ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کے ارکان کی تعیناتی اور داخلہ پالیسی کیخلاف درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت

ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کے ارکان کی تعیناتی اور داخلہ پالیسی کیخلاف ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کے ارکان کی تعیناتی اور داخلہ پالیسی کے خلاف درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکومت اور درخواست گزاروں کے وکلاء کو 23فروری کو حتمی بحث کے لئے طلب کر لیا،مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے فصیح الدین سمیت دیگر شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزاروں کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے منظور نظر افراد کو نوازنے کیلئے انہیں ایچی سن کالج کا بورڈ آف گورنر تعینات کر دیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایما پر داخلہ پالیسی بھی تبدیل کی گئی ہے جو خودمختار ادارے کے معاملات میں مداخلت کے متراد ف ہے لہذایچی سن کالج میں سیاسی بنیادوں پر تعینات کئے گئے بورڈآف گورنرز کی تعیناتی اور داخلہ پالیسی کو کالعدم قرار دیا جائے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انوار حسین نے محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی اور داخلہ پالیسی سے محکمہ ہائر ایجوکیشن کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی محکمے کا کوئی دوسرا انتظامی کردار ہے، انوار حسین نے مزید بتایا کہ ایچی سن کالج میں محکمے کا کردار صرف مشیر کی حدتک ہے، عدالت نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے پنجاب حکومت، ایچی سن کالج اور درخواست گزاروں کے وکلاء کو 23فروری کو حتمی بحث کے لئے طلب کر لیا، عدالت نے بورڈ آف گورنرز اور داخلہ پالیسی کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت کر دی ۔

مزید : صفحہ آخر