بھٹہ خشت کی اغوا کی گئی بیٹی بازیابی کیلئے پولیس کو 30ہزار درکار

بھٹہ خشت کی اغوا کی گئی بیٹی بازیابی کیلئے پولیس کو 30ہزار درکار

 لاہور(کرائم سیل)باغبانپورہ ، 16روز قبل اغواء کی گئی پانچویں جماعت کی طالبہ کی بازیابی کی قیمت 30ہزار مقرر کر دی گئی،غریب والدین تھانہ میں درخواست جمع کروانے کے لیے ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے۔نمائندہ\" پاکستان\" سے گفتگو کرتے ہوئے مغویہ کے والد محمد اسلم اور والدہ نغمہ بی بی نے بتایا کہ وہ باغبانپورہ کے علاقہ نجم پارک شادی پورہ کے رہائشی ہیں ۔محمد اسلم علاقہ میں ایک بھٹہ پر مزدوری کرتا ہے جبکہ اس کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے روزی کماتی ہے ۔ان کے 3بچے ہیں جن میں سے سب سے بڑی 14سالہ رابعہ اسلم پانچویں جماعت کی طالبہ تھی۔20جنوری کو جب کہ والدین کام کرنے کے لیے گھر سے باہر گئے تھے ایک بھٹہ مزدور لیاقت جو کہ پاکپتن کا رہائشی بتایا جا تا ہے نے ان کے گھر میں گھس کر ان کی بیٹی کو اغواء کر لیا ۔جب وہ گھر میں آئے تو اہل محلہ سے پتہ چلا کہ لیاقت ان کی بیٹی کو ساتھ والی گلی میں میلاد کی محفل میں لے کر گیا ہے لیکن بعد ازاں تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ وہ اسے اغواء کر کے فرار ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے معززین کی مدد سے انہوں نے تھانہ باغبانپورہ میں اغواء کے حوالے سے درخواست دینے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے لیت ولعل سے کام لیتے ہوئے انہیں مختلف حیلے بہانے کر کے ٹرخاتے رہے ۔اور آج 16دن گزر جانے کے باوجود درخواست موصول نہیں کی گئی ہے مقدمہ درج کرنا تو بعد کی بات ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کے کارخاص افراد نے ان کی بیٹی کی بازیابی کے لیے ان سے مبینہ طور پر 30ہزار روپے کا مطالبہ کیا ہے کہ رقم دینے کے بعد وہ مقدمہ درج کر کے اور پاکپتن جا کر ان کی بیٹی کو بازیاب کروا دیں گے۔انہوں نے پولیس حکام سے اپیل کی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔اس حوالے سے تھانہ باغبانپورہ میں رابطہ کیا گیا تو موقع پر موجود محرر نے بتایا کہ محمد اسلم نامی کوئی شخص یہاں درخواست لے کر نہیں آ یا اگر آتا تو درخواست جمع کر کے کارروائی کی جاتی۔

مزید : علاقائی