ایرانی قیادت کا کھلا خط ، مغرب کی نئی نسل کے نام

ایرانی قیادت کا کھلا خط ، مغرب کی نئی نسل کے نام
ایرانی قیادت کا کھلا خط ، مغرب کی نئی نسل کے نام

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی ویب سائٹ پر 21جنوری کو مغرب کی نئی نسل کو پیغام دیا ہے کہ اسلام کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کاشکار نہ ہو، بلکہ اسے پڑھے ، اسے جانے کہ یہ ایک امن کا پیغام ہے، انسانیت کے لئے ایک بہتری کا درس ہے ، غالباًدنیائے اسلام میں پہلی بار کسی سربراہ نے اس طرح کا قدم اٹھایا ہے اور مغرب کی نئی نسل کو براہ راست مخاطب کیا ہے۔ جس میں اسے ’’اسلام فوبیا ‘‘ سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب فرانس اور جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں، مساجد پر حملے ہورہے ہیں ، مسلمانوں کی جان ومال خطرے میں ہے ۔

اس خط میں جوانہوں نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے، مغرب کی نئی نسل کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام کے پیغام ،یعنی قرآن پاک کو خود پڑھے اور سمجھے کہ یہ امن ، سلامتی اور بھلائی ہی بھلائی ہے۔ ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہی نئی نسل مغرب کاکل ہے، مستقبل ہے، ان کا ذہن زہرآلود ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح انہوں نے مذاہب کے درمیان پل بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ دنیا کو تقسیم کرنے کی بجائے اسے امن کا گہوارہ بنایا جائے۔ اس خط کو سوشل میڈیا پر بھی دیا گیا ہے، ساتھ ہی یہ کوشش بھی رہی کہ اچھی شہرت کے بین الاقوامی اخبارات میں بھی ،جن کی اشاعت زیادہ ہے، ان میں بھی اسے شائع کروایا جائے ،لیکن چونکہ حکمت عملی میں غلطی ہوئی اور سوشل میڈیا پر آجانے کی وجہ سے اخبارات نے اسے چھاپنے سے معذرت کرلی۔ یہ خط چھ زبانوں میں ترجمہ کرکے اسے تشہیر کے لئے دیا گیا ہے ۔تشہیر سے پہلے اردگرد گلاب کے پھول سجائے گئے ہیں اور لکھا گیا ہے کہ ’’LETTER FOR YOU‘‘ تاکہ ہرپڑھنے والا سمجھے کہ یہ خاص اسے ہی مخاطب کیا گیا ہے۔

شیخ نجف علی جو قم میں استاد ہیں،المانیٹر کو بتایا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان خلیج اتنی گہری ہوتی جارہی تھی کہ اسے پاٹنا ضروری ہوگیا تھا، اس تقسیم کو اسلام اور عیسائیت کے درمیان اسلام اور مغرب کے درمیان دوری بھی سمجھا جاسکتا ہے ،اس لئے یہ کوشش قابل تحسین ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں یا پیدا کی گئی ہیں، انہیں دور کیا جائے۔ ’’اسلام فوبیا‘‘ اور ’’مغرب فوبیا‘‘ دونوں کو دور کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ایک نئی سوچ ہے کہ ’’تبلیغ ‘‘ کی بجائے خود مغرب کی نئی نسل کو غوروفکر کرنے ،اسلام کو پڑھنے اور سمجھنے کی دعوت دی گئی ہے کہ ہم نہیں کہتے کہ یہی درست ہے ،تم خود سمجھ کر تسلیم کرو گے کہ ہاں یہی درست ہے۔ ایرانی رہنما کی یہ کوشش ایران کے صدر حسن روحانی کی کاوشوں کو آگے بڑھانے کے لئے کی گئی ہے، جب انہوں نے امریکی صدر کو یہی سمجھانے کی کوشش کی تھی اور اسی سلسلے کی کڑی ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی حالیہ ملاقاتیں ہیں۔ یہ اشارہ ہے کہ سوچ میں تبدیلی لانا ضروری ہے تاکہ اقدامات بھی درست ہوسکیں۔

شیخ نجف کا کہنا ہے کہ یہ نیا انداز تلخیوں کو کم کرنے اور ڈائیلاگ کو وسعت دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے کہ مغرب اور اسلام کے درمیان جتنے اختلافات ہیں یا اختلافات کی وجوہ ہیں، انہیں دور کرنے کی طرف پیش قدمی کی جاسکے، مغرب کی نئی نسل میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں جو منفی پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے، اس سے ان کی صحیح رہنمائی کی جاسکے کہ اسلام ہے کیا ؟ پیغام ہے کیا ؟ انتہاپسندی کے اقدامات سے ،جن سے سب سے زیادہ نقصان خود مسلمانوں کو ہوا ہے، سب سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے ہیں، سب سے زیادہ مسلمانوں کی عبادت گاہیں مقدس مقامات اور مزارات شہید کئے گئے ہیں ،اس کی طرف ان کی توجہ دلائی جائے کہ یہ اسلام کا اصل چہرہ نہیں ہے۔ بعض مبصرین اسے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی قرار دیتے ہیں، لیکن بہرحال یہ ایک کوشش ہے کہ مغرب میں ’’اسلام فوبیا ‘‘ کو دور کرنے ،اسلام کے قریب لانے اور اسے سمجھنے کی ایک کوشش ہے جو اس خط کے ذریعے کی گئی ہے۔

مغرب میں رہنے والے مسلمان اپنے رویوں، اپنے اخلاق، لین دین میں اصولوں کی پاسداری، جرائم اور نشے جیسی برائیوں سے دوررہ کر ضرورت کے وقت مدد مہیا کریں۔ اخلاقی مالی، مدد مغرب کی نئی نسل کو اس سوچ کو سمجھنے کی طرف مائل کرسکتی ہے۔ خاص طورپر پاکستان کے اردگرد پاکستان کے اندر جو ماحول پیدا ہورہا ہے یا پیداکیا جارہا ہے ، اس کے پیش نظر عام مسلمانوں کی عمومی اور پاکستانی مسلمانوں کی خصوصی کوشش ہونی چاہیے کہ پاکستان کا ایک خوبصورت چہرہ اہل مغرب کے سامنے پیش کریں تاکہ ان خطرات سے جو ہمارے اردگرد منڈلارہے ہیں ،ان سے وطن عزیز کو محفوظ رکھاجاسکے۔ مغرب کے ان ممالک کے قائدین نے جہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، ان واقعات کو اسلام کی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔ پیرس میں ہونے والے واقعہ کے بعد فرانس کے صدر نے جہاں واقعہ کی مذمت کی ،وہاں اسے اسلام کی تعلیمات کے منافی بھی قرار دیا ہے۔ 9/11کے بعد امریکی صدر جارج بش نے بھی اسے دہشت گردی کا واقعہ تو قرار دیا ،لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اسلام امن کا پیغام ہے ‘‘ 2005ء میں لندن میں انڈر گراؤنڈ ٹرین میں ہونے والے واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بھی اسلام کو امن کا پیغام قرار دیا تھا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھی دہشت گردی کو خلاف اسلام قرار دیا۔

یہ سوال اپنی جگہ بدستور برقرار رہے گا کہ آزادی رائے کے نام پر مسلمانوں کی دل آزاری کی اجازت کب تک دی جاتی رہے گی؟ اس وقت تک ردعمل کوروکنا بھی ناممکن ہے انفرادی ہو یا اجتماعی ، اگر دوسری جنگ عظیم میں ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے صحیح نہ ہونے یا مرنے والوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کردیا جاتا، لکھ دیا جاتا ہے، تو وہ تو جرم ہے ،لیکن مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ ہمیں ہرواقعہ کو اس کے اپنے تناظر میں دیکھنا ہوگا، پرکھنا ہوگا، رائے دینا ہوگی ، ردعمل ظاہر کرنا ہوگا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام میں ایسے گروہ بھی ہیں جن کے عسکری ونگ بھی ہیں اور وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے مسلک اور فرقے کو یا کسی کو بھی مسلمان نہیں مانتے اور واجب القتل قرار دیتے ہیں ، قتل کرتے ہیں اور وہ بھی ایسے وحشیانہ طریقے سے کہ انسانیت بھی شرمندہ ہوجاتی ہے اور وہ اسے اسلام سمجھتے ہیں۔ پشاور میں معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعہ میں دل دہلادینے والے حقائق سامنے آئے ۔حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بھی لگارہے تھے۔ داعش ،بوکوحرام، افغانستان اور پاکستان میں طالبان مثالیں ہیں، لیکن مغرب میں ہونے والے واقعات کی تشہیر اس لئے زیادہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کے سامنے اسلام کا مسخ زدہ چہرہ پیش کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ دہشت گردی اور درندگی کے واقعات کا شکار مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

مغرب کے رہنماؤں کے عمل اور بیانات میں تضاد دانشورانہ بددیانتی ہے۔ اگر وہ یہ قانون بنادیں کہ کسی بھی مذہب کے مقدس مقامات کی بے حرمتی ، مقدس ہستیوں کے بارے میں ان کی حیثیت کے منافی کوئی تصویر ، تحریر ، تقریر جرم ہے تو ایسے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں بزرگوں ، صحابہ کرام اور انبیاء کے مزارات شہید کئے جاتے ہیں اور شہید کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ اصل اسلام ہے،لہٰذا یہ مسلمان علماء کا فرض ہے کہ اگر فقہی فروعی اختلافات مکمل طورپر ختم نہیں ہوسکتے تو کم ازکم ایسا چارٹر ترتیب دیا جاسکتا ہے کہ ایسے اقدامات کی نشان دہی کرتے ہوئے انہیں حرام قرار دیا جائے جو اسلام کی روح اور پیغام کی نفی کرتے ہیں ،اسی لئے تقریباً مسلمانوں کی متفقہ رائے یہی ہے کہ دہشت گردی خلاف اسلام ہے، احادیث مبارکہ میں بار بار تاکید فرمائی گئی کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل ورسوا کرتاہے اور نہ اسے حقیر جانتا ہے ۔(1) مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ،مال اور عزت پامال کرنا حرام ہے۔( 2)کسی مسلمان پر ہتھیار اٹھانا یا ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی منع ہے ہوسکتا ہے شیطان وہ ہتھیار اس سے چلوادے اور اسے جہنم کا ایندھن بنادے۔ (3)جس مسلمان نے دوسرے مسلمان پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(4) جہاد میں کوئی غیرمسلم مسلمان کو زخمی کردے اور بعد میں اسلام قبول کرلے تو بھی اس سے بدلہ لینا یا اسے مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ (5) کسی مسلمان کو کافر کہنا بھی اسے قتل کرنے کے برابر ہے۔ دہشت گردی تو دور کی بات ہے ، ہمارے معاشرے میں تو بااثر غریبوں پر ظلم کرتے ہیں، مجبوروں سے ناانصافی کرتے ہیں، اپنے کلمہ گو بھائیوں کو ذلیل ورسوا کرتے ہیں، ان کی عزتوں سے کھیلتے ہیں ،پھر بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔

ان سارے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مغرب میں بھی ایک ذہن موجود ہے جو کہتا ہے، لکھتا ہے کہ ’’اسلام امن کا پیغام ہے ‘‘۔ کسی فرد یا گروہ کے غلط قدم اٹھانے سے اسلام پر الزام مت دو، عقلمندی بھی یہی ہے، ورنہ دنیا جہنم بن جائے گی ، کسی بھی ملک کے فرد یا افراد کا کچھ کہنا اور بات ہے ،لیکن قیادت کا ہر لفظ احتیاط اور ادب آداب کے دائرے کے اندر رہنا چاہئے ۔ یہاں پھر مَیں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے قائدین جلسوں میں ، پریس کانفرنسوں میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ یہ ہمارے قائدین ہیں، انہیں بھی احتیاط کرنی چاہئے ۔ بات مغرب کی ہورہی تھی، انہیں احساس ہونا چاہئے کہ اسلام کو موردالزام ٹھہرانے سے وہ مسلمان جو آج دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، اپنا ذہن تبدیل کرلیں لیکن انہیں بھی نہ صرف الزامات سے گریز کرنا ہوگا ،بلکہ جیسا پہلے عرض کیا گیاہے۔ ایسے قوانین بین الاقوامی سطح پر وضع کرنا ہوں گے ، نافذ کرنا ہوں گے۔ قابل سزا ہوں گے کہ کسی بھی مذہب کی مقدس ہستیوں ، کتابوں، عبادت گاہوں کی توہین نہ ہو۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اسلام کے خلاف جنگ نہ بنائیں۔۔۔نہ صرف قائدین ، سربراہان، بلکہ مغرب کے دانشوروں کی بھی ذمہ داری ہے۔ *

مزید : کالم