کراچی میں بدامنی کو سنجیدگی سے نہیں لیاجارہا، وزیرہوشیار کردیتاہے ، لکھ دیں کہ مافیا زیادہ طاقتور ہے،ہمیں ہے حکم اذان لاالہ الااللہ: سپریم کورٹ

کراچی میں بدامنی کو سنجیدگی سے نہیں لیاجارہا، وزیرہوشیار کردیتاہے ، لکھ دیں ...
کراچی میں بدامنی کو سنجیدگی سے نہیں لیاجارہا، وزیرہوشیار کردیتاہے ، لکھ دیں کہ مافیا زیادہ طاقتور ہے،ہمیں ہے حکم اذان لاالہ الااللہ: سپریم کورٹ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے کہاہے کہ یوں لگتاہے کہ کراچی امن وامان کیس کی بے معنی مشق کررہے ہیں ، معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیاجارہا، تسلیم کیاگیاکہ بدامنی کی وجہ سے سیاسی مداخلت ہے ، فیصلے کو سواسال ہوگیا، شہر قائد کے حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔عدالت کاکہناتھاکہ حکومت کا کام اذان دیناہے ، نمازی آئیں یا نہیں ، ہم وہی آرڈر دیں گے جوآئین کہتاہے ، لکھ کر دیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے ، مافیا طاقتور ہے ، کراچی کے حالات زبانی جمع خرچ سے ٹھیک نہیں ہوں گے ، ایک وزیرکہہ دیتاہے کہ ہوشیار ہوجاﺅ ، کچھ ہونیوالا ہے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چار رکنی کراچی رجسٹری میں امن وامان کیس کی سماعت کررہاہے ، دوران سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت سندھ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی پیراوائز رپورٹ پیش نہیں کی جس پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت میں گذشتہ روز جمع کرائی گئی رپورٹ میں ہر پیرے کا جواب موجود ہے ۔جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ فیصلے کے پیرا ایک سو تہتر کی آبزرویشن ہے کہ کراچی میں متحرک گروپوں کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے مالی، سیاسی اور اخلاقی مدد حاصل ہے ، یوں لگتا ہے ہم بے معنی مشق کررہے ہیں، معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا جارہااور نہ ہی جواب داخل کرنے کی کوشش کی، آپ نے تسلیم کیا ہے کہ بد امنی کی وجہ سیاسی مداخلت ہے ۔عدالت نے کہاکہ کراچی بد امنی کیس کے فیصلے کو سوا سال ہوگیا ، حالات بد سے بدتر ہوگئے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ مانتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی مداخلت ہے تو لکھ کر دیں ، ہمیں جو آئین کہتا ہے ہم وہ آرڈر کریںگے، آپ جو نہیں کرنا چاہتے نہ کریں۔ جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ فتح ملک صاحب آپ کا کام اذان دینا ہے نمازی آئیں یا نہ آئیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں ، ہمیں ہے حکم اذان لاالہ الااللہ ، کراچی کے حالات زبانی جمع خرچ سے ٹھیک نہیں ہونگے۔ جسٹس جواد نے اسفتسار کیا پولیس کو سیاسی وابستگی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ ایک وزیر کہتا ہے کہ کراچی والے ہوشیار ہوجاو¿! کچھ ہونے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کہہ دیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے مافیا زیادہ طاقتور ہے۔

مزید : کراچی /Headlines