کیا آپ کو داعش کے معنی معلوم ہیں؟

کیا آپ کو داعش کے معنی معلوم ہیں؟
کیا آپ کو داعش کے معنی معلوم ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) شام اور عراق کے وسیع علاقے میں خلافت کا اعلان کرنے والی تنظیم داعش کا نام اب مشرق وسطیٰ سے نکل کر پوری دنیا کے لئے دہشت کی علامت بن چکا ہے۔ لفظ داعش کا مطلب کیا ہے، اور کیا اس کا کچھ تعلق مشرق وسطیٰ یا عربی زبان سے بھی ہے؟

مزید پڑھیں:اردن کے باد شاہ نے خود داعش کیخلاف خود میدان جنگ میں اترنے کا فیصلہ کر لیا

ماہرین لسانیات کے مطابق داعش عربی زبان کا لفظ نہیں ہے اور نہ ہی مشرق وسطیٰ کی کسی دیگر زبان سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ لفظ داعش اس تنظیم کے عربی نام ”الدولت الاسلامیہ فی العراق والشام“ کا مخفف ہے۔ چونکہ اس نام کو مختصراً ”دولت اسلامی عراق و شام“ بھی کہا جاتا ہے اور انہیں الفاظ کے پہلے حروف یعنی د، ا، ع اور ش کو ملا کر لفظ داعش بن گیا ہے۔ طویل عربی نام کے مقابلے میں مختصر اور ادائیگی میں آسان ہونے کی وجہ سے مشرق و مغرب کے میڈیا میں اب عام طور پر داعش کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔

تاہم داعش کے مخالفین اس کو بولتے ہوئے ’دعس‘کہتے ہیں جس کے معنیٰ ’کچلنا ‘ہے۔ اس لفظ کا ایک اور تلفظ ’داحس والغبراء‘بھی ہے جس کے معنیٰ’جہالت‘ کے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس