بلدیاتی انتخابات: کیا یہ بیل منڈھے چڑھے گی؟

بلدیاتی انتخابات: کیا یہ بیل منڈھے چڑھے گی؟
بلدیاتی انتخابات: کیا یہ بیل منڈھے چڑھے گی؟

  

نئے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی منظوری دے دی ہے اور صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مجوزہ شیڈول کے مطابق انتخابات کی حتمی تاریخوں کا اعلان کریں۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس بار یہ کھیل ختم ہو جائے گا اور بلدیاتی انتخابات ضرور ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے جو کیس چلتے رہے، ان میں مُلک کی سب سے بڑی عدالت نے یہ انتخابات کرانے کا کئی بار حکم دیا، تاریخیں بھی دی گئیں، مگر صوبوں نے نہ بات ماننی تھی نہ مانی۔ کبھی نئی حلقہ بندیوں کا عذر پیش کر کے، کبھی غلط حلقہ بندیوں کا شور مچا کر اور کبھی نئی مردم شماری کی افواہیں اُڑا کر ان انتخابات کو موخر کیا جاتا رہا۔ مستقل چیف الیکشن کمشنر نہ ہونے کی وجہ سے بھی صوبائی حکومتوں نے فائدہ اٹھایا اور انتخابات سے جان چھڑاتی رہیں۔ وفاقی حکومت نے بھی اس ضمن میں لیت و لعل سے کام لیا، سوائے بلوچستان کے کسی حکومت نے جمہوریت کے اس بنیادی ستون کو مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اُلٹا اس کے راستے میں روڑے اٹکائے جاتے رہے۔چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان کا یہ ایک بڑا کارنامہ ہو گا، اگر وہ کسی جمہوری دور میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔انہوں نے مئی میں خیبرپختونخوا اور نومبر میں صوبہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یقینِ واثق ہے کہ وہ اس اعلان پر عمل درآمد میں کامیاب رہیں گے، چونکہ اس سے پہلے خود الیکشن کمیشن بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مختلف تکنیکی وجوہات کی بنا پر عذر پیش کرتا رہا ہے۔

کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ موجودہ جمہوریت عوام کے دُکھوں کا مداوا نہیں کر سکی۔ اس کی سو خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ عوام کو جوابدہ نہیں۔ اب تو صورت حال کچھ زیادہ ہی گھمبیر ہو گئی ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان یہ کہہ کر اپنے حلقے کے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اُن کی بات ہی نہیں سنتے، انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتے، وہ عوام کے مسائل کیسے حل کریں؟ جب خاصی تگ و دو اور انتظار کے بعد انہیں ملاقات کا وقت ملتا ہو گا تو وہ اپنے ذاتی کام کراتے ہوں گے، حلقے کے عوام تو انہیں اس موقع پر یاد بھی نہیں رہتے۔ جب سارا نظام بیورو کریسی کے ذریعے چلایا جائے تو وہ عوام کے خوابوں کو تعبیر کیونکر دے سکتا ہے؟تحصیل سے ضلع تک براجمان افسران عوام کے حاکم بن کر رہتے ہیں، ان کے خادم ہر گز نہیں بن سکتے،کیونکہ وہ ان کے سامنے جوابدہ نہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں سرکاری افسر حاکم بن بیٹھے ہیں۔ آمریت کے دور کو عوام کیوں اچھا سمجھتے ہیں اور بیورو کریسی کیوں اسے بُرا گردانتی ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ آمروں نے اپنے اقتدار کو مضبوط اور قانونی بنانے کے لئے بنیادی جمہوریت کو ہمیشہ استعمال کیا۔ بلدیاتی انتخابات کرا کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر دیئے۔عوامی نمائندوں نے گلی محلے کا اقتدار سنبھال کر عوام کے مسائل حل کئے۔ وہ عوام کی دسترس میں بھی تھے اور انہیں جوابدہ بھی۔ آج تحصیل میونسپل افسر یا ڈی سی او کس قدر عوام کی دسترس میں ہیں، ان سے ملنے کے لئے عام آدمی کو ذلت کے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ شاید حکمرانوں کو بھی یہی نظام اچھا لگتا ہے۔ وہ براہ راست حکم چلاتے ہیں اور صوبے کے طول و عرض کا نظام اُن کے نوٹس لینے پر چل رہا ہوتا ہے۔

صوبوں میں جب سے 18ویں ترمیم کے بعد فنڈز کی فراوانی ہوئی ہے، یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے اندرا ان وسائل کو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے تقسیم نہیں کرتی، جیسا کہ پنجاب میں ہو رہا ہے۔لاہور حکومت کی پہلی ترجیح ہے،اپر پنجاب دوسری اور زیریں (جنوبی) پنجاب تیسری،حالانکہ جنوبی پنجاب کو اس کی آبادی کے لحاظ سے کم از کم نصف بجٹ ملنا چاہئے، چونکہ ضلعی افسران حاکم اعلیٰ کے سامنے بول نہیں سکتے، ارکان اسمبلی بھی اس کی چشم ابرو کے اشارے پر چلتے ہیں، اس لئے حق تلفی ہوتی چلی جاتی ہے، بلدیاتی ادارے ہوں تو ایسا نہیں ہو سکتا، انہیں اپنی آبادی کے لحاظ سے بجٹ بنانا پڑتا ہے۔ اس علاقے سے جتنا ریونیو اکٹھا ہوتا ہے، اس کی بھی انہیں خبر ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ صوبائی حکومت اور صوبے کی سطح پر براجمان بیورو کریسی یہ نہیں چاہتی کہ ان کے اختیارات تقسیم ہو جائیں۔ سیکرٹریٹ میں بیٹھا ہوا سیکرٹری راجن پور کے بارے میں بھی فیصلہ کرتا ہے اور لاہور کے بارے میں بھی۔ اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ راجن پور کے بارے میں سوچے، جبکہ لاہور میں کام کرکے وہ حاکم وقت کی نظروں میں بھی آ سکتا ہے اور مال بھی بنا سکتا ہے۔

معاشرے میں اَن گنت ایسے مسائل ہیں، اگر بلدیاتی ادارے ہوتے تو شاید ان کا نام و نشان نہ ہوتا، مثلاً صاف پانی کا مسئلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اب صوبائی سطح پر قائم حکومت کو کیا معلوم کہ کہاں کہاں لوگ جانوروں کے ساتھ پانی پینے پر مجبور ہیں؟ یہی حال تعلیم اور صحت کے منصوبوں کا بھی ہے، سارا زور بڑے شہروں پر دیا جاتا ہے اور وہاں بھی جو رکن اسمبلی چہیتا ہوتا ہے، وہ اپنے منصوبے منظور کرا لیتا ہے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کے حلقے نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔آج ایک ہی صوبے کے مختلف شہروں اور علاقوں میں ترقی و پسماندگی کے درمیان تفاوت دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس قدر امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پرویز مشرف دور میں بلدیاتی اداروں کی وجہ سے گلی محلے تک ترقی کے ثمرات پہنچے۔ یونین کونسل تک اختیارات پہنچنے کی وجہ سے فنڈز بھی ملے اور مسائل بھی حل ہوئے۔ اس کا بہت شور مچایا جاتا ہے کہ اس بلدیاتی نظام میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی۔۔۔ چلیں مان لیتے ہیں کرپشن ہوئی، لیکن کام بھی تو ہوئے، اب تو صرف کرپشن ہی ہوتی ہے، کام ایک بھی نہیں ہوتا۔ آج یہ کہانیاں زبان زد عام ہیں کہ ارکان اسمبلی ترقیاتی منصوبوں میں سے 30فیصد کمیشن لیتے ہیں، باقی ٹھیکیدار کھا جاتا ہے اور معیار صفر ہوتا ہے، کیونکہ اسے چیک کرنے والے تو پہلے ہی حصہ لے چکے ہوتے ہیں۔

آج کا ایک اور بڑا مسئلہ بدامنی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ انتظامیہ اور پولیس کا مادر پدر آزاد ہونا ہے۔ ان پر کوئی چیک نہیں اور بے لگام اختیارات کی وجہ سے وہ ہر طرح کا ظلم کر گزرتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی وجہ سے لوگوں کو کم از کم اس بات کا آسرا ہوتا ہے کہ ان کا نمائندہ ان کے پاس ہی بیٹھا ہے۔پولیس کوئی زیادتی کرتی ہے تو یہ نمائندہ آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکتا ہے یا کم از کم اس کے خلاف آواز ضرور بلند کرتا ہے۔ اب ایسی کوئی سہولت نہیں۔ صوبائی یا قومی اسمبلی کا رکن اپنے بڑے حلقے کی وجہ سے عوام کے مسائل پر توجہ ہی نہیں دے پاتا یا کسی فوری مسئلے کے ضمن میں حلقے کے عوام کی اس تک رسائی نہیں ہوتی۔ یوں ریاستی ادارے عوام پر جو چاہیں ظلم ڈھائیں، عوام اور اس کے درمیان کوئی ایسا بفر زون نہیں ہوتا جو انہیں اس ظلم سے بچا لے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ رہ رہ کر بلدیاتی نمائندوں کو یاد کرتے ہیں۔ انہیں آج کی جمہوریت آمریت سے بدترین اِسی لئے لگتی ہے کہ اس میں ان کی کوئی شنوائی ہی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف یہی ریاستی مشینری اس جدوجہد میں لگی ہوئی ہے کہ کسی طرح بلدیاتی اداروں کو معرضِ وجود میں نہ آنے دیا جائے۔ حیرت ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومتیں بھی اِسی مشینری کے جھانسے میں آتی ہیں اور انتخابات کا انعقاد نہیں ہونے دیتیں۔

مَیں کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے میں رہتا ہوں، جہاں اس دور میں بھی انتخابات نہیں کرائے جاتے، جب ملک میں بلدیاتی ادارے کام کررہے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ پرویز مشرف کے دور میں بھی کنٹونمنٹ کو بلدیاتی اداروں سے محروم رکھا گیا۔پچھلے دور حکومت میں سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ ملک بھر کی کنٹونمنٹس میں انتخابات کرا دیئے جائیں، اس سلسلے میں سیکرٹری دفاع کو بھی طلب کیا گیا تھا، جنہوں نے انتخابات کرانے پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی، مگر پھر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد کنٹونمنٹس میں رہتے ہیں، پہلے ان کے نمائندے منتخب ہوتے تھے، اب انہیں انتظامیہ منتخب کرتی ہے، جو زیادہ تر مفاد پرست اور کاسہ لیس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز ٹیکسوں میں اضافہ کرتے ہوئے بے رحمانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی عوام کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ امیدکی جانی چاہیے کہ چیف الیکشن کمشنر کنٹونمنٹس میں بھی انتخابات کا انعقاد کرائیں گے ، تاکہ وہاں رہنے والی سول آبادی کا احساس محرومی ختم ہو سکے۔ یہ امید بھی رکھی جائے کہ اس بار صوبائی حکومتیں انتخابات کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائیں گی اور طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوں گے؟ آنے والے چند ماہ میں اس حوالے سے سب کچھ سامنے آ جائے گا۔

مزید : کالم