صدراوباما بالٹی مور مسجد میں!

صدراوباما بالٹی مور مسجد میں!
 صدراوباما بالٹی مور مسجد میں!

  

امریکی صدر بارک اوباما نے بالٹی مور کی ایک مسجد کا تاریخی دورہ کرکے جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اس سے یقیناًڈونلڈ ٹرمپ سے سہمے ہوئے مسلم امریکیوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ انہوں نے جہاں امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے قابل قدر کردار کی تعریف کی اور انہیں وسیع تر امریکی فیملی کا اہم حصہ قرار دیا،جاتے جاتے ایک اچھے ٹیچر کی طرح کچھ ہوم ورک بھی دے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب کاپیاں چیک کرنے کا مرحلہ آئے گا تو وہ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو چکے ہوں گے۔ درس دینے کا مجھے بھی بہت شوق ہے، لیکن مَیں اس موقع پر ہوم ورک میں اضافہ کر کے بستہ بھاری کرنا نہیں چاہتا۔ پاکستانی امریکیوں کے بارے میں ہمیشہ سے کافی کچھ کہتا رہا ہوں جو وسیع تر مسلم امریکی کمیونٹی کا حصہ ہیں۔ پھر کبھی فرصت ملی تو خالص مسلم امریکیوں کے بارے میں خیال آرائی کروں گا۔ فی الحال مجھے اپنا موضوع صدر اوباما کے بالٹی مور مسجد کے دورے تک ہی محدود رکھنا ہے۔دوسری باتوں کی طرف بعد میں آؤں گا، لیکن پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس ایونٹ میں پاکستانی اسلامی اداروں اور حکومت کے سربراہوں کے لئے بہت بڑے اسباق موجود ہیں۔ صدر اوباما نے ’’اسلامک سوسائٹی آف بالٹی مور‘‘ کے ہیڈکوارٹر میں پہنچنے کے بعد سب سے پہلے ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کانفرنس کی صدارت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ مسلم کمیونٹی کے اہم لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے مسلمانوں کی مختلف معاملات پر تشویش کو براہ راست سنا اور ان کے بارے میں اپنی رائے کا بے تکلفانہ اظہار کیا۔

اس کانفرنس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ اس سوسائٹی کے ’’کنٹرولر‘‘ کون ہیں۔ بعد میں واحد سپرپاور کے سربراہ کو مائیک پر آکر خطاب کی دعوت دینے کا ایک ’’سنہری موقع‘‘ تھا۔ سوسائٹی کے کرتا دھرتا افراد نے یہ موقع بھی ضائع کر دیا اور خالص امریکی روایت کے مطابق پری میڈیکل کی ایک نوجوان طالبہ نے میزبانوں کی نمائندگی کی، اس نے اپنا تعارف کرایا، اپنی تھوڑی سی کہانی بیان کی اور امریکہ میں رہنے والے نوجوان مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح وہ مسلمان رہتے ہوئے امریکہ سے محبت کرتے ہیں اور یہ سماج انہیں آگے بڑھنے میں کس طرح مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ سوسائٹی کی انتظامیہ نے شعوری کوشش کے ساتھ اپنے اپنے کو ’’لائم لائٹ‘‘ میں آنے سے بچا کر رکھا۔ صدر اوباما یقیناًتیاری کرکے آئے ہوں گے، لیکن انہوں نے جس طرح آغاز کیا اور اپنے موضوع کو اختتام تک پہنچایا، اس سے صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ ساتھ ساتھ سوچ کر وہی بیان کر رہے ہیں جو وہ محسوس کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر انہیں پورا عبور تھا اور وہ بغیر کسی مشکل کے زبانی کلامی امریکی تاریخ اور اسلام و قرآن کے حوالے دے رہے تھے۔ انہوں نے خیر مقدم کرنے والی لڑکی کا نام لے کر ذکر کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب لڑکی اپنا تعارف کرا رہی تھی تو انہوں نے اسی کا نام یاد رکھا۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے مخاطب حاضرین میں کون کون قابل ذکر لوگ بیٹھے تھے۔ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ بالٹی مور کے علاوہ میری لینڈ ریاست کے دوسرے شہروں اور امریکہ کی دیگر ریاستوں سے بھی لوگ شرکت کے لئے وہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے وہاں موجود مسلمان کانگریس مین اور دیگر اہم شخصیات کا نام لے کر ذکر کیا۔ تقریر کے اختتام پر انہوں نے سٹیج سے اتر کر جتنے لوگوں سے بھی ممکن تھا ،ہاتھ ملایا۔ یہ تفصیل اس لئے بتا رہا ہوں کہ مَیں نے واشنگٹن میں پاکستانی رہنماؤں کے ایسے مناظر دیکھے ہیں کہ انہوں نے اپنی پسند کے لوگوں کو سٹیج پر بٹھا کر لکھی ہوئی تقریریں پڑھیں،پھر جس طرح خفیہ راستے سے آئے اسی طرح اسی راستے سے لوٹ گئے۔

بالٹی مور کے ایک ممتاز پاکستانی بزنس مین شہباز خان اس سوسائٹی کی انتظامیہ میں شامل نہیں ہیں، لیکن اس کے بہت سرگرم رکن ہیں۔ وہ خود بھی اس سوسائٹی کی مختلف شعبوں میں کارکردگی کے معترف ہیں اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے ، وہ اس کی خوبیوں کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا اس تقریبمیں حاضری کا ارادہ تھا، لیکن انہوں نے بہت پہلے سے ہمیں تمام متعلقہ معلومات فراہم کر دی تھیں۔ وہ مجھے بتا رہے تھے کہ امریکہ بھر میں بے شمار اسلامی مراکز اور مساجدمیں سے اس سوسائٹی اور مسجد الرحمہ کے انتخاب کا خاص سبب شاید یہ ہے کہ اتنے وسیع پیمانے پر مذہبی فرائض کی انجام دہی کے علاوہ سماجی اورصحت مند سرگرمیوں کا فروغ یہاں کا خصوصی وطیرہ ہے۔ دوسرے مراکز کے برعکس یہاں کسی ایک فرقے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اس کی انتظامیہ اپنی تشہیر کرنے کی بجائے پس پردہ رہ کر کام کرنا زیادہ پسند کرتی ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک کونے میں بیٹھ کر چند افراد نے نماز پڑھی، پھر ایک مسجد قائم کرنے کا خواب دیکھا۔ اس طرح 1969ء میں یہ سوسائٹی قائم ہوئی اور آج ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا اس کا کیمپس اس علاقے کا ایک اہم مذہبی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی مرکز بن چکا ہے۔ شہباز خان بتا رہے تھے کہ گزشتہ ماہ رمضان کی ستائیسویں رات کو اس سوسائٹی کے نئے تعلیمی پراجیکٹ، یعنی یونیورسٹی کے قیام کے لئے پہلے فنڈ ریزنگ کی گئی۔ ٹارگٹ ایک ملین ڈالر رکھا گیا تھا اور صرف ایک رات میں ایک اعشاریہ تین ملین ڈالر اکٹھا ہو گیا۔ یہ یونیورسٹی موجودہ کیمپس سے چند میل کے فاصلے پر ایک وسیع و عریض قطعہ اراضی پر تعمیر ہو گی، جس میں غیر مسلم بھی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ایک انتہائی تعلیم یافتہ دانشور محمد جمیل اس وقت سوسائٹی کے سربراہ ہیں، جنہوں نے اپنا تن من دھن اس سوسائٹی کے لئے وقف کر رکھا ہے۔

بات زیادہ دور نکل گئی، اس لئے صدر اوباما نے اس موقع پر جو کچھ کہا، اس کی طرف واپس آتے ہیں۔ ہمارے نزدیک انہوں نے جو ایک اہم بات کی ، وہ یہ تھی کہ آپ مسلمان یا امریکی نہیں ہیں، بلکہ مسلمان اور امریکی ہیں۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مسلمان کے امریکی ہونے میں کہیں تضاد نہیں ہے۔ امریکہ میں کسی خاص مذہب یا نسل کی اکثریت ہو سکتی ہے، لیکن کوئی اکثریت میں ہے یا اقلیت میں، یہ سب کا یکساں وطن ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بار بار قرآن پاک کے حوالے دیئے، جن میں یہ الفاظ بھی شامل تھے کہ ’’ہم نے آپ کو مختلف قبیلوں میں تقسیم کیا، تاکہ اس طرح آپ کی پہچان ہو اور اس طرح آپ ایک دوسرے کو جان سکیں‘‘۔ اس الہامی پیغام سے مراد یہ ہے کہ قبیلوں سے تعلق پہچان کے لئے ہے، لیکن عزت و احترام تو صرف اچھے اعمال سے ملے گی۔ صدر اوباما نے کہا کہ ہم سب ایک فیملی ہیں۔ مسلم امریکی کئی نسلوں سے امریکی سوسائٹی کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔صدر اوباما نے ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں مسلم امریکیوں کی تعداد کم ہے ،جس کی وجہ سے شاید باقی امریکی ان کے بارے میں جو معلومات رکھتے ہیں، وہ براہ راست نہیں، بلکہ اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے ان کو ملتی ہیں، جو ضروری نہیں درست ہوں۔انہوں نے واضح کیا کہ چند لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں، اگر دہشت گرد ہیں تو ان کی وجہ سے پوری مسلم کمیونٹی کو الزام نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیاکہ نائن الیون کے بعد اور اب پیرس اور سان برنارڈ نیو کے سانحات کے بعد مسلمانوں کے خلاف غلط پراپیگنڈہ شروع ہوا جو درست نہیں ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امریکیوں کے خلاف ناقابلِ معافی سیاسی بیان بازی کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ صدر اوباما نے اسلام، مسلمانوں اور خصوصاً مسلم امریکیوں کی تعریف کرنے کے ساتھ انہیں کچھ سبق پڑھانے کی بھی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں تمام مذاہب کو اپنے فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی ہے۔ مذہبی آزادی اور رواداری ایک مذہب تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام سمیت سبھی مذاہب کو صبر و برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پورا حق ہونا چاہیے تو پھر انہیں عیسائیوں ، یہودیوں اور دیگر مذاہب کا بھی یہ حق تسلیم کرنا چاہیے۔ مذہبی منافرت کا جو بھی نشان بنے، سب کو اس کے خلاف آواز بلند کرنا چاہیے۔ صدر اوباما نے خاص طور پر ذکر کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کرسچین اقلیت منافرت کا نشانہ بنتی ہے تو اس کے خلاف اٹھنے والی آواز طاقتور نہیں ہوتی۔ صدر اوباما کی آمد کا مقصد یہی انٹرفیتھ ہم آہنگی تھا۔ مسلم امریکی اس معاملے میں اچھا کردار ادا کررہے ہیں، شاید صدر اوباما کی توقع یہ ہو کہ اس کام میں مزید سرگرمی دکھائی جائے۔ اگر انہوں نے مسلم امریکیوں کی اتنی زیادہ تعریف کی ہے تو اتنا سا درس دینا تو ان کا حق بنتا ہے۔

مزید :

کالم -