ہسپتالوں کی ترقی معکوس

ہسپتالوں کی ترقی معکوس

خبر ہے کہ لاہور میں ٹیچنگ ہسپتالوں کے شعبہ نیورو سرجری اور امراضِ قلب غیر فعال ہو گئے، اس وجہ سے مریضوں کا سارا بوجھ جنرل ہسپتال اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل ہو گیا، جہاں کوئی بیڈ خالی نہیں رہا اور آنے والے مریضوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہمارے سٹاف رپورٹر کے مطابق ٹیچنگ ہسپتالوں میں نیورو سرجری اور امراضِ قلب سے متعلق مشینری خراب ہو چکی، جبکہ ان شعبوں کے لئے ڈاکٹر بھی متعین نہیں کئے گئے، اس لئے اگر کوئی مریض نیورو سرجری سے متعلق آئے، تو اسے فوراً جنرل ہسپتال بھجوا دیا جاتا ہے، اِسی طرح امراضِ قلب میں مبتلا مریض ایمرجنسی میں آئے، تو اُسے غیر متعلقہ ڈاکٹر دیکھتے اور بالآخر امراضِ قلب کے انسٹیٹیوٹ جانے کو کہہ دیتے ہیں۔یہ صورت حال بڑی تشویشناک ہے کہ آج کے پریشان کن دور میں بلند فشار خون (بلڈ پریشر) اور ذہنی امراض میں معتدبہ اضافہ ہو رہا ہے۔یہی کیفیت امراضِ قلب کی بھی ہے اور ایک طرف آبادی بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف ناقص ماحول اور خوراک کی وجہ سے امراضِ قلب کے مریض بھی تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لئے ہسپتال اور عملہ ناکافی ہو چکا۔لاہور یوں بھی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جہاں ضروریاتِ زندگی بھی پوری اور صحت مند میسر نہیں ہیں۔ یہاں ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ چہ جائیکہ پہلے سے موجود ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں کم ہوتی چلی جائیں۔یہ صوبائی حکومت کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پہلے سے موجود ہسپتالوں میں مشینری تبدیل ہو اور جدید آلات اور مشینری آتی جائے اور اس کے ساتھ ہی مزید جدید ہسپتال بنیں، لیکن اُلٹا کام یہ ہو رہا ہے کہ پہلے سے موجود سہولت ختم ہوتی جا رہی ہے، کسی کو کوئی غم اور فکر نہیں۔ وزیراعلیٰ کو ان امور کی تحقیق کرانا اور یہ خرابیاں فوری طور پر دور کرنا چاہئیں۔ آخر کار صحت کا بجٹ کہاں جاتا ہے؟

مزید : اداریہ