گررنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر کیا جا سکتا ہے؟ ہائیکورٹ کا وفاق سے جواب طلب

گررنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر کیا جا سکتا ہے؟ ہائیکورٹ کا ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے کہ گورنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر کیوں کر کیا جاسکتا ہے ؟ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کو قائم مقام گورنر پنجاب مقرر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قائم مقام گورنر کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی طلب کرلیا ہے ۔عدالت نے یہ احکامات جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سے دائر درخواست کی مزید سماعت 9فروری تک ملتوی کرتے ہوئے جاری کئے ہیں ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ رانا محمد اقبال کا قائم مقام گورنر پنجاب کے طور پرتقرر آئین کے منافی ہے ،گورنر کا عہدہ خالی ہو تو قائم مقام گورنر کا تقرر نہیں کیا جاسکتا ،درخواست میں مختلف آئینی نکات اٹھائے گئے ہیں کہ 1973کے آئین کے تحت قائم مقام گورنر کا تقرر صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب گورنر ملک میں موجود نہ ہو یا کسی دیگر سبب سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو ۔آئین کے آرٹیکل 104میں واضح کیا گیا ہے کہ جب گورنر ملک سے عدم موجودگی کی وجہ سے یا کسی دیگر سبب (بیماری وغیرہ) سے اپنے کار ہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو تو صوبائی اسمبلی کا سپیکر قائم مقام گورنر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائے گا۔اگر سپیکر صوبائی اسمبلی بھی موجود نہ ہو تو صدر کسی بھی شخص کو قائم مقام گورنر مقرر کرسکتے ہیں ۔اس آرٹیکل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قائم مقام گورنر اس وقت تک یہ ذمہ داریاں نبھائے گا جب تک گورنر پاکستان میں واپس آکر یا جیسی بھی صورت ہو ،اپنے کارہائے منصبی کو دوبارہ شروع نہیں کردیتا۔اس آرٹیکل سے قائم مقام گورنر کے عہدہ کی آئینی حیثیت کا تعین ہوتا ہے کہ قائم مقام گورنر الگ سے کوئی عہدہ نہیں ہے بلکہ یہ عہدہ گورنر کے تقرر کے تابع ہے ۔گورنر کا تقرر ہو جانے کے بعد ہی قائم مقام گورنر کا عہدہ قائم ہوسکتا ہے ۔علاوہ ازیں صوبے کاتمام انتظام و انصرام گورنر کے نام پر چلایا جاتا ہے اور آئینی طور پر گورنر کا عہدہ خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ رانا اقبال کی بطور قائم مقام گورنر پنجاب تعیناتی غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کی جائے ۔

مزید : صفحہ آخر