جنرل (ر) پرویز مشرف، سرگرم عمل، پیپلزپارٹی پر وار کی تیاری!

جنرل (ر) پرویز مشرف، سرگرم عمل، پیپلزپارٹی پر وار کی تیاری!
جنرل (ر) پرویز مشرف، سرگرم عمل، پیپلزپارٹی پر وار کی تیاری!

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

عرض کیا تھا کہ تمام تر سیاسی بحران کا منبع ایک ہی ہے اور سارے تانے بانے وہیں جا کر ملتے ہیں۔ یہ بھی گزارش کی تھی کہ حکومت مخالف وسیع تر محاذ بنانے کی کوشس کی جائے گی جو ’’بھوت‘‘ کے ہم خیال حضرات اور جماعتوں پر مشتمل ہوگا۔دوسرے شرکت نہیں کریں گے پھر یہ بھی بتایا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کھل کر جمہوریت کے نام پر وزیراعظم کی حمائت کر رہی ہے اس لئے پیپلزپارٹی کو نشانہ بنا کر کمزور کرنے کی حکمت عملی طے کر لی گئی اور جلد ہی یہ کام شروع ہو جائے گا۔

کسی کو شک یا شبہ تھا تو اب یقیناًدور ہو جانا چاہیے کہ کراچی میں جو ہو رہا ہے وہ سب اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، اب تو واضح طور پر مسلم لیگ (فنکشنل) اور متحدہ قومی موومنٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ تعلقات اور دوستی کو ظاہر کرکے باقاعدہ کھلی محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔ متحدہ جو سابقہ اور موجودہ دور میں پیپلزپارٹی کی حلیف رہی ہے اب سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد بنانے کے لئے تگ و دو کررہی ہے۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے صدر پیر صبغت اللہ راشدی (پیر پگارو ہشتم) اور جنرل (ر) پرویز مشرف مجوزہ مسلم لیگ اتحاد کے مشترکہ سربراہ بن گئے۔ متحدہ کے خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ ہم نے عرض کر دیا تھا کہ تحریک انصاف، شیخ رشید، پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ رابطے میں ہیں، جونہی آرٹیکل 6والا کیس ملتوی ہوا جنرل (ر) کھلے بندوں حرکت میں آ گئے اب وہ کسی طور بھی بیمار نہیں ہیں۔ اب ہدف یہی ہے کہ پیپلزپارٹی کو کمزور کر دیا جائے تو وفاقی حکومت کی حالت بھی خراب ہو گی۔ عمران خان ایسی ہی قسم کی حکمت عملی کے تحت حکومت جانے کی بات کرتے ہیں، حتیٰ کہ تاحال استعفے واپس نہیں لئے گئے۔

ان حالات میں حکمران جماعت کے قریب تر صحافی(رپورٹر) نے وزیر داخلہ کے ساتھ ایم کیو ایم کے وفد کی طویل ملاقات کو موضوع بنا کر پیپلزپارٹی کے لئے لمحہ فکریہ قرار دے دیا ہے، چودھری نثار علی خان پیپلزپارٹی کے ساتھ کبھی بھی سہولت سے نہیں رہے ان کی محاذ آرائی بدستور ہے، یوں رپورٹر نے سازشی تھیوری تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس حوالے سے پیپلزپارٹی والوں نے براہ راست کوئی بات نہیں کی نہ کسی نے سوال کیا ہے لیکن شرجیل میمن کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی بھی رابطے کررہی ہے اور سینٹ کے لئے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے، اگر یہ سچ ہے تو پھر ناراض عناصر کون ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ کیا پیپلزپارٹی والے خطرہ بھانپ کر متحد ہو رہے ہیں۔ یوں بھی دیہی سیاست ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے کہ خطرے کے وقت اختلاف بھلا دو، بعد میں پھر ٹرن لینا، اگر ایسا ہی ہوا تو پیپلزپارٹی اپنا وجود اور نشستیں بھی بچالے گی۔ سینٹ کے انتخابات کے بعد فرصت ہو گی تو پہلے ان امور پر توجہ دی جائے گی۔ ویسے آصف علی زرداری چوکنے ہیں اور اب بھی مفاہمت ہی کی سیاست کرتے ہیں، سینٹ کے انتخابات تک یہ حالت برقرار رہے گی۔ عمران خان بھی اپنے موقف پر اصرار کرتے رہیں گے۔

مزید : تجزیہ