اوور سیز پاکستانیز کمیشن کا قیام

اوور سیز پاکستانیز کمیشن کا قیام
اوور سیز پاکستانیز کمیشن کا قیام

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ون ونڈو آپریشن۔۔۔72گھنٹوں میں تمام مسائل کا حل

تلاش معاش کے لئے وطن اور عزیز اوقارب سے دور رہنے والے تارکین وطن کا ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ہوتا ہے ۔بیرون ملک سے بجھوائے جانے والے پیسے سے نہ صرف ملک کے زر مبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ ملکی معیشت اور اقتصادی صورتحال کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔طویل عرصے یا پھر ساری زندگی دیار غیر میں رہنے واے تارکین وطن اپنے ملک کی پہچان بننے کے ساتھ ملک کے سفیربھی ہوتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی تارکین وطن کو اپنے ملک میں بے شمار مسائل جن میں پراپرٹی پر قبضے،ایئر پورٹ پر عملے کے ناروا سلوک اور مختلف محکموں کی سرد مہری شامل ہیں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن کے حل کے لئے وہ ایک عرصے سے مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب نے جہاں تعلیم ،صحت ، انفراسٹرکچر ،ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کی ترقی ،عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور صوبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں جنہیں نہ صرف ملک، بلکہ بین الاقوامی اداروں اور شخصیات نے بھی سراہاہے ۔خادم اعلی محمد شہباز شریف نے تارکین وطن کے مسائل کے ادراک کرتے ہوئے جامع اور ٹھوس اقدامات کئے ہیں تا کہ جب وہ اپنے وطن واپس آئیں تو انہیں کسی قسم کی دقت اور پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے ۔حکومت پنجاب نے اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کے اعتراف میں28اپریل 2014ء کو پہلے اوور سیز پاکستانیز کنونشن کا انعقاد کیا جس میں دنیا بھر سے تارکین وطن نے شرکت کی اور اپنے مسائل کا کھل کر اظہار کیا ۔شرکاء نے کہا کہ وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے بیرون ملک اہل وطن کا کنونشن بلا کر نئی تاریخ رقم کی ہے پہلے بھی کئی حکومتیں آئیں لیکن کسی نے ملک کے لئے زر مبادلہ کمانے والوں کی عملی طور پر بہتری کے لئے کچھ نہیں سوچا۔وزیر اعلی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت سے رزق حلال کما کر کثیر زر مبادلہ بچاتے ہیں اور ان کی حلال کی کمائی ہوئی رقم ہو یا جائیدار پر کسی کو ہاتھ صاف نہیں کرنے دیں گے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ایک با اختیار کمیشن قائم کیا جائے گا جو بغیر کسی دباؤ اور سیاسی اثر و رسوخ سے بالا تر ہو کر ان کے مسائل حل کرے گا ۔وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اپنے اعلان کے مطابق اوورسیز پاکستانیز کمیشن قائم کر دیا ہے اور ایک سینئر بیوروکریٹ محمد افضال بھٹی کو اس کمیشن کا کمشنر مقرر کیاہے ۔محمد افضال بھٹی اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ وہ تارکین وطن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر بغیر کسی دباؤ کے حل کریں گے اور وزیر اعلی نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اس پر پورا اتریں گے ۔محمد شہباز شریف اس کمیشن کی خود نگرانی کریں گے ،جبکہ چیف سیکرٹری ، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلی سطحی افسران کمیشن کے ممبر ہیں ۔کمیشن کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کے لئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اس کے علاوہ شکایات کے اندراج ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے ۔ضلعی سطح پر کمیٹیاں ون ونڈو آپریشن کے ذریعے 72گھنٹوں میں تارکین وطن کے مسائل حل کریں گے ۔حکومت پنجاب نے ڈی سی او آفس جہلم میں سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے سہولت سنٹر مئی 2014ء میں قائم کیا تھا ۔مئی 2014ء سے دسمبر2014ء تک سمند رپار پاکستانیوں کی طرف سے مختلف نوعیت کی 106شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 101شکایات کا ازالہ کر دیا گیا۔ اس سہولت سنٹر میں 21وفاقی و صوبائی محکموں کے فوکل پرسن موجود ہوتے ہیں اور ان کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہیں ۔

اوور سیز پاکستانیز کمیشن قبضہ و لینڈ مافیا سے چھٹکارا دلانے ،قومی اور بین الاقوامی ایئر پورٹس پر در پیش مسائل ،غیر ملکی شہریت کے حامل طالبعلموں کے تعلیمی مسائل کو بلا تاخیر حل کرے گا ۔اس کے علاوہ رشوت خوری اور اضافی ادائیگیوں کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان ،خاندانی جھگڑوں ، ٹریول ایجنٹس اور ایئر لائنز سے متعلقہ مسائل سے نجات دلائے گا ۔اوور سیز پاکستانیز کمیشن پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے اوور سیز پاکستانیوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرئے گا، بلکہ ان کی اس سلسلے میں رہنمائی بھی کرے گا ۔اوورسیز پاکستانی www.opc. punjab.gov .pk پر اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں یا متعلقہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے دفتر سے رابطہ کریں۔

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے جس نے ہمیشہ سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ، ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں ایئرپورٹس پر گرین چینل کا اجراء کیا جس کے ذریعے انہیں بیرون ملک سے پاکستان میں اشیاء لانے میں آسانیاں پیدا کی گئیں اور ان کو مختلف ایجنسیوں کی چیرہ دستیوں سے بچایا۔

پاکستان کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ،مگر ان میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا ہے۔ دہشت گردی نے نہ صرف پاکستان کے امیج کو خراب کیا ہے، بلکہ ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں محبت اور یہاں کے حالات پر جو جذبات پائے جاتے ہیں ان کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پاکستان میں حالات خراب ہوں تو اس کے براہ راست اثرات بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں پر پڑتے ہیں۔ 16دسمبر کے دہشت گردی کے واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ہر پاکستانی خواہ وہ ملک کے اندر موجود ہے یا کسی دوسرے ملک میں قیام پذیر ، اس کا دل خون کے آنسو رویا ہے۔ اس واقعہ کے بعد تمام قوم ، حکومت اور سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر اکٹھا ہوگئی ہے اور فیصلہ کرلیا ہے کہ وطن عزیز سے دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرکے ہی دم لیں گے۔ حکومت پنجاب نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے کئی عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایلیٹ ٹریننگ سکول میں 421کارپورلز کے دستے کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب منعقد ہوئی۔ یقیناًیہ فورس صوبہ میں امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کے قلع قمع میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ حکومت پنجاب کے لاؤڈسپیکر، کرایہ داری، ممنوعہ اسلحہ، منافرت اور شرانگیز مواد کی اشاعت اور تقسیم جیسے قوانین میں ترامیم کرکے انہیں ناقابل ضمانت جرم بنا دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور انداز میں عمل درآمد کررہے ہیں۔

انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب مادر وطن کو دہشت گردی ، انتہاپسندی اور شدت پسندی کے ناسور سے پاک کردیاجائے گا اور ایک بار پھر پاکستان کے گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت ملے گی۔ نہ صرف اندرون ملک، بلکہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی سراٹھا کر چلیں گے۔

مزید : کالم