اورنج لائن میٹرو ٹرین۔۔۔ عوامی فلاح کا منصوبہ، متنازعہ نہ بنایا جائے

اورنج لائن میٹرو ٹرین۔۔۔ عوامی فلاح کا منصوبہ، متنازعہ نہ بنایا جائے
 اورنج لائن میٹرو ٹرین۔۔۔ عوامی فلاح کا منصوبہ، متنازعہ نہ بنایا جائے

  

کسی بھی مُلک کی معاشی و سماجی ترقی میں ذرائع آمدورفت اہم کردار ادا کرتے ہیں اگر ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے ذرائع نقل و حمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کئے اور نہ صرف کشادہ سڑکوں،اوور ہیڈ برجزاور انڈر پاسزکے جال بچھائے، بلکہ آرام دہ با کفایت اور تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم ماس ٹرانزٹ ریل ،میٹرو بس متعارف کرائیں اور جو سفر گھنٹوں میں طے ہوتا تھا اب چند منٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ترقی پذیر ملکوں نے بھی جدید سفری سہولتوں کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے، جس سے نہ صرف ان کی معیشت مضبوط ہو ئی، بلکہ عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی سے رہائش کے مسائل میں اضافہ ہوا اس کے ساتھ ساتھ شہروں پر دباؤ بڑھتا گیا، جس سے ٹریفک کے مسائل نے جنم لیا ۔بڑے شہروں میں گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے، جس سے شہری اپنی منزل مقصود پر بر وقت نہیں پہنچ پاتے۔لاہور جو پوری دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے۔اس کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔لاکھوں لوگ روز گار کی تلاش ،حصول علم یا دیگر امور کے لئے گھروں سے نکلتے ہیں ۔مگر ٹرانسپورٹ نا کافی ہونے کی وجہ سے گھنٹوں بس سٹاپوں پر انتظارکرنا پڑتاہے۔

محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ(ن) برسر اقتدار آئی تو انہوں نے ہمیشہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئی اہم منصوبے شروع کئے جن میں ذرائع آمدورفت کے پراجیکٹ سر فہرست ہیں ۔بد قسمتی سے عوامی فلاح کے جو بھی منصوبے شروع کئے گئے ان کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور حکومت میں جب موٹر وے شرو ع کی گئی توبعض حلقوں نے واویلا شروع کر دیا اور کہاکہ اس منصوبے پر بے جا وسائل خرچ کئے جا رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ موٹر وے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اورآج وہی لوگ اس پر سفر کرتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی قیادت میں وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پنجاب کے عوام کو جدید ترین ،باکفایت ،تیز رفتار ،آرام دہ سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے اوور ہیڈ برجز ،انڈر پاسز ،سڑکوں کو کشادہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لئے جامع اقدامات اٹھائے ۔جب کوئی شہری یورپ کے ممالک جاتا اور وہاں تیز رفتار گاڑیوں میں سفر کرتا ہے تو وہ ضرور سوچتا ہے کہ کاش وطن عزیز میں بھی ایسا ہی تیز رفتار ،آرام دہ ٹرانسپورٹ سسٹم ہو، لہٰذا محمد شہباز شریف نے بھی پنجاب میں میٹرو کلچر متعارف کرایا اور زندہ دلان لاہور کے شہر میں میٹرو بس بنانے کا اعلان کیا تو ایک مخصوص ٹولہ جو پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا نہیں چاہتا ،نے بے جا تنقید شروع کر دی وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہاں کے باسی بھی تیز رفتار بسوں پر سفر کریں ،اشرافیہ کے پاس تو پجاور گاڑیاں ہیں اور یہ طبقہ بس سٹاپوں پر مجبور اور غریب افراد کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کے پاس سے تیزی سے گزر جاتے۔کبھی اس بس کو ’’جنگلہ بس ‘‘ کہا گیا اور کبھی اس منصوبے میں کیڑے نکالنے شروع کر دیئے۔

آج ا لحمد للہ اِسی میٹرو بس پر لاکھوں لوگ سفر کر کے بر وقت اپنی منزل مقصود پر پہنچ رہے ہیں، جو سفرپہلے گھنٹوں میں طے ہوتا تھا اب منٹوں میں طے ہو رہا ہے ۔اب میٹرو بس لاہور کے علاوہ جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں کامیابی سے چل رہی ہے اور ملتان میں میٹرو بس سسٹم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بس اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ لاہور کے شہریوں کو مزید تیز رفتار ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لئے اورنج لائن میٹرو ٹرین چلانے کا اعلان کیا اور آج اس پراجیکٹ پر تیز ی سے کام جاری ہے ۔اب پھر وہی ٹولہ میدان میں آگیا ہے، جس کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہے ۔یہ لوگ اپنے اپنے صوبوں میں عوام کو جدید سہولیات کی فراہمی سے قاصر ہیں اور ا نہیں چاہتے کہ پنجاب کے عوام بھی ترقی کریں۔اورنج ٹرین پراجیکٹ پر ایک کھرب 65 ارب روپے کی لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ لاہور کی ضروریات کی مدنظر رکھ کر ڈایزئن کیا گیا ہے ۔ایگزم بنک میٹرو ٹرین پراجیکٹ کے لئے آسان شرائط پر 162 ارب روپے کے فنڈزفراہم کرے گا ۔اس سلسلے میں ایوان وزیر اعلی میں منعقدہ تقریب میں معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اورنج ٹرین پبلک ٹرانسپورٹ کوجہت دے گا اور یہ پورے مُلک کی ترقی و خوشحالی کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا ۔یہ چین کی طرف سے پاکستان کے عوام کے لئے تحفہ ہے ۔ٹرین کا روٹ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جس سے زیادہ سے زیادہ آبادی مستفید ہو۔ٹرین کا روٹ علی ٹاؤن سے شروع ہو کر براستہ ٹھوکر نیاز بیگ ، ملتان روڈ،ہنجر وال ،وحد ت روڈ،اعوان ٹاؤن،شاہ نور سٹوڈیو،بند روڈ،سمن آباد،گلشن راوی،چوبرجی ،لیک روڈ، لکشمی چوک،میکلورڈ روڈ،ریلوے اسٹیشن،سلطان پورہ،انجینئرنگ یونیورسٹی،باغبان پورہ،شالا مار باغ، سلامت پورہ اوراسلام پارک ڈیرہ گجراں پر اختتام پذیر ہوگا۔

ٹرین کے ٹریک کا 25.4کلومیٹر حصہ زمین سے 12فٹ کی بلندی پر تعمیر کیا جائے گا، جبکہ 1.7کلو میٹر حصہ زیر زمین ہو گا ۔اس میں 26سٹیشن ہوں گے جن میں سے24اسٹیشن زمین سے بلندی پر اور دو انڈر گراؤنڈ ہوں گے ۔آغاز میں روزانہ اڑھائی لاکھ لوگ سفر کریں گے بعد ازاں یہ تعداد پانچ لاکھ افراد یومیہ تک بڑھ جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے لئے حاصل کی گئی زمین کے مالکان کو ادائیگی کے لئے20ارب روپے کے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر شخص کو پورا معاوضہ دیا جائے گا ۔کسی کو حق تلفی نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ چند روز میں معاوضے کی ادائیگی کر دی جائے گی اور وہ خود اس کی نگرانی کریں گے ۔عوام کی سہولت کے لئے ایل ڈی اے آفس جوہڑ ٹاؤن کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی ،گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈ نزد پی اینڈ ڈی بلڈنگ اور ٹھوکر نیاز بیگ چوک پر بھی ون ونڈو مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔صوبائی وزراء،کمشنر لاہور ڈویژن،ڈی جی ایل ڈی اے اور ڈی سی او لاہور ان مراکز کی نگرانی کر رہے ہیں تا کہ معاوضہ کی ادائیگی میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔متاثرین کو فوری ادائیگی کی جارہی ہے اور پہلے روز 217اراضی مالکان کو 85کروڑروپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے ۔ادائیگی مراکز پر خواتین اور مردوں کے لئے الگ الگ کاؤنٹر قائم کئے گئے ہیں۔تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لئے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین تکنیکی مہارت استعمال کی گئی ہے اور ان تاریخی عمارتوں کا مکمل تحفظ ہر لحاظ سے یقینی بنایا بنایا گیا، لہٰذا بعض حلقوں کی طرف سے جو تحفظات ظاہر کئے جا رہے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید :

کالم -