آئینی طور پر سینٹ کو برطرف کیا جاسکتا ہے نہ اسمبلیوں کی طرح توڑا جا سکتا ہے

آئینی طور پر سینٹ کو برطرف کیا جاسکتا ہے نہ اسمبلیوں کی طرح توڑا جا سکتا ہے

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سینٹ، پاکستان کا انوکھا ادارہ ، انوکھا الیکشن ۔آئینی طورپر سینٹ کوبرطر ف کیا جاسکتا ہے۔ نہ ہی اسے اسمبلیوں کی طرح توڑا جاسکتا ہے۔سینٹ الیکشن میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اراکین اسمبلی کوووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔دیگر صوبوں کے برعکس فاٹا میں علماء و ٹیکنو کریٹس ، خواتین اور غیر مسلموں کو مخصوص نشستوں پر نمائندگی نہیں دی گئی۔وفاقی دارالحکومت میں غیر مسلموں کو مخصوص نشست پر نمائندگی نہیں دی گئی۔2003میں منتخب ہونے والے ایک سو میں سے 50سینٹروں کو قرعہ اندازی کے ذریعے 6کی بجائے 3سال کا وقت دیاگیا۔2010میں چنے جانے والے 4غیر مسلموں میں سے بھی 2کو قرعہ اندازی کے تحت ہی 3سال کے لیے عہدہ دیا گیا۔تین مارچ 2015کو پاکستان کے ایوان بالا کا الیکشن ہورہا ہے۔ جس میں مجموعی طورپر 104میں سے 52نئے ارکان چنے جائینگے۔اس سلسلے میں قومی اسمبلی کے علاوہ ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے خفیہ بیلٹنگ کے تحت نئے سینٹرز منتخب کرینگے۔سینٹ ایسا ادارہ ہے۔ جسے قومی وصوبائی اسمبلیوں کی طرح برطرف کیا جاسکتا ہے۔ نہ ہی توڑا جاسکتا ہے۔سینٹ الیکشن میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اراکین اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے۔چاروں صوبوں میں جنرل نشستوں کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر علماء و ٹیکنو کریٹس کی چار ، چار نشستیں ، خواتین کی مخصوص سیٹوں پر چار ، چار نشستیں اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص ایک ایک نشست رکھی گئی ہے۔لیکن فاٹا میں علماء ٹیکنو کریٹس ،خواتین اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں نہیں رکھی گئیں۔ البتہ وفاقی دار الحکومت میں علما وٹیکنو کریٹ اور خواتین کی ایک ایک مخصوص نشست رکھی گئی لیکن غیر مسلموں کی مخصوص نشست وفاقی دارالحکومت میں بھی نہیں رکھی گئی۔12اکتوبر 1999کے ٹیک اوور کے بعد ملک میں سینٹ کو بھی برطرف کردیا گیا۔ اور اکتوبر 2002میں معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی نے سینٹ کے ایک سو ممبران کاعرصہ 6سال کے لیے چناؤ کیا تو یہ مسئلہ درپیش آیا کہ پہلی تین سالہ مدت ختم ہونے پر کونسے 50اراکین سینٹ اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہوجائینگے۔ایسے میں قرعہ اندازی کی گئی۔اور یوں سینٹ کے 50اراکین 6کی بجائے 3سال بعد ریٹائرڈ ہوگئے۔ اسی طرح 18ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک کے چاروں صوبوں میں غیر مسلموں کے لیے سینٹ کی ایک ایک نشست مخصوص کی گئی اور ان مخصوص نشستوں پر چار وں صوبوں سے ایک ایک غیر مسلم سینٹر منتخب کرلیا گیا تو پہلی تین سالہ مدت ختم ہونے پر ریٹائرڈ ہونے والے دو غیر مسلم سینٹروں کے چناؤ کے لیے ایک بار پھر سے قرعہ اندازی کی گئی۔جس میں بلوچستان اور کے پی کے کے غیر مسلم سینٹروں کے نام قرعہ نکلا۔ یوں پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے اورمخصوص نشستوں پر سینٹر بننے والے پارلمنیٹیرینز 6برس تک عہدے پر براجمان رہینگے۔ جبکہ بلوچستان اور کے پی کے کے غیر مسلم سینٹر نئے سرے سے چنے جائینگے۔

سینٹ

مزید : صفحہ آخر