بجلی کی قیمتیں، وزارت خزانہ کے دباﺅ پر نیپرا خاموش، عوام 21 ارب روپے کے ریلیف سے محروم

بجلی کی قیمتیں، وزارت خزانہ کے دباﺅ پر نیپرا خاموش، عوام 21 ارب روپے کے ریلیف ...
بجلی کی قیمتیں، وزارت خزانہ کے دباﺅ پر نیپرا خاموش، عوام 21 ارب روپے کے ریلیف سے محروم

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دسمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت 3.21 روپے سستی کرنے کے معاملے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے اور انکشاف ہوا ہے کہ وزارت خزانہ نے خلاف قانون نیپرا کو بجلی سستی کرنے سے روکا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے دباﺅ ڈال کر نیپرا کو بجلی سستی کرنے سے روک کر عوام کو فروری میں 21 ارب روپے کے ریلیف سے محروم کر دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر ریونیو خسارہ پورا کرنے کیلئے تاخیری حربے استعمال کر کے عوام کو ریلیف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق 10 جنوری کو دائر کی جانے والی درخواست 26 جنوری کو نیپرا میں دائر کروائی گئی اور موقف اختیار کیا گیا کہ اتھارٹی مصروف تھی تاہم نیپرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سی پی پی اے درخواست پر جلد سماعت کی جائے گی۔ دوسری جانب فروری میں جاری ہونے والے بجلی کے بلوں کی پرنٹنگ مکمل کر لی گئی ہے اور عوام 21 ارب روپے کے ریلیف سے محروم ہو گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق وزارت خزانہ نے خلاف قانون نیپرا کو بجلی سستی کرنے سے روکا جبکہ نیپرا نے بھی وزارت خزانہ کے دباﺅ پر خاموشی اختیار کر لی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل آئی ایم ایف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان دبئی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے گیس کی قیمتوں میں بھی فوری طور پر اضافے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اسحاق ڈار نے موقف اختیار کیا کہ ابھی ماحول سازگار نہیں ہے، موقع ملتے ہی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح حکومت ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر رہی ہے تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح کو 27 فیصد تک بڑھا کر عوام کو بڑے ریلیف سے محروم رکھا گیا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں