سبحان اللہ ،ماں کے دودھ کانومولود بچے کے لیے انمول فائدہ،جدید تحقیق میں سامنے آگیا

سبحان اللہ ،ماں کے دودھ کانومولود بچے کے لیے انمول فائدہ،جدید تحقیق میں ...
سبحان اللہ ،ماں کے دودھ کانومولود بچے کے لیے انمول فائدہ،جدید تحقیق میں سامنے آگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بوسٹن (نیوز ڈیسک) قدرت نے نومولود بچوں کی غذا کا افضل ترین انتظام ان کی اپنی ماں کے دودھ کی صورت میں کررکھا ہے لیکن بدقسمتی سے جدید دور میں اکثر مائیں اپنے بچوں کو ڈبے کا دودھ پلانا فیشن سمجھتی ہیں۔

مزید پڑھیں:ماں کے دودھ کی افادیت ، طبی ماہرین بھی مان گئے

امریکا کے یو این سی سکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے حال ہی میں بچوں پر ماں کے دودھ کے اثرات پر ایک تحقیق کی جس میں یہ اہم ترین انکشاف ہوا کہ نومولود کے لئے ماں کے دودھ سے بہتر کوئی غذا ممکن ہی نہیں ہے۔ تحقیق میں شامل سائنسدان اینڈریا ایزکاریٹ بتاتی ہیں کہ ماںکا دودھ وہ غذا ہے جو ننھے بچوں کو آنے والے دنوں میں ٹھوس غذا ہضم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس سے پہلے متعدد تحقیقات یہ تو ثابت کرچکی ہیں کہ ابتدائی چند ماہ کے دوران ماں کا دودھ بچے کو ہر طرح کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کی قوت مدافعیت بڑھاتا ہے لیکن یہ بات پہلی دفعہ منظر عام پر آئی ہے کہ اس دودھ کی وجہ سے بچہ مستقبل میں ٹھوس غذا ہضم کرنے کے لئے بھی بہتر طور پر تیار ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب ننھے بچے اپنی ماں کا دودھ پیتے ہیں تو ان کے نظام انہضام میں ایسے مائیکروب پیدا ہوجاتے ہیں جو انہیں ٹھوس غذا ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مائیکروب اگر محدود قسم کے ہوں تو بچے کا نظام انہضام زیادہ مضبوط ہوتا ہے لیکن اگر یہ بہت زیادہ اقسام پر مشتمل ہوں تو بچہ ٹھوس غذا ہضم کرنے کے لئے جلدی تیار نہیں ہوپاتا۔

 اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو بچے اپنی ماں کا دودھ پیتے ہیں ان کے نظام انہضام میں تقریباً 20 بیکٹیریل انزائم پیدا ہوتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ڈبے کا دودھ پینے والے بچوں میں 230 سے بھی زائد قسم کے انزائم پیدا ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ بچے جب ٹھوس غذا کھاتے ہیں تو ابتدائی طور پر شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ان بچوں کو کمزور قوت مدافعت کے باعث مختلف قسم کی بیماریوں کا سامنا بھی رہتا ہے۔

 ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بھی یہ ہدایت نامہ جاری کیاگیا ہے کہ مائیں پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کو صرف اپنا دودھ پلائیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ”فرنٹیئرز ان سیلولر اینڈ انفیکشن مائیکرو بیالوجی“ میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت