انسانی فضلے کے ذریعے بیماری کا علاج کروانے والی خاتون نئی مشکل میں پھنس گئی

انسانی فضلے کے ذریعے بیماری کا علاج کروانے والی خاتون نئی مشکل میں پھنس گئی
انسانی فضلے کے ذریعے بیماری کا علاج کروانے والی خاتون نئی مشکل میں پھنس گئی

  

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) آنتوں کے خطرناک انفیکشن C. Difficileکے علاج کے لئے آج کل ایک نئی تکنیک FMTاستعمال کی جارہی ہے جس میں مریض کی آنتوں میں کسی صحتمند شخص کے فضلے کا نمونہ داخل کیا جاتا ہے لیکن ایک 32 سالہ خاتون کو یہ طریقہ علاج صحت کی بجائے موٹاپے کی بیماری دے گیا۔ یہ خاتون آج سے تین سال قبل بیماری کا شکار ہوئیں تو ان کی بیٹی سے لیا گیا نمونہ FMT طریقہ علاج کے مطابق ان کے جسم میں داخل کیا گیا۔

مزیدپڑھیں:مائیکرو سافٹ ورڈ میں Autocorrectکا استعمال انتہائی خطرناک غلطیوں کو جنم دے سکتا ہے

جب انہوں نے علاج کروایا تو ان کا وزن 60کلو گرام تھا اور وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی موٹاپے کا شکار نہیں رہی تھیں لیکن آج ان کا وزن 80 کلو گوام ہوچکا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس موٹاپے کی واحد وجہ ان کی بیٹی کا موٹاپا ہے۔ خاتون کی نوعمر بیٹی موٹاپے کا شکار تھی اور اس سے لئے گئے نمونے کی وجہ سے خاتون پر بھی موٹاپے کا حملہ ہوگیا۔ اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کے بارے میں نئے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں اور کم از کم یہ دیکھنا ضروری ہوگیا ہے کہ جن اشخاص سے نمونہ لیا جاتا ہے کیا ان کی تمام بیماریاں مریض میں تو منتقل نہیں ہورہیں۔ اس سلسلہ میں کی گئی تفصیلی تحقیق سائنسی جریدے ”اوپن فورم انفیکشس ڈیزیزز“ میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس