بالوں کی جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے چکر میں بچی کی جان چلی گئی

بالوں کی جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے چکر میں بچی کی جان چلی گئی
بالوں کی جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے چکر میں بچی کی جان چلی گئی

  

بوسٹن (نیوز ڈیسک) اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر والدین ہی اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں مگر بعض اوقات والدین کی غیر ذمہ داری یا جہالت پھول سے بچوں کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔ ننھے بچوں کی صحت کے مسائل کے لئے گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال بھی بعض اوقات ایسے ہی خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے کہ جن پر پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ امریکا میں ایک ڈیڑھ سالہ بچی بھی اسی قسم کی جہالت اور غیر ذمہ داری کا نشانہ بن گئی کہ جو بظاہر اس کے بھلے پر مبنی تھی۔

مزید پڑھیں:دادا کی چھ سالہ پوتی سے گری ہوئی حرکت،غیروں نے آکر بچا لیا

 بوسٹن شہر میں رہنے والی اس بچی کے والدین نے اس کے سر سے جوئیں ختم کرنے کے لئے بالوں میں مایونیز کا لیپ کیا اور پھر اس کے سر پر پلاسٹک کا لفافہ چڑھا کر سو گئے۔ جب وہ صبح بیدار ہوئے تو بچی کو بے حس و حرکت پاکر شدید متفکر ہوئے اور ایمرجنسی سروس 911 پر مدد کے لئے کال کی۔ جب ریسکیو اہلکار ان کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ بچی کی سانس بند ہے اور یہ لوگ اس کی سانس بحال کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ ڈاکٹر نے جب بچی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ چند گھنٹے قبل ہی اس کی موت ہوچکی تھی۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ پلاسٹک کا لفافہ رات کے وقت ننھی بچی کے منہ پر آگیا تھا جس کی وجہ سے اس کی سانس بند ہوگئی اور وہ موت کے منہ میں چلی گئی۔

 مقامی پولیس کے نمائندہ سارجنٹ جان ڈیلینی کا کہنا ہے یہ ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے جس میں ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی والدین کے خلاف کسی قانونی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ ابھی تفتیش جاری ہے جس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ والدین کو بچی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے کارروائی کی جائے یا نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس