وہ ملک جہاں ظالم لوگ اپنے والدین اور بزرگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں

وہ ملک جہاں ظالم لوگ اپنے والدین اور بزرگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں
وہ ملک جہاں ظالم لوگ اپنے والدین اور بزرگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں

  

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) آپ نے بھارت میں پائی جانے والی بہت سی عجیب و غریب رسوم کے بارے میں سنا ہوگا لیکن شاید ہی کبھی اس بھیانک رسم کے بارے میں سنا ہو کہ جنوبی بھارت کی متعدد ریاستوں میں لوگ خاموشی سے اپنے ضعیف اور بیمار بزرگوں کو اپنے ہاتھوں قتل کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:’ کون بنے گا کروڑ پتی‘میں آٹھ کروڑ روپے جیت کر بھی بھارتی نوجوان بے

امریکی اخبار ”لاس اینجلس ٹائمز“ کہتا ہے کہ جنوبی بھارت کی کئی ریاستوں میں یہ رسم کئی صدیوں سے جاری ہے اور اگرچہ اسے عموماً 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لئے مخصوص سمجھا جاتا ہے لیکن بعض اوقات نہایت بیمار یا ذہنی مسائل کے شکار نوجوان لوگ بھی اس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

 اخبار ایک مقامی شخص کرن کی کہانی بتاتا ہے جو ایک روز صبح اپنے کام کے لئے روانہ ہوا تو اس کی بوڑھی ماں شدید بیماری کی و جہ سے نڈھال تھی اور بری طرح کھانس رہی تھی۔ جب وہ شام کے وقت گھر لوٹا تو اس کی ماں کی لاش ایک پرانی چارپائی پر رکھی تھی اور علاقے کے لوگ اس کے اردگرد جمع تھے۔ کرن کی ماں کو اس کی بیوی نے زہر پلا کر ہلاک کردیا تھا اور نہ ہی وہ خود اس ظالمانہ فعل پر شرمندہ تھی اور نہ ہی کرن کو کوئی افسوس تھا کیونکہ یہاں تو بوڑھے والدین سے جان چھڑانے کا یہی طریقہ رائج تھا۔ باسٹھ سالہ کرن کا کہنا تھا کہ اس کی ماں بہت زیادہ بیمار تھی اور اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اس کا علاج کرواسکتا اور نہ ہی اس کے کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اس کی بیوی کے پاس بھلا اور کیا راستہ بچا تھا بلکہ اس کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ وہ خود بھی یہی کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

سماجی بہبود کی تنظیم Help aid India کے سربراہ راجیشور کا کہنا ہے کہ ریاست تامل ناڈو اور کئی دوسری جنوبی ریاستوں میں یہ رسم عام پائی جاتی ہے اور یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ وہ بچوں کی پیدائش پر خوشی مناتے ہیں یا بیاہ شادیاں کرتے ہیں۔

 راجیشور بتاتے ہیں کہ مختلف علاقوں میں اس بھیانک فعل کو سرانجام دینے کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ عام طور پر جب کوئی بزرگ بہت بیمار ہوجاتا ہے تو اس کے گھر والے اس کی موت کی ایک تاریخ طے کرلیتے ہیں اور اس موقع پر بعض اوقات قریبی عزیزوں کو بھی بلایا جاتا ہے تاکہ سب اس رسم میں شامل ہوں۔ طے کئے گئے دن بزرگ کے جسم کی ایک مخصوص تیل سے مالش کی جاتی ہے اور اس کے فوراً بعد اسے انتہائی ٹھنڈے پانی سے نہلایا جاتا ہے جس کے باعث پہلے سے نازک حالت کے شکار بوڑھے شخص کا دل بند ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے بزرگوں کو قتل کرنے کے لئے انہیں زہر بھی پلاتے ہیں اور بعض علاقوں میں انہیں گائے کا دودھ پلایا جاتا ہے اور اس دوران ان کی ناک دبا کر رکھی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دم گھٹنے کے باعث بوڑھی جان قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے۔

 عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی بھارت میں ہر سال بے شمار بزرگوں کو اس دردناک موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن دنیا کے سامنے خود کو مہذب اور روشن خیال ملک کے طور پر پیش کرنے کے لئے بھارت نے اس قبیح جرم پر پردہ ڈال رکھا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس