شریف برادارن کیخلاف نیب ریفرنسز دوبارہ کھولنے کا اقدام کالعدم

شریف برادارن کیخلاف نیب ریفرنسز دوبارہ کھولنے کا اقدام کالعدم

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے شریف برادران کے خلاف نیب ریفرنسزدوبارہ کھولنے کا اقدام کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریفرنس ایک مرتبہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ نہیں کھولے جاسکتے ۔یہ فیصلہ جسٹس سردارمحمد شمیم خان نے ریفری جج کے طور پروزیر اعظم میاں نواز شریف ،وزیراعلی ٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور شریف خاندان کے دیگر متعلقہ ارکان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سنایا ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مشرف دور میں 2فروری 2000کو شریف برادران کے خلاف کروڑوں روپے کی نادہندگی کے ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کئے گئے تھے جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ 1992میں شریف برادران نے مختلف بینکوں سے حدیبیہ پیپرمل اوراتفاق فاونڈری کے لئے 97 کروڑ روپے قرضہ لیا تھاجوواپس نہیں کیا گیا ۔میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی جبری جلا وطنی کے بعد یہ ریفرنس اس بنیاد پر ختم کردیئے گئے کہ 1998میں قرضوں کی واپسی کے لئے شریف برادران نے مذکورہ دو کمپنیوں کے اثاثے بینکوں کے سپرد کردیئے تھے ۔بعدازاں شریف برادران وطن واپس آئے تو انہیں ان ریفرنسز میں دوبارہ نوٹس جاری کردیئے گئے جنہیں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔اس درخواست کی مسٹرجسٹس خواجہ امتیاز احمداورمسٹرجسٹس فرح عرفان خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی تھی اور دونوں ججوں کے فیصلوں میں اختلاف رائے پایا گیا تھا ۔ایک جج کا موقف تھا کہ ریفرنس دوبارہ کھل سکتے ہیں جبکہ دوسرے جج کا موقف اس کے برعکس تھا ۔فاضل جج صاحبان کے فیصلوں میں تضاد کے باعث یہ معاملہ حتمی فیصلے کے لئے ریفری جج کے سپرد کیا گیا اور جسٹس سردار محمد شمیم خان نے بطور ریفری جج قرار دیا ہے کہ یہ ریفرنس دوبارہ نہیں کھولے جاسکتے ۔دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل اشتر اوصاف علی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ قرضوں کے عوض جو اثاثے متعلقہ بینکوں کے سپرد کئے گئے تھے ان کی مالیت 5ارب روپے کے قریب ہے اور قرضے کی تمام رقم سود سمیت ادا کی جاچکی ہے ۔

مزید : صفحہ اول