مرچوں کے شوقین مردوں کے بارے میں سائنسدانوں نے انتہائی متنازع دعویٰ کر دیا

مرچوں کے شوقین مردوں کے بارے میں سائنسدانوں نے انتہائی متنازع دعویٰ کر دیا
مرچوں کے شوقین مردوں کے بارے میں سائنسدانوں نے انتہائی متنازع دعویٰ کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاس اینجلس (نیوز ڈیسک) تیز مرچ مصالحوں کا شوق بظاہر تو عورتوں اور مردوں میں یکساں نظر آتا ہے لیکن ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ تیز مرچیں کھانے والے مردوں اور خواتین کے عزائم ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

ایک ہزار سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا

پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی کی سائنسی تحقیق میں معلوم کیا گیا ہے کہ خواتین تیز مرچیں اس لئے پسند کرتی ہیں کہ انہیں ان کا ذائقہ اچھا لگتا ہے اور وہ اپنے منہ میں جلن کے احساس کو پسند کرتی ہیں جبکہ اس کے برعکس تیز مرچیں پسند کرنے والے مردوں کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ یہ مرد عموماً تیز مرچیں کھا کر اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور صنف مخالف پر اپنی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ نادیہ بائرنیز کہتی ہیں کہ اس تحقیق کے لئے تیز مرچیں کھانے والے مردوں اور خواتین کے رویے پر ایک نفسیاتی تحقیق کی گئی تھی جس میں معلوم ہوا کہ مرچ مصالحوں کے ساتھ زیادہ شغف رکھنے والے مرد رویے کے لحاظ سے ایسے افراد ہیں کہ جو کوئی بھی کام کرنے میں اس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ اس کا صنف مخالف پر کیا اثر ہوگا اور اس کی نظر میں ان کی کتنی اہمیت پیدا ہوگی جبکہ اس کے برعکس نارمل یا کم مرچیں کھانے والے مردوں میں یہ رویہ نسبتاً بہت کم نظر آیا۔

اس سے پہلے فرانس کی یونیورسٹی آف گرینوبل اپنی ایک تحقیق میں یہ کہہ چکی ہے کہ تیز مرچ مصالحے کھانے والے مردوں میں مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹیرون نسبتاً زیادہ پایا گیا ہے البتہ یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ مرد زیادہ ٹیسٹاسٹیرون کی وجہ سے زیادہ مرچ مصالحے کھاتے ہیں یا زیادہ مصالحے دار غذائیں ٹیسٹاسٹیرون میں اضافےکا باعث بنتی ہیں۔

 پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ٹیسٹاسٹیرون ہارمون اور مرچ مصالحوں کا تعلق بھی ایک ایسی وجہ ہوتی ہے جس کے باعث مرد ضرورت سے زیادہ مرچیلی چیزیں کھانے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس