وزیر اعظم آرمی چیف ملاقات ،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم آرمی چیف ملاقات ،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد( آن لائن ،مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این)وزیراعظم نوازشریف اورچیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں مزید تیزی لانے اور 23مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر فوجی پریڈ کی کامیابی کیلئے ضروری اقدامات کرنے پر اتفا ق کیا ہے۔جمعہ کو وزیر اعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی جس میں ملکی سکیور ٹی کی صورتحال اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ ترجمان وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق ملاقات میں قومی ایکشن پلان پرعملدرآمدکابھی جائزہ لیاگیا جبکہ آرمی چیف نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی کامیابیوں پر بریفنگ دی اس کے علاوہ آرمی چیف نے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے حالیہ دورہ چین اور چینی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا ۔ ملاقات میں آپریشن ضرب عضب پرتفصیلی غور کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تیزی لانے پر اتفاق کیا ۔ وزیر اعظم نے آری چیف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہرممکن وسائل کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ۔ وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔دہشتگردوں کو ملک کے کسی کونے میں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ ملاقات میں 23مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر فوجی پریڈ کے انعقاد پر بھی مشاورت کی گئی اور اس پریڈ کی کامیابی کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے پر اتفا ق کیا گیا۔

اسلام آباد( آن لائن ، آئی این پی ،خصوصی رپورٹ)وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ سانحہ شکار پور کے پس پردہ عناصر کا پتہ چلا لیا ہے ، ماسٹر مائنڈ کی کافی حد تک شناخت کر لی گئی ہے۔ سانحہ شکار پور کی تحقیقات کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے۔ اس واقعے میں ملوث لوگوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل جنگ میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قوم پشاور سانحہ کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ قومی لائحہ عمل پر قوم متفق ہے ، دہشتگر دوں سے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں ، معلومات کے تبادلے کے نظام میں بہتری آئی ہے۔

مزید : صفحہ اول