گورنر ہاﺅس محض عمارت نہیں وہاں مفاد عامہ کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے ،لاہور ہائی کورٹ میں جواب داخل

گورنر ہاﺅس محض عمارت نہیں وہاں مفاد عامہ کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے ،لاہور ہائی ...
گورنر ہاﺅس محض عمارت نہیں وہاں مفاد عامہ کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے ،لاہور ہائی کورٹ میں جواب داخل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (نامہ نگار خصوصی) گورنر ہاﺅس کو مسمار کرکے فروخت کرنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ دائر درخواست پر گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کی طرف سے جواب داخل کردیا گیا ،جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر ہاﺅس کو مسمار کر کے نئے گورنر ہاﺅس کی دوبارہ تعمیر پر اربوں روپے کی لاگت آئے گی، گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب گورنر ہاﺅس ایک تاریخی عمارت اور تاریخی ورثہ ہے یہ تاثر غلط ہے کہ گورنر ہاﺅس مفاد عامہ کے لئے استعمال نہیں ہوتا ، گورنر ہاﺅس میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائی سکولز کام کر رہے ہیں جس میں 1800 طلباءو طالبات زیر تعلیم ہیں، جواب میں مزید بتایا گیا ہے کہ گورنر ہاﺅس میں مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں فنی تربیت کے کورسز بھی کروائے جاتے ہیں، گریڈ ایک سے پانچ تک کے ملازمین کی رہائش کے لئے 176 گھر بنائے گئے ہیں، رہائشیوں کے لئے میڈیکل سنٹر، کمیونٹی سنٹر، لائبریری، یوٹیلیٹی سٹورز، جم، پوسٹ آفس اور کھیل کے گراﺅنڈ بھی موجود ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں پرنسپل سیکرٹری کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر ہاﺅس کو عجائب گھر اور پانچ مرلے ہاﺅسنگ سکیم میں تبدیل کرنا مفاد عامہ میں نہیں ہے.
اگر گورنر ہاﺅس کو 5 مرلہ پلاٹس میں تبدیل کر بھی دیا جائے تو یہ پلاٹس انتہائی مہنگے ہوں گے اور اگر گورنر ہاﺅس کو تبدیل کیا جاتا ہے تو نیا گورنر ہاﺅس بنانے پر اربوں روپے خرچ ہوں گے، جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گورنر ہاﺅس میں ضرورت سے زیادہ اخراجات کرنے کا الزام بھی بے بنیاد ہے جبکہ گورنر ہاﺅس کا 70 فیصد بجٹ ملازمین کی تنخواہوں اور الاﺅنسز پر خرچ کیا جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ سالانہ آڈٹ بھی کیا جاتا ہے، جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ گورنر ہاﺅس کو فروخت کرنے کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائے، لاہور ہائیکورٹ میں گورنر ہاﺅس کو فروخت کرنے کی درخواست بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں گورنر ہاﺅس کو فروخت کر کے رقم ملک کے قرضے اتارنے اور دیگر مفاد عامہ کے لئے استعمال کرنے کی استدعا کی گئی ہے، مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا 9 فروری کو اس کیس کی مزید سماعت کریں گے۔

مزید : لاہور