باری اسٹوڈیو کے فلورز گوداموں اور کباڑ خانوں میں تبدیل

باری اسٹوڈیو کے فلورز گوداموں اور کباڑ خانوں میں تبدیل

 لاہور(فلم رپورٹر) لاہور میں باری اسٹوڈیو کے اندر واقع فلورز کی اکثریت گوداموں اور کباڑ خانوں کی شکل اختیار کر گئی۔ تفصیلات کے مطابق باری ملک نے یہ اسٹوڈیو 50 کی دہائی میں بڑی محنت اور لگن سے بنایا تھا مگر بعد ازاں ان کے بیٹے راحیل باری زرق باری اور خرم باری اپنے باپ کی اس محنت اور جائیداد کو سنبھالنے میں ناکام ہو گئے۔باری اسٹوڈیو میں ’’دلابھٹی‘‘ یکے والی، ابا جی، چاچا جی، چن مکھناں، ظلم دا بدلہ، جگری یار، ات خدا دا ویر، لارے، دلاں دے سودے، مرزا جٹ، ڈاچی اور بے شمار یاد گار اہم فلموں کی عکسبندی ہوئی۔ یہاں نامور فنکاروں اعجاز ، درانی، اسلم پروین مرحوم، اکمل مرحوم، مظہر شاہ، اجمل خان مرحوم، منور ظریف مرحوم، آغا طالش مرحوم، الیاس کشمیری مرحوم اور دیگر بے شمار فنکاروں نے کام کیا۔ اب یہ اسٹوڈیو ایک کباڑخانے کا منظر پیش کر رہا ہے اور یہاں سے فلمی دفاتر بھی کم ہو چکے ہیں اور فلم انڈسٹری کے لئے یہ نقصان دہ ثابت ہورہا ہے ۔

مزید : کلچر