سعودی عرب کیساتھ تعلقات میں امریکی اثر ورسوخ حائل ہے، آیت اللّٰہ محمد حسن اختری

سعودی عرب کیساتھ تعلقات میں امریکی اثر ورسوخ حائل ہے، آیت اللّٰہ محمد حسن ...

لاہور(نمائندہ خصوصی) ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کے نمائندہ خاص آیت اللہ محمد حسن اختری نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات میں امریکی اثر ورسوخ حائل ہے۔ یہ بات انہوں نے بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ناشتے کے موقع پر جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا زبیر احمد ظہیر کے سوال کے جواب میں کہی۔ جس میں وفاق المدارس شیعہ کے نائب صدر علامہ نیاز حسین نقوی، ڈاکٹر محمد نجفی ،مولانا عبدالمالک، پیر محفوظ مشہدی، مولانا محمد خان لغاری، مفتی عاشق بخاری،مولانا عتیق الرحمان ناصر،مولانا حسین احمد اعوان، ایرانی قونصل جنرل محمد حسین بنی اسدی اور دیگر نے شرکت کی۔ آیت اللہ محمد حسن اختری نے کہا کہ وہ حج کے موقع پر مدینہ یونیورسٹی کے علما سے ملتے رہتے ہیں تاکہ باہمی روابط مضبوط ہوں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امام خمینی نے فتویٰ دیا تھا کہ ایرانی حجاج سعودی آئمہ کی اقتدا میں نماز ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت منتظر ہے کہ سعودی عرب کی سیاست میں بہتری آئے۔ حسن اختری نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم نے علما کو اپنا خلیفہ اور دین کا قلعہ قراردیا ہے۔علما کو چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی توہین اور تکفیریت کی بدعت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں اختلافات سازش کے تحت پیدا کئے جارہے ہیں۔پاکستان میں مختلف مسالک کے درمیان اتحاد قابل تعریف ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ حسن اختری نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں پر اسلامی سربراہی کانفرنس کے موثر کردارکے لئے علما اور عوام کو دباو بڑھانا چاہیے۔ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیاجائے۔ علا مہ نیاز نقوی نے کہا کہ پاکستان میں تمام مسالک کے مدارس کے وفاق کے درمیا ن اتحاد کے لئے تنظیم قائم ہے۔جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ امام خمینی نے حقیقی معنوں میں اسلامی انقلاب پیدا کیا ہے۔ وہ اللہ، رسول اور قرآن کی طرف دعوت دینے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات درست کروانے میں تعاون کریں گے ۔ مفتی عاشق حسین بخاری کا کہنا تھاکہ سعودی عرب اہل حدیث ، پاکستان اہل سنت اور ایران اہل تشیع کے مراکز ہیں۔ تینوں ممالک کو امت کی سربلندی کے لئے اتحاد کرنا چاہیے۔ مولانا محمد خان لغاری نے تجویز دی کہ تمام مسالک کے علوم دینیہ پڑھانے والی المصطفیٰ یونیورسٹی کا پاکستان میں بھی کیمپس کھولا جائے۔

مزید : صفحہ آخر