میڈیا ، آزادی  رائے اور  عوام

میڈیا ، آزادی  رائے اور  عوام
میڈیا ، آزادی  رائے اور  عوام

  

تحریر:اکر م سومرو

عہد حاضر کو جمہوریت کا دور کہا جاتا ہے۔ جمہوریت کے قیام، بقا اور تسلسل کے لیے میڈیا کے کردار کو لازمی اور نا گزیر تصور کیا جاتا ہے۔ میڈیا کا سب سے اہم اور بنیادی کام حالات حاضرہ، سیاسی اور معاشی واقعات کی بر وقت اور صیح تصویر معاشرے کا سامنے پیش کرنا ہے۔ دراصل جمہوری معاشروں میں حقیقیت پر مبنی درست خبر انتہائی اہمیت کی حامل اس لیے ہوتی ہے کہ یہ فرد و معاشرہ دونوں کی حقیقت تک رسائی اور صیح رائے قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ صیح اور حقیقت پر مبنی رائے ہی جمہوری معاشرے کی ترقی کا باعث ہوتی ہے۔ آج کے اس میڈیا اور انفارمیشن سوسائٹی کے دور میں یہ امر انتہائی اہم ہے کہ میڈیا پر نشر ہونے ہوے والے واقعات کا میڈیا انڈسٹری کی حقیت کے تناظر میں تجزیہ کیا جائے۔

رائے عامہ سے مراد معاشرے میں موجود تما م افراد کی رائے لی جاتی ہے۔ جمہوریت کے تصور کے تناظر میں یہ تصور انتہائی اہم ہے کیوں کہ عوامی رائے کی بنیاد پر ہی حکومتیں بنتی اور ٹو ٹتی ہیں۔اور اگر جمہوریت کے بنیادی تصورات کے پس منظر میں دیکھاجائے تو عوامی رائے ہی حکومتی فیصلوں پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔ عوامی راے کا اصل ہدف معاشرے کے وہ طبقات ہوتے ہیں جو دراصل اس پوزیشن میں ہوں کہ جو واقعتا فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کر سکیں ان میں سیاست دان، حکومتی اراکین، مذہبی رہنما، کاروباری طبقہ، معاشرے میں موجود تنظیمیں،عوامی ادبی حلقے اور یونی ورسٹی و کالجز کے طلبہ و اساتذہ وغیرہ شامل ہیں۔

صیح عوامی رائے کا دارومدار ان درست معلومات پر ہوتا ہے جو کسی مسئلہ (ایشو) پر رائے دینے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت تو سب پر واضح ہے کہ کوئی بھی فرد تن تنہا اہم سیاسی ، معاشی ، ملکی اور غیر ملکی معاملات پر موجو د معلومات تک براہ راست رسائی نہیں رکھتا ہے اسی لیے وہ ان معلوما ت کے حصول کے لیے لا محالہ میڈیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ میڈیا پروفیشنل افراد پر مبنی ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو عوامی مفادات کے ایشوز پر موجود حقاق کو جمع کرنے کے بعد عوام کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ عوامی حلقے ایک صیح رائے قائم کر سکیں۔

میڈیا کا کسی بھی معاشرے میں بنیادی کردار بھی عوامی دلچسپی اور مفاد کے حامل مسائل اور ایشوز پر معلومات و رائے کا تبادلہ ہوتا ہے۔ میڈیا کے جمہوری معاشروں میں آزاد حیثیت سے کام کرنے کے پس پردہ بھی یہی ضرورت و نظریہ کارفرما ہے۔چونکہ جمہوری معاشرے اس تصورسے قائم کیے جاتے ہیں کہ عوام کی حکومت ، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے وجود میں لائی جاتی ہے اسی لیے اس حکومت کا مقصد بھی عوام کی خدمت اور عوامی مفادات کی نگرانی کرتے ہوئے معاشروں کو چلانا طے پاتا ہے۔

کیا واقعتاً حکومت جو عوام کے ووٹوں سے قائم کی جاتی ہے وہ عوامی مفادات کے تحت کام کر رہی ہے یا نہیں اس کے لیے روز مرہ کی بنیاد پر حکومتی فیصلوں اور پیش رفت کو جاننا نہایت ضروری ہے اور میڈیا سے دراصل یہی توقع ہوتی ہے کہ وہ حکومتی اداروں پر عوامی مفاد کے تحت نگاہ رکھے گا اس تصور کو میڈیا کا واچ ڈوگ کردار کہا جاتا ہے۔ اگر تو میڈیا اپنی بنیادی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے ملکی مفادات کے تناظر میں حکومتی اقدامات اور فیصلہ جات کی خبریں اور تجزیے عوام کے سامنے پیش کریں تو عوامی حلقے درست نتائج تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور نتیجتاً حکومتی فیصلوں پر تنقید یا ان کی تائید آسان ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر میڈیا عوامی مسائل اور مفادات کو نظر انداز کر کے حکومتی مفادات کے تحت کام کرنے لگے جس کو میڈیا کا لیپ ڈوگ کردار کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ عوامی حلقے جو میڈیا کی طرف یہ سوچ کے رجوع کرتے ہیں کہ انہیں درست معلومات میسر ہو سکیں گی میڈیا کے پروپیگینڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔

میڈیا کسی معاشرے میں صیح ، سچی اور مکمل معلومات فراہم کر سکتا ہے یا نہیں اس کا دارومدار دو بنیادی چیزوں پر ہے۔ اول جس ملک کے میڈیا کا تجزیہ کرنا مقصود ہے اس کے معاشی نظام کا ڈھانچہ کیسا ہے اور دوسر ا یہ کہ اس ملک کا سیاسی نظام کیسا ہے۔ کیونکہ میڈیا اب سماجی ادارہ ہونے سے زیادہ ایک انڈسٹری کا درجہ حاصل کر چکا ہے جس پر میڈیا کو خود بھی فخر ہے۔ لیکن یہ دور جدید کی واحد انڈسٹری ہے جو سامان کی یا سروس کی بجائے معلومات، نظریات، تجزیات، ثقافت اور تہذیب بیچتی ہے۔ لیکن باقی انڈسٹریز اور میڈیا انڈسٹری کی قدر مشترک زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول ہے۔ اسی لیے میڈیا مالکان اور میڈیا ملازمین ایسا کوئی کام نہیں کرتے ہیں جس سے کسی بھی طرح سے منافع کے حصول کا عمل متاثر ہو۔ منافع اشتہاروں سے حاصل ہوتا ہے اور اشتہار وں کا سب سے بڑا ذریعہ حکومتی ادارے اور بڑی ملکی و غیر ملکی کمپنیاں ہیں۔ اس لیے یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ میڈیاکی آمدنی و منافع براہ راست حکومت اور سرمایہ دار کمپنیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے حقیقت میں ایسی کوئی خبر یا پروگرام نشر ہی نہیں ہوتا ہے جو واقعتاً مقتدر طبقات اور ان کمپنیوں کے خلاف ہو جو اس ملک کودن رات لوٹنے میں مصروف ہیں اور بلواسطہ یا بلاواسطہ میڈیا کے منافع پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان سمیت تمام سرمایہ دار ممالک میں آزاد میڈیا اور جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے اور عوام کو حکومتی عہددار یقین دلاتے ہیں کہ وہ میڈیا کی آزادی کے زبردست حامی ہیں۔ میڈیا پر بھی عوام کو اس بات کو ایمان کی حد تک تسلیم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے کہ ایک آزاد میڈیا ہی ان کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے اور ان کے تمام دکھوں کا مداوا و علاج بھی میڈیا کی آزادی میں پنہاں ہے۔ سرمایہ دار ممالک میں باقی تمام اداروں اور انڈسٹریز کی طرح میڈیا بھی یا تو منافع بنانے کے چکر میں ہوتا ہے یا پھر اس کا سب سے بڑا کام ان سرمایہ دار اداروں کا تحفظ ہوتا ہے جو ملک کو لوٹنے میں دن رات مصروف ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اگر میڈیا پر نشر کی گی معلومات، خبروں ، تجزیوں اور تفریحی پروگراموں کا شعوری بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ چوبیس گھنٹے چلنے والے میڈیا چینلز کی نشریات کا مقصد صرف اور صرف سرمایہ داری نظام کا تحفظ ہے اور اسی لیے اس میڈیا نے کبھی بھی سرمایہ دار اور مقتدر طبقہ کو بے نقاب نہیں کیا ہے بلکہ ایک طرف تو خبروں اور تجزیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عوامی مفادات کا تحفظ صرف میڈیا کے ذریعے ہی ممکن ہے اور دوسری طرف ملک میں موجود لینڈ مافیا، قبضہ مافیا، سرمایہ دار، نام نہاد سیاست دان، سیاسی پریشر گروپس، بینک اور دیگر سرمایہ دار افراد، ادارے اور گروہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ اگرسرمایہ دار میڈیا پر خبریں نشر ہونے سے ملک کے حالات بدلتے تو پاکستان میں کب سے خوشحالی کا سنہری دور شروع ہو چکا ہوتا جس کا وعوی ہر نیا ٹاک شوشروع ہونے پر اس کا اینکر کرتا ہے۔

مزید :

بلاگ -