دنیابھر میں خواتین کے لیے واویلا کرنے والے امریکہ میں دودھ پلانے والی ماں کے ساتھ سپریم کورٹ کا معتصب سلوک،عجیب فیصلہ سنا دیا

دنیابھر میں خواتین کے لیے واویلا کرنے والے امریکہ میں دودھ پلانے والی ماں کے ...
دنیابھر میں خواتین کے لیے واویلا کرنے والے امریکہ میں دودھ پلانے والی ماں کے ساتھ سپریم کورٹ کا معتصب سلوک،عجیب فیصلہ سنا دیا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) دفتری اوقات میں اپنے نومولود بچے کو دودھ پلانے کے جرم میں ملازمت سے نکالی گئی امریکی خاتون کی استدعا عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کردی ہے کہ خاتون کے ساتھ صنفی امتیاز نہیں برتا گیا کیونکہ مرد بھی بچوں کو دودھ پلاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں :دادا کی چھ سالہ پوتی سے گری ہوئی حرکت،غیروں نے آکر بچا لیا

ریاست آئیووا سے تعلق رکھنے والی خاتون اینجلا ایمز انشورنس کمپنی نیشن وائڈ میوچوئل انشورنس میں کام کرتی تھیں۔ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد جب وہ دفتر لوٹیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلانا جاری رکھیں گی۔ چونکہ وہ دفتری اوقات کے دوران بچے کو ساتھ نہیں رکھ سکتیں تھیں اس لئے انہوں نے بچے کے لئے دودھ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ دفتر میں اس کام کے لئے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص تھا لیکن اینجلا نے اسے استعمال کرنے کے لئے ضروری کاغذی کارروائی مکمل نہیں کی تھی جس کی وجہ سے انہیں وہاں دودھ کا اہتمام کرنے کی اجازت نہ دی گئی جبکہ اس دوران وہ کسی دیگر جگہ کی تلاش کے لئے کوشاں رہیں اور اس کام میں کافی وقت لگ گیا۔ جب وہ واپس اپنی میز پر پہنچیں تو ان کے سپر وائزر سخت برہم ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینجلا کی طویل چھٹی کی وجہ سے پہلے ہی بہت کام جمع ہوچکا تھا اور اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش موجود نہ تھی۔ انہوں نے اینجلا سے کہا کہ وہ اوور ٹائم کے ذریعے اپنا کام مکمل کریں جس پر وہ شکایت لے کر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے پاس چلی گئیں۔ سربراہ نے ساری بات سننے کے بعد اور خاتون کی حالت دیکھنے کے بعد انہیں ایک کاغذ اور قلم تھمایا اور چند سطریں لکھوائیں جو کہ دراصل اینجلا کا استعفیٰ تھا۔

خاتون اس طرح ملازمت سے برطرف کئے جانے کے خلاف شکایت لے کر عدالت میں چلی گئیں اور ان کا مقدمہ مختلف ماتحت عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک پہنچ گیا جہاں بالآخر یہ فیصلہ سنا دیا گیا کہ دودھ پلانے کی ضرورت کے باعث ملازمت سے نکالا جانا صنفی امتیاز نہیں ہے کیونکہ دودھ پلانے کا کام صرف خواتین نہیں بلکہ مرد بھی کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تاحال سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مردوں کے دوھ پلا سکنے سے بالآخر عدالت کی کیا مراد ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس