یہ ضرور کہنا چاہوںگی کہ شاید عائشہ ہارون کے اندر کینسر کے جراثیم پہلے سے موجود تھے،مگر بے رحم وقت، وقت سے پہلے جراثیم کو متحرک کر دیتا ہے۔ اس چینل کے لئے جتنا کام عائشہ ہارون اور اس کے ساتھی حضرات نے کیا اور باری باری سب نے اسے خیرباد کہہ دیا۔ یہاں سے ہم صحافت، جو الیکٹرانک میڈیا کی شکل اختیار کر چکی ہے،اسی بیچ صحافت پر وار کرنے والے پیروں تلے زمین بھی نہیں رہنے دیتے، گاہے بگاہے ان سے آشنا ہوتے رہتے ہیں۔ شاید مَیں کہیں غلط بھی ہو سکتی ہوں، مگر سچائی یہی ہے، محنت کا صلہ جب نہ ملے تو انسان زندہ رہتا ہے، مگر جب چھین لیا جاتا ہے تو تکلیف بہت محسوس ہوتی ہے، مگر مَیں یہ سب کچھ کیوں لکھ رہی ہوں۔ شاید آج مجھے اس کی کمی محسوس زیادہ ہوئی ہے۔

 عائشہ ہارون کے ساتھ میری یادیں کچھ اس طرح سے ہیں، میرے بیٹے کی پیدائش پر سب سے پہلے پہنچنے والی کون تھی:”عائشہ ہارون“۔ میرے بیٹے کی پہلی سالگرہ پر لیٹ ہو نے اور دسمبر کی انتہائی ٹھنڈ میں صبح آٹھ بجے شرمندگی اور معذرت کے ساتھ آنے والی کون تھی، ”عائشہ ہارون“.... اسلام آباد میں قیام کے دوران ویک اینڈ پر ”ون ڈش“ پروگرام بنانا، سیاست کی گرما گرم بحث اور سیر سپاٹے کے قصے، آج عائشہ ہارون کے ساتھ گزرے ہر لمحے کو مَیں یوں تازہ کر رہی ہوں، جیسے آج کے بعد یہ لمحات الگ یاد کروں گی تو عائشہ ہارون کہاں ہوںگی۔ وہ آج ہمارے درمیان نہیں۔ جب تک اس کے دوستوں اور پیاروں کے ہاتھ میں قلم پکڑنے کی سکت رہے گی، عائشہ ہارون جیسے شاندار صحافی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ٭

مزید :

کالم -