آمر کی بجائے’’مخلص‘‘ سیاست دان چاہئیں

آمر کی بجائے’’مخلص‘‘ سیاست دان چاہئیں

پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جمہوریت کی طرح آمر بھی جعلی ملے ،حقیقی آمر حکمران مل جاتا تو ملک بہت آگے چلا گیا ہوتا۔ عمران خان نے ہر سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا اعلان بھی کیا، انہوں نے تویہاں تک کہہ دیا کہ مقروض پاکستان مقبوضہ کشمیر کو آزادی نہیں دلواسکتا،وہ پاکستان کومضبوط کرکے کشمیرکی آزادی کے لئے جدوجہد کریں گے اورانشا اللہ کشمیرمکمل آزاد ہو گا۔انہوں نے جلد سونامی آزاد کشمیر لے جانے کا بھی اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب وہ بر سراقتدارآئیں گے توآزادکشمیرکوبااختیاربنائیں گے،کشمیرکے فیصلے کشمیر میں ہی ہوں گے، انہوں نے اگلے سال آزادکشمیر میں حکومت بنانے کی پیشگوئی بھی کر دی۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ کرپشن آزاد کشمیر میں ہیں، وہ پاکستان کی طرح وہاں بھی نیب کا خود مختار ادارہ بنائیں گے۔ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابی دھاندلی پر اِسی ماہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونے والا ہے،جوڈیشل کمیشن کے قیام تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے سانح�ۂ پشاور کی وجہ سے دھرنا منسوخ کیا تھا اسے ان کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔ اب انہوں نے دھرنادیاتونیا پاکستان بننے تک واپس نہیں جائیں گے ۔ دھرنے کے وقت لبرل ، دینی، قوم پرست، دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سب جماعتیں ہمارے خلاف اکٹھی ہوگئیں۔عمران خان نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب آزادی ہوتا ہے، ابھی تک معاشرہ آزاد نہیں ہوا۔ وہ مضبوط بلدیاتی نظام چاہتے ہیں،صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سندھ اور پنجاب کی وجہ سے ہوئی۔

دنیا میں مختلف نظام حکومت رائج ہیں اورہر ملک اپنی سہولت کے مطابق ان پر قائم ہے۔ بھارت میں مضبوط جمہوری نظام قائم ہے اور وہ بخوبی ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ چین نے جمہوری نظام کو قابل بھروسہ نہ سمجھا اور نظریاتی آمریت کے سہارے دنیا میں اپنا مقام بنایا۔ تائیوان، سنگاپور اور جنوبی کوریا نے 1960ء سے 1990ء تک آمریت کے سائے تلے ہی ترقی کی۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک میں اب تک بادشاہت قائم ہے اور وہاں دن دوگنی رات چوگنی ترقی بھی ہو رہی ہے۔ہر ملک کا حکومتی نظام اس کے اپنے مزاج کے پیش نظر ہی ہوتا ہے، جس طرح ترقی و خوشحالی کا کوئی بھی ماڈل ایک ملک میں کامیاب ہے تو ضروری نہیں کسی دوسری جگہ بھی وہ وہی کمالات دکھائے، اگر ایسا ہوتا تو دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی یافتہ ممالک اپنی خواہش کے مطابق ٹیکنالوجی کے بل پرتیسری دنیا کے ممالک کو ’ماڈرنائزیشن‘ کاسبق پڑھانے میں ضرور سرخرو ہوجاتے۔ عمران خان کے جذبات و احساسات اپنی جگہ، لیکن ہمارا ملک آمریت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے اپنی 67 سالہ زندگی میں متعدد بار آمریت کا سامنا کیا ہے، جمہوریت کو تو کبھی مستحکم ہونے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔وڈیروں، جاگیرداروں اور خفیہ اداروں نے ہمارے سیاسی نظام کو یرغمال بنائے رکھا۔پاکستان میں جنرل ایوب خان ایک ایسا آمر حکمران تھا جس کے دور حکومت میں پاکستان نے ترقی کی۔ اس زمانے میں ہماری جی ڈی پی 3فیصد سے بڑھ کر 6 فیصد ہو گئی، 1969ء میں بلا شبہ پاکستان کی برآمدات تھائی لینڈ، ملائشیا اور انڈونیشیا کی مجموعی درآمدات سے زیادہ تھیں، لیکن پھر ہمیں 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سِتم سہنا پڑگیا۔جنرل ضیاء الحق نے مدارس کانظام پروان چڑھایا تو پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان کے مسئلے نے سر اٹھا لیا۔آمریت سے ہمیں کوئی خاص آسودگی حاصل نہیں ہوئی،بلکہ ہر آمرانہ دور میں ملک ہمیشہ کئی قدم پیچھے ہی گیا۔

عمران خان کے ان خیالات کی ترجمانی تو آج کے بہت سے دانشور بھی کرتے نظر آتے ہیں، جو آمریت کی حمایت میں صفحے کالے کر رہے ہیں، ان کی خام خیالی ہے کہ کوئی آمر ہی پاکستان کے موجودہ حالات میں نجات دہندہ ثابت ہو سکتا ہے، یہ لوگ حالات کے خراب ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ کر فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دے رہے ہیں۔عمران خان نے عام انتخابات کے بعد سے دھاندلی کا شورتو مچایا ہوا ہے، ’تبدیلی‘ کا علم بھی وہ ہاتھ میں اٹھائے ہوئے اپنے نئے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اپنے ’نئے پاکستان‘ میں آمریت رائج کرنا ان کی خواہش ہو سکتی ہے، یہ ان کے مزاج سے کافی میل بھی کھاتی ہے، لیکن یہ ’پرانا پاکستان ‘اپنے ناتواں کندھوں پر اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ انہیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ آمریت کا دم بھرنا ہر گز عقلمندی نہیں ہے،بلکہ سیاسی جماعتوں کو توچاہئے کہ وہ اپنے آپ کو منظم کریں، اپنے فرائض دیانت داری کے ساتھ سر انجام دیں، جو لوگ اقتدار میں آ جائیں ان کو کام کرنے کا موقع دیں، آتے ہی ان کے جانے کا اہتمام کرنے کی کوشش نہ شروع کر دیں اوربر سر اقتدار جماعت کوبھی نیک نیتی کے ساتھ نظام کو فعال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہر ایک کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ دستور کی بالا دستی میں ہی ہمارے ملک کی سلامتی ہے،کوئی بھی کھیل ہار جیت کے فیصلے سے آزاد نہیں ہے،ہار جانے کی صورت میں اگلی دفعہ جیت کے لئے مزید محنت تو کی جا سکتی ہے، لیکن اپنی منشا کے مطابق ’متبادل‘ انتظام نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتی جمہوریت کو دھکا دے کر زمین بوس ہرگز نہیں کیا جا سکتا،آمریت کسی بھی صورت جمہوریت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ہمارے اہل سیاست کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ نظام کی کامیابی کا دارو مدار اس کی ڈور تھامنے والے کی نیت پر ہوتا ہے۔پاکستان میں نظام کی گرتی صحت کو سنبھالنا کسی ’آمر ڈاکٹر ‘کے بس میں نہیں ہے، اس کی مکمل شفا یابی کے لئے صرف ’مخلص ‘اور ’نیک نیت‘سیاست دان چاہئے۔

مزید : اداریہ