پاکستان کی بقا:آزادی کشمیر میں

پاکستان کی بقا:آزادی کشمیر میں
پاکستان کی بقا:آزادی کشمیر میں

  

حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر کے رہنما اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان،آزاد کشمیر اور دنیابھرمیں رہنے والے پاکستانی و کشمیری عوام کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت پاکستان ،پاکستان کے عوام ،پا کستان کی صحافتی،ادبی انجمنیں ،سیاسی،مذہبی،تجارتی،تعلیمی اور دیگر تنظیمیں جس طرح جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر یہ دن مناتے آرہے ہیں، وہ کشمیری قوم کے لئے بہت حوصلہ افزا ہے ۔ شبیر احمد شاہ نے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں مملکت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی عوام نے اپنے کشمیری بھائیوں کی تحر یک آزادی میں جوگراں قدر خدمات پیش کی ہیں، وہ آب زر سے لکھنے جانے کے قابل ہیں ۔ شبیر احمد شاہ نے بالخصوص وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے کے کے سلسلے میں اُن کی کوششیں واقعی قابل ستائش وتحسین ہیں اور اس طرح یہ دن منانے سے مسلمانوں کے مابین جسد واحد اور امت واحدہ ہونے کے تصور کو فروغ ملا اور عالمی ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کی گونج سنائی دینے لگی ۔

انہوں نے دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے سبھی پاکستانی اورکشمیری بھائیوں،کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے سلسلے جو رول اور کردار ادا کررہے ہیں اور اس دن کشمیری عوام کے ساتھ علامت کے طور ایک انسانی زنجیر تشکیل دے کر اپنے جذبات کا موثر اظہار کرتے ہیں، وہ قابل تحسین ہے ۔ شبیر احمد شاہ نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ بنیادی طور اس دن کو منانے کے پیچھے یہی مقصد کارفرما ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا بھر میں جہاں بھی ہماری آواز پہنچے ،ہم اسے بلا کم و کاست پہنچانے کی کوشش کریں ۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جماعت الدعوۃ،جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں۔جماعت الدعوۃ کے ملک بھر میں ضلعی و تحصیل سطح پر یکجہتی کشمیر کے پروگرام ہوں گے۔وزیر اعظم نواز شریف آزاد کشمیر جائیں گے ۔دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھی اس دن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ناجائز تسلط کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرمیں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد شہید،ہزاروں زخمی اور ہزاروں حراستی مراکز میں سال ہا سال سے داد رسی کے منتظرہیں۔گزشتہ عرصے میں دس ہزار لاپتہ شہداء کی قبروں کی دریافت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود قابض فوج اور ایجنسیوں کے ایجنٹوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انہیں عہدوں اوراعزازات سے نوازاجارہاہے۔ قائدین حریت، بالخصوص سید علی گیلانی کی مسلسل نظر بندی اور نقل و حرکت پر پابندی ،حج عمرے اور بیرون ملک علاج معالجے کی اجازت نہ دینا، حتیٰ کہ مقبوضہ ریاست کے شہریوں کو بیرون ملک، بالخصوص پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب سے ٹیلی فون رابطے تک کی اجازت نہ دینا د دنیا کی نام نہابڑی جمہوریت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک کروڑ سے زائد کشمیری عوام کو بندوق کی نوک پر غلام بنا کر رکھا گیاہے۔ بھارت نے کشمیری مسلمانوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ اوباما اگر واقعی جمہوریت پسند اور امن پسند ہوتے تو بھارت کو کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے اور مظلوم کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلواتے۔ پاکستان کی قومی پالیسی میں آزادی کشمیر اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ملک کی سلامتی و بقاء کشمیر کی آزادی کے ساتھ وابستہ ہے۔ پاکستان کے غیور عوام اپنے کشمیری بھائیوں کو کسی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، کشمیر کی آزادی کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بے شمار قربانیاں دینے اور بچوں کے لاشے اٹھانے کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے۔ وہ آج بھی پوری جرا ت کے ساتھ بھارت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔

امریکی آشیر باد بھارت کو کشمیر میں عبرتناک شکست سے نہیں بچاسکتی ، کشمیری عوام بھارت کے غرور کو خاک میں ملادیں گے۔ امریکہ اگر اپنے لاؤ لشکر اور نیٹو افواج کے باوجود افغانستان میں پٹ گیا ہے تو بھارت کشمیریوں کے ہاتھوں پٹ چکاہے، اب دونوں پٹے ہوئے مہرے ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر سہارا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہئے کہ وہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لئے بھارت پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے مجبور کریں کہ وہ فوجی انخلا کرتے ہوئے کشمیر یوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ پوراکرے۔ حکومت پاکستان کشمیر پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کی بھرپور پشتیبانی کرے اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کو اقوام متحدہ اور اوآئی سی سمیت تمام بین الاقوامی اداروں میں بے نقاب کرتے ہوئے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے بھرپور سفارتی مہم کا اہتمام کرے۔

نریندر مودی جیسے انتہا پسند اور مسلمانوں کے قاتل کو اوباما کی آشیر باد خطے کو جنگ کے حوالے کرنے کی سازش ہے ۔امریکہ اور بھارت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر انہوں نے کسی مشترکہ ایڈونچرکی کوشش کی تو یہ جنگ صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ عالمی امن کے لئے تباہ کن ہوگی۔کشمیر کشمیریوں کا ہے، بھارت جتنی جلد یہ بات سمجھ لے اتنا ہی اس کا فائدہ ہے۔اوباما کی طرف سے ہندوستان کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے اور اس کے ساتھ نیوکلیئر معاہدوں پر پاکستانی حکمرانوں کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔بھارت ایک جارح ملک ہے جو کشمیر میں قتل عا م کر رہاہے۔ بھارت کی آٹھ لاکھ افواج نے کشمیریوں کو بندوق کی نوک پر غلام بنارکھاہے۔ بھارت پاکستان پر تین جنگیں مسلط کر چکاہے۔ امریکہ کی طرف سے بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے کی تجویز اس خطے پر ظلم ہے۔ ہم حکمرانوں کویہ نہیں کہتے کہ وہ امریکہ سے جنگ لڑیں مگر حکمرانوں کی طرف سے آقا و غلام کی شرمناک پالیسی عوام کے لئے قابل قبول نہیں۔

مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر علاقے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔یوم یکجہتی کشمیر کو بھر پور قومی پذیرائی حاصل ہے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں، قائدین اور ہر حکومت نے کشمیر کی آزادی کے لئے خدمات انجام دی ہیں۔ یہ ہماری متفقہ آواز ہے ۔پاکستانی قوم کایہی پیغام جانا چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، کوئی مسئلہ کشمیر پر دو قدم پیچھے ہے نہ اس کی آواز کم ہے، ہر کوئی مسئلہ کشمیر کا اتنا ہی درد رکھتا ہے، جتنا باقی تمام کے دلوں میں ہے، پوری پاکستانی قوم کشمیر کاز کی حمایت کرتی ہے۔

مزید : کالم