تہمینہ درانی کا اپنی تلاش کا سفر۔۔۔کٹھن مرحلہ میں داخل

تہمینہ درانی کا اپنی تلاش کا سفر۔۔۔کٹھن مرحلہ میں داخل
تہمینہ درانی کا اپنی تلاش کا سفر۔۔۔کٹھن مرحلہ میں داخل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مَیں کئی بار سوچتا ہوں۔ کہ مَیں کون ہوں اور ہر بار جواب نہ ملنے پر کچھ اور سوچنے لگ جاتا ہوں۔ ہر باشعور انسان کو اپنی تلاش جاری رہتی ہے۔ اسی کو ضمیر کی آواز اور اپنی پہچان کی تلاش کہتے ہیں۔ اگر ہم سب اپنی تلاش میں لگ جائیں اور اپنے آپ کو جاننے کی جستجو تیز کریں تو مسائل بھی اتنی تیزی سے حل ہونگے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خود کو پہچان لینا ہی منزل ہے۔

تہمینہ درانی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے آرمی پبلک سکول کے شہداء کے ورثاء کے لئے ایک ہاؤسنگ کالونی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جہاں وہ ان شہداء کے ورثامیں مفت گھر تقسیم کرنا چاتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ سانح�ۂ پشاور میں شہید ہونے والے بچے اپنے والدین کامستقبل تھے۔اس لئے ان والدین کا مستقبل محفوظ کرنا اب معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔اس وقت جو بچے آرمی سکول میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے انہیں بغیر امتحان کے اگلی جماعتوں میں ترقی دینے کی بھی اپیل کی ہے کہ وہ بچے اس سانحہ کے بعد اب امتحان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں۔ باتیں دونوں اچھی ہیں۔ ان سے اختلاف ممکن نہیں۔

تہمینہ درانی سے میری کوئی جان پہچان نہیں ہے۔ مَیں ان سے کبھی نہیں ملاہوں۔ مَیں نے ان کو پڑھا ہے۔ سناہے۔ میرے خیال میں وہ کئی سال سے اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں۔ ان کی کتاب مائی فیوڈل لارڈ ان کا مجھ سے پہلاتعارف نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ میڈیا میں کسی نہ کسی حوالے سے موجود رہی ہیں اور مَیں ان کو جانتا رہا۔ مشہور کامیڈین لہری (مرحوم)نے ایک دفعہ ایک محفل میں بڑی سنجیدگی سے کہا کہ صدر وزیراعظم وزراء سب ان کے گھر تقریبا روز آتے ہیں۔ سامعین نے حیرانگی سے پوچھا روز۔ وہ کیسے۔ تو وہ کہنے لگے روزانہ ٹی وی خبرنامہ میں آتے ہیں۔ میری ان سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ اس لئے ہم اکثر نامورلوگوں کو ان کی خبروں کی وجہ سے ہی جانتے اور پہچانتے ہیں۔ میرے نزدیک ان کی کتاب مائی فیوڈل لارڈ کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں ہے۔یہ ایک گلی محلے کی کہانی ہے۔ معاشرہ کی عام کہانی ہے۔ درست بات تو یہی ہے کہ غلام مصطفی کھر کے نام کی وجہ سے یہ کتاب مشہور ہوئی ۔ کہ لوگ نامور لوگوں کے سکینڈلز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تہمینہ درانی کوئی پہلی خاتون نہیں تھیں جنہوں نے اپنی ذاتی زندگی پر کتاب لکھی۔ اس کی بھی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔

تہمینہ درانی نے اپنی کتاب مائی فیوڈل لارڈ بھی اپنی پہچان کی تلاش میں لکھی۔ اور شائد یہ کتاب لکھنے کے بعد بھی وہ اپنی پہچان کی تلاش میں آج تک بھٹک رہی ہیں۔ اپنی کتاب میں انہوں نے مصطفی کھر سے علیحدگی کے بعد ایک کھانے کی روداد لکھتے ہوئے لکھا کہ مصطفی کھر نے انہیں کہا تہمینہ درانی تمہاری اپنی کوئی شناخت نہیں ہے۔ لوگ تمہیں اب بھی میری سابقہ بیوی کے طور پر ہی پہچانیں گے۔ اور یہی تمہاری پہچان ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ یہ وہ لمحہ تھا، جب مَیں نے یہ کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا، یعنی یہ کتاب بھی انہوں نے اپنی پہچان کی منزل کی جدو جہد میں لکھی ہے۔ اِسی لئے اس کے اگلے شمارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس کتاب کے بارے میں سُن کر جب مصطفیٰ کھر کا انہیں فون آیا۔ تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہ کتاب لکھ کر کیا حاصل کرو گی۔ تو مَیں نے کہا کہ یاد کرو کہ تم نے مجھے کہا تھا کہ میری اپنی کوئی پہچان نہیں ہے۔ اس کتاب کے بعد لوگ تمہیں تہمینہ درانی کے سابقہ شوہر کے طور پر جانیں گے۔ یہی اس کتاب کا مقصد ہے۔ اس طرح یہ کتاب بھی پہچان کی تلاش میں ہی لکھی گئی تھی۔

اِسی لئے جب ایک ٹی وی انٹرویو میں ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ اپنے نام کے ساتھ شریف خاندان کا نام استعمال کیوں نہیں کرتیں ، تو انہوں نے کہا کہ میری اپنی ایک پہچان ہے۔ اور مَیں شریف خاندان کے حوالے سے اپنی پہچان نہیں چاہتی۔ اسی سے اندازہ ہوتا کہ اپنی پہچان کی تلاش میں تہمینہ درانی اتنا آگے جا چکی ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔

تہمینہ درانی نے حال ہی میں بڑے گھر چھوڑ کر چھوٹے گھر میں رہنے کا اعلان کیا اور دس مرلہ کے گھر میں شفٹ ہو گئی ہیں۔یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس دس مرلہ کے گھر کو بھی ایوان وزیراعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے۔ چلیں اسی بہانے سہی وزیراعلیٰ بھی چھوٹے گھر میں رہنے کے عادی ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ تہمینہ درانی بڑے گھر سے چھوٹے گھر میں شفٹ کیوں ہوئی ہیں۔ ان کے اس عمل سے ان کے شوہر کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ ابھی تک انہوں نے سیاست میں آنے کا کوئی اعلان بھی نہیں کیا ۔ جو ان کے اس اعلان کو کوئی شعبدہ بازی سمجھا جائے۔ یہ کہا جا سکتا ہے ۔ یا یہ انداذہ لگا یا جا سکتا ہے کہ تہمینہ درانی ابھی بھی کھوئی ہوئی ہیں اور شائد بڑے گھر میں وہ انہیں خود کو تلاش کرنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی، کیونکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ تہمینہ درانی نے چھوٹے گھرمیں شفٹ ہونے کے بعد بڑے گھروں کے خلاف کوئی مہم شروع کر دی ہے اور نہ ہی انہوں نے بڑے گھروں میں رہنے والوں سے ملنا چھوڑ دیا ہے، بلکہ ان کی تو بڑے گھروں میں رہنے والوں سے بہت زیادہ جان پہچان ہے۔

ہر وہ انسان جو اپنی تلاش کی جستجو کرتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ دنیا سے بے نیاز ہو تا جاتا ہے۔ تہمینہ درانی نے خود مانا ہے کہ کتاب لکھنے کے لئے انہیں رشتے ناطوں سے بے نیاز ہونا پڑا۔ اسی تلاش میں وہ ناموں سے بے نیاز ہو گئیں۔ بڑے گھروں سے بے نیاز ہو گئیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی گھر کی اہم رکن ہوتے ہوئے وہ سیاست سے بے نیاز ہو گئی ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ اپنی تلاش کا سفر کر رہی ہیں، لیکن اس سفر میں گو کہ انہوں نے ماضی میں قربانیاں دی ہیں، لیکن انہیں سمجھنا ہو گا کہ قربانیوں کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ وہ پنی تلاش میں جس قدر آگے چلتی جائیں گی۔ سفر اتنا کٹھن۔ قربانیاں اتنی بڑی ہوتی جائیں گی۔ شائد یہی تہمینہ درانی کی منزل ہے۔

مزید : کالم