غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز کا خاتمہ نہ ہو سکا ،انتظامیہ اوور چارجنگ روکنے میں بھی ناکام

غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز کا خاتمہ نہ ہو سکا ،انتظامیہ اوور چارجنگ روکنے میں ...

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کو پارکنگ مافیا نے سٹینڈوں کی منڈی بنا دیا ہے جہاں اوور چارجنگ آخری حدیں پار کر گئی ہے اور ضلعی انتظامیہ اپنی ہی مقرر کردہ پارکنگ فیس کے شیڈول اور ریٹس پرعملدرآمد کرانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے پارکنگ سٹینڈ مافیا نے لاہور کو اپنی الگ ریاست میں تبدیل کر لیا ہے دوسری طرف اوور چارجنگ کی انتہا کر دی ہے 20روپے پارکنگ فیس کی بجائے50روپے سے 150روپے تک وصول کر رہے ہیں ۔اورمختلف سٹینڈوں پر گھنٹوں کے حساب سے پارکنگ فیس وصول کر کے شہریوں کی جیبیں صاف کر رہے ہیں۔اس مافیا سے ہسپتال اور پارکس اور دیگر تفریحی گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں ۔ہسپتالوں میں 30روپے فی گھنٹہ کار پارکنگ جبکہ20روپے گھنٹہ موٹر سائیکل فیس وصول کی جا رہی ہیں جبکہ ان سٹینڈوں پر گاڑیاں محفوظ ہیں اور نہ گاڑیاں کھڑی کرنیوالوں کی عزت ۔بتایا گیا ہے کہ شہر بھر میں کار پارکنگ سٹینڈوں پراوور چارجنگ آخری حدیں پار کرگئی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور لاہور پارکنگ کمپنی کی طرف سے گاڑی کی پارکنگ فیس 20روپے جبکہ موٹرسائیکل فیس 5سے دس فیس مقرر کی ہوئی ہے جس پر کسی ایک سٹینڈ پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔شہر میں مختلف مقامات پر پارکنگ فیس مختلف ہے اور علاقے کی ویلیوکے حساب سے فیس وصول کی جا رہی ہے۔مہنگے اور پوش علاقوں میں یہ فیس 50سے150روپے تک وصول کی جاتی ہے اور اس نئی کمائی کیلئے اس مافیا نے سروس روڈز اور مارکیٹوں کے سامنے جہاں پارکنگ سٹینڈ منظور نہیں ہیں وہاں بھی قبضے کر کے سٹینڈ بنا رکھے ہیں ان کے پاس ضلعی انتظامیہ کی رسیدموجود ہوتی ہے اور وہ من مانیا کر رہے ہیں۔اس حوالے سے اوور چارجنگ کرنیوالے مافیا کے خلاف ڈی سی او لاہور نے9 ٹاؤنوں کو ذمہ داری سونپی مگر وہ بھی اوور چارجنگ نہیں روک سکے بلکہ وہ بھی اس مافیا کے رنگ میں رنگ گئے ہیں جس کیخلاف شہر سراپا احتجاج ہیں ۔اس پر ڈی سی او لاہور کیپٹن عثمان کا کہنا ہے کہ اوور چارجنگ کرنیوالا مافیا کسی رعایت کا مستحق نہیں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور غیر قانونی اور اوورچارجنگ کرنیوالے سٹینڈوں کے ٹھیکے منسو خ کر کے ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1