دہشتگردی کا ذمہ دار صرف مسجدو مدرسہ کو قرار دینا درست نہیں،حافظ طاہر اشرفی

دہشتگردی کا ذمہ دار صرف مسجدو مدرسہ کو قرار دینا درست نہیں،حافظ طاہر اشرفی

 لاہور( نمائندہ خصوصی)دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف مساجد اور مدارس اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا ذمہ دار صرف مسجد اور مدرسہ کو قرار دینا درست نہ ہو گا۔ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔8 فروری کو کراچی میں ’’پیام امن کنونشن‘‘ فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ اور مؤثر لائحہ عمل طے کرے گا۔ یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے وفاق المساجد پاکستان کے تحت ہونے والے آئمہ مساجد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل کی قیادت نے آئمہ اور خطبا سے مؤثر رابطے کے لیے وفاق المساجد پاکستان کوقائم کیا ہے تا کہ ملک کے اندر آئمہ اور خطبا کے مسائل کے حل اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق عوام الناس کی رہنمائی کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق المساجد پاکستان سے اب تک 74500 مساجد متصل ہو چکی ہیں اور چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں وفاق المساجد سے متصل کسی ایک مسجد سے بھی حکومت کو کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال پر پابندی علماء کا مطالبہ تھا اور اب بھی ملک کی مذہبی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال کے قانون پر بلا تفریق عمل کروایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دل آزار اور توہین آمیز لٹریچر اور انتہاء پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ابھارنے والی تقریروں اور تحریروں پر پابندی سے فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے میں بھر پور مدد ملے گی ۔ حکومت کے ذمہ داران نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مدارس کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا اور مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات کو بھی بہتر انداز میں حل کر لیا جائے گا۔ اجلاس میں مولانا ایوب صفدر ، مولانا شفیع قاسمی ، مولانا انوار الحق ، مولانا انوار بلوچ ، مولانا مفتی محمد عمر ، مولانا محمد امجد معاویہ ، مولانا حافظ محمد امجد ، مولانا اعظم فاروق ، مولانا عبد الحمید صابری ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا عبد القیوم ، مولانا محمد اسلم اور دیگر علماء موجود تھے۔

مزید : صفحہ آخر