بھارتی خواتین نے جنسی درندوں کے علاج کا درست نسخہ ڈھونڈ لیا

بھارتی خواتین نے جنسی درندوں کے علاج کا درست نسخہ ڈھونڈ لیا
بھارتی خواتین نے جنسی درندوں کے علاج کا درست نسخہ ڈھونڈ لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی معاشرے میں خواتین کے ساتھ درندگی اب ایک مشغلے کی صورت اختیار کرچکی ہے اور مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ ریاستی ادارے اور پولیس جنسی درندوں کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے کے لئے یا تو تیار نہیں ہے یا اس میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب خواتین میں اپنے تحفظ میں اپنے تئیں اقدامات کی کوشش شروع کردی ہے۔

مزید پڑھیں:منیجر کی بھوک بینک کو 13 کروڑ کا چونا لگا گئی

خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی کارکن سنیتا کرشنن نے بھی ایک ایسے ہی مشن کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد جنسی درندوں کے بھیانک چہروں کو معاشرے کے سامنے بے نقاب کرنا ہے تاکہ اگر یہ درندے قانون کی پہنچ سے باہر بھی رہیں تو کم از کم دنیا ان کی بدبخت شکلوں کو تو پہچان سکے۔ سنیتا نے دو ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کیں ہیں جن میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے وحشیوں کے چہروں کو دکھایا گیا ہے تاکہ ان کے شرمناک کردار ساری دنیا کے سامنے آسکیں۔ سنیتا کہتی ہیں کہ یہ ویڈیوز انہیں ایک دردمند شخص کی طرف سے بھیجی گئیں ہیں جس کا کہنا ہے کہ اسے شرمناک جرم کرنے والوں نے یہ مواد سکائپ پر بھیجا تھا۔ اگرچہ ان ویڈیوز کا مقصد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کو بدنامی کا نشانہ بنانا تھا لیکن سنیتا نے مظلوم خواتین کی شناخت کو دھندلا کر اور حملہ آور درندوں کے چہروں کو نمایاں کرنے کے بعد یہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کردیں ہیں اور ہر ایک سے درخواست کی ہے کہ وہ ان ویڈیوز کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ جرم کا شکار ہونے والے کی بجائے مجرموں کو بدنام کیا جاسکے۔ پہلی ویڈیو میں متعدد مرد دو خواتین کی عصمت دری کرتے دکھائے گئے ہیں۔ یہ بے حس مجرم مجبور خواتین پر حملہ آور ہونے کے دوران خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور قہقہے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ ویڈیو 12منٹ پر مشتمل ہے۔ دوسری ویڈیو میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں بھی حملہ آور درندے اپنے شرمناک جرم پر جشن مناتے نظر آتے ہیں۔ سنیتا کی طرف سے ویڈیوز جاری کئے جانے کے بعد پولیس نے محض اتنا کہنے کی زحمت کی ہے کہ وہ مجرموں کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب سنیتا کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اب تک ایک سے زائد مرتبہ ان کی گاڑی پر پتھر برسائے جاچکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ وحشی درندوں کو بے نقاب کرنے کا عمل جاری رکھیں گی۔

مزید : انسانی حقوق