کاکروچ کی جگہ ہاتھی ہوتا تو نوید قمر کیا کرتے!

کاکروچ کی جگہ ہاتھی ہوتا تو نوید قمر کیا کرتے!
کاکروچ کی جگہ ہاتھی ہوتا تو نوید قمر کیا کرتے!

  

کاکروچ اور چھپکلی عام طور پر بچیوں اور خواتین کی چھیڑ ہوتی ہیں کہ ان کو ہر دو سے بڑا ڈر لگتا ہے۔ گھروں کے واش روموں اور اکثر اوقات کمروں میں کاکروچ اور چھپکلی کے نظر آتے ہی خواتین کی چیخیں بھی نکل جاتی ہیں۔ کئی گھرانوں میں تو نوبت اس حد تک آ جاتی ہے کہ بہن بھائی کی منت کررہی ہوتی ہے کہ واش روم سے کاکروچ یا کمرے سے چھپکلی کو نکال باہر کرے۔ کاکروچ بے چارے تو کیڑے مار سپرے کا شکار ہو کر دم توڑ دیتے ہیں، البتہ چھپکلی بہت ناچ نچاتی ہے۔ بڑی بوڑھیوں نے چھپکلی کے حوالے سے کئی ٹوٹکے بھی ایجاد کر رکھے ہیں، لیکن آج کے دور میں یہ ٹوٹکے بھی کام نہیں آتے کہ جدید دور کی یہ چھپکلیاں چھتوں سے چپک کر رہ جاتی ہیں۔ ایک جگہ سے بھگانے کی کوشش کریں تو بھاگ کر دوسری جگہ گھس جاتی ہیں، خود ہمارے اپنے گھر میں یہ تماشاہو چکا کہ بہن کی شکائت پر ہمارے صاحبزادے نے کوشش کی ،تھک کر ہار سے گئے،مگر چھپکلی نہ نکال سکے۔ پھر ان کو خود ہی ترکیب سوجھی اور انہوں نے اپنا سر منہ اور آنکھیں محفوظ کرکے چھپکلی کی طرف کیڑے مار سپرے کی خاصی مقدار روانہ کی۔ تھوڑی دیر کے لئے بے دم ہو کر جب چھپکلی نیچے گری تو پھر اسے وائپر سے ٹھکانے لگایا گیا۔ اب ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوا کہ وائپر کو ہاتھ لگانا بھی چھوت چھات والا مسئلہ بن گیا، اسے دھلانے کے بعد استعمال کیا گیا۔

یہ سب بتانے کی ضرورت تو نہیں تھی، لیکن قومی اسمبلی میں ہمارے ایک نستعلیق رہنما کے ساتھ جو ہوا اس نے ہمیں متوجہ کرلیا۔ خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے اہم رہنما، سابق وزیر اور حال قومی اسمبلی کی اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ نوید قمر کو شاید بھوک نے ستایا یاپھر جی چاہا تو انہوں نے سینڈوچ منگوا لیا۔ ابھی وہ پہلا لقمہ ہی لینے لگے کہ اس میں سے کاکروچ برآمد ہو گیا۔ اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ لڑکیوں کی طرح خوفزدہ ہو گئے، البتہ خبر یہ ہے کہ وہ بہت برہم ہوئے اور تحقیقات کا حکم دے دیا، اب نتیجے کا انتظار کریں۔ یہ خبر یوں بھی حیرت والی ہے کہ سینڈوچ سے کاکروچ برآمد ہو گیا۔ نوید قمر شکر کریں کہ نوبت یہیں تک رہی ورنہ سینڈوچ سے ہاتھی بھی برآمد ہو سکتا ہے کہ یہ جادو کی نگری ہے۔

سید نوید قمر نے یہ آرڈر دیا تو سینڈ وچ قومی اسمبلی کے کیفے ٹیریا ہی سے آیا ہو گا، یہ خبر پڑھ کر نہ جانے کتنے معزز اراکین، خصوصاً ہمارے صحافی دوستوں نے ابکائیاں لی ہوں گی کہ نادانستگی میں کہیں وہ کھا ہی نہ گئے ہوں، اگر کاکروچ نہیں تو یقیناًکوئی مکھی مچھر تو یقیناًمعدے تک پہنچ گیا ہو گا۔ قومی اسمبلی کی کوریج والے صحافی دوستوں کو اپنا اپنا الٹرا ساؤنڈ کرا لینا چاہیے کہ یہی حضرات کیفے ٹیریا کی رونق کا باعث ہیں۔ یہ کاکروچ والی بات تو اب سامنے آئی ہے ،ورنہ شکایت تو یہ ہوتی تھی کہ سالن میں سے مکھی برآمد ہو گئی،بلکہ ہمارے مرحوم دوست سعادت خیالی تو خود ایسے کئی لطیفے کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ خود ہی بتا رہے تھے کہ دو تین دوستوں کو کسی بڑے ہوٹل کے ریستوران سے کھانے کا شوق ہوا، بل کا معاملہ تھا تو ایک دوست نے کہا کہ یار! فکر کیوں کرتے ہو، چنانچہ یہ لوگ چلے گئے، ٹھاٹھ سے آرڈر دیا، ابھی تھوڑا ہی کھایا تھا کہ اچانک ایک دوست نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ریستوران کے بیرے اور انچارج کو بلا لیا اور سالن سامنے رکھ کر کہا کہ آپ گاہکوں کو مکھیاں کھلاتے ہیں کہ سالن میں دو عدد مردہ مکھیاں موجود تھیں، سپروائزر نے معذرت پر معذرت کی اور منت سماجت کرکے خاموش کرایا۔ اس کے بعد نہ صرف معافی مانگی گئی ،بلکہ نیا کھانا منگا کر مفت کھلایا گیا اور بل نہ لیا۔ یہ تو سعادت خیالی(مرحوم) کی بتائی بات ہے، ہم نے تو ایک فلم میں یہ سین دیکھا تھاکہ ہیرو جھجک ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کے ساتھی کامیڈین یہ تماشہ کرکے پیٹ پوجا کر آتے ہیں۔

اب سید نوید قمر کے بارے میں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کاکروچ جیسی شے ساتھ لائے ہوں گے، یہ تو ڈرانے والا ہے۔ اس لئے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قومی اسمبلی کے کیفے ٹیریا سے آیا۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اب پوری تحقیق ہو کہ اب تک کیفے ٹیریا والے معزز اراکین اور صحافیوں کو کیا کیا کھلا چکے۔یہ تو قومی اسمبلی جیسے ادارے کے کیفے ٹیریا کا حال ہے، عام بازاروں میں عوام کو جو کچھ کھانے کو دیا جاتا ہے اس کا تو عالم ہی اور ہے۔ اس حوالے سے مختلف چینل بہت کچھ دکھا چکے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ یہ تک بتا دیا گیا کہ ریڑھیوں پر سکولوں کے باہر چپس اور شامی جس گھی سے تلے جاتے ہیں، وہ خالص ہونا تو کجا سرے سے گھی نہیں ہوتا۔ یہ تو شادی گھروں اور ہوٹلوں کے بچے کھچے کھانے والے سالن کی بچی ہوئی چکنائی ہوتی ہے جو ہوٹل والوں/ شادی ہال والوں سے خرید لی جاتی ہے۔ بہرحال اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ شایدکوئی مسئلہ حل ہو کہ سید بادشاہ کی خدمت میں کاکروچ کا نذرانہ پیش کر دیا گیا ہے۔

حال ہی میں ہم نے گدھوں کے گوشت کے حوالے سے کالم لکھا تھا، اگلی صبح دفتر آئے اور محترم ناصر زیدی سے آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے کالم کی تعریف کچھ اس انداز سے کی کہ گدھوں کے گوشت پر لکھا ہے تو ذرا سموسوں کا بھی دھیان کرو، ان میں تو چوہوں کا قیمہ کھلا دیا جاتا ہے۔ توبہ توبہ کی اور پھر اس حقیقت پر دکھ کا اظہار کیا کہ آخر ہمارا قومی کردار کیا ہوگیا ہے کہ تھوڑے سے زیادہ منافع کی خاطر ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو دینی اور قومی نقطہ ء نظر سے ہر طرح شرعاً ناجائز اور صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ یہ قومی کردار کی بات ہے اور اس کے لئے ہم سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔اشیائے خوردنی میں ملاوٹ تو بہت پرانا دھندا ہے جب کیکر کی چھال چائے کی پتی بنتی اور مرچوں میں برادہ ڈال دیا جاتا تھا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ماضی کی طرح چیکنگ نہیں ہوتی، عملہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتا ہے، حالانکہ بلدیہ میں باقاعدہ شعبہ فوڈ ہے۔ہم تو اپنے علمائے کرام سے درخواست کریں گے کہ وہ اس مسئلے پر خصوصی وعظ کیا کریں۔ *

مزید : کالم