کیا نواز شریف کو عوام نا اہل کرینگے؟

کیا نواز شریف کو عوام نا اہل کرینگے؟
 کیا نواز شریف کو عوام نا اہل کرینگے؟

  

پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل فاضل جج کی بیماری کی وجہ سے کیس کی سماعت میں بریک ہے تو پورے ملک میں ایسے لگ رہا ہے جیسے سب اچھا ہے ، سکون ہی سکون ہے ، ورنہ جب سے پانامہ کیس کی سماعت کا آغاز ہوا ہے تو روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے اندر اور سپریم کورٹ کے باہر سے خوفناک ٹکرز چل رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ترجمانوں کے درمیان ایسی جنگ جاری ہے جس نے پوری قوم کا سکون تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی سماعت ملتوی ہونے سے ایک طرف قوم نے سکھ کا سانس لیا ہے تو دوسری طرف حکومت نے خود ہی اپوزیشن کے خلاف اور نہ جانے کس کس کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔ حکومتی جماعت نے لاہور ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ کے بعد اب ہری پور میں پارٹی کنونشن کا انعقاد کر کے دھواں دھار تقریروں کے ذریعے عمران خان کی خوب کلاس لی ہے۔ عوام سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کرپشن کا حکومتی پارٹی ن لیگ کے قائدین پر الزام ہے جبکہ ن لیگ کے قائدین روزانہ کی بنیاد پر جلسے جلوس نکال کر الٹا الزام عمران خان پر لگا رہے ہیں جواباً عمران خان اور ان کے ترجمان بھی بیان بازی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔ عوام پانامہ کیس کے حوالے سے پہلے بھی کنفیوژ تھے اب مزید ہوتے جا رہے ہیں۔ یعنی مسلم لیگ ن کی جارحانہ پالیسی کا ہدف کون ہے اس کے بارے ابھی سے اندازے لگائے جا رہے ہیں ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ سعد رفیق نے عدالت کو تڑی لگا دی ہے ، کبھی کہا جاتا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے لیکن اگر غیر جانبدارانہ طریقے سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ عمران خان 2013ء کے انتخابات سے لیکر اب تک بے نتیجہ جلسے جلوس نکال کر دھرنے دیکر تقریباً تھک چکے ہیں جبکہ دوسری طرف آصف علی زر داری نے کئی بار کہا کہ کپتان کو تھکنے دیں ن لیگ کی بھی پالیسی لگ بھگ ایسی ہی رہی کہ کپتان کو جلسے جلوس کرنے دیں ۔ پی ٹی آئی کی قیادت جب بے نتیجہ دھرنے اور جلے کر کے تھک جائے گی تو پھر ن لیگ میدان میں اترے گی اور اب اگر دیکھا جائے تو ن لیگ نے بروقت سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے آئندہ عام انتخابات میں زیادہ وقت نہیں رہا تو حکومتی پارٹی نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے ن لیگ نے جلسے جلوسوں کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ میاں نواز شریف عوام کے ووٹ کے ذریعے آئے تھے۔ عوام کی طاقت اور ووٹ کے ذریعے ہی واپس جائیں گے۔ اس حوالے سے رانا ثناء اللہ کا بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف کو صرف اور صرف عوام کی طاقت سے یعنی عوام کی مرضی سے ہی نا اہل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کی ملتی جلتی گفتگو گزشتہ روز ہری پور میں مسلم لیگی کنونشن سے خطاب کے دوران خواجہ سعد رفیق اور پرویز رشید نے بھی کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پانامہ کا کیس سپریم کورٹ میں ہے اس حوالے سے کیس کا مواد باقاعدہ لیکس کے ذریعے سامنے آیا لیکس کہاں سے ہوئیں کس نے کیس یہ بات بھی روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے اب یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ ن لیگ کی قیادت کس کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اپنے قائد کی نا اہلی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرینگے وہ صرف اور صرف عوام کے فیصلے کو مانتے ہیں۔ فیصلہ تو اس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہے جہاں سے میاں نواز شریف کی نا اہلی کے حوالے سے فیصلہ آ سکتا ہے۔ وہاں پر تو ابھی صرف اور صرف ریمارکس چل رہے ہیں ابھی فیصلہ دور ہے کیونکہ عدالتی فیصلے کا بھی کافی حد تک ان دستاویزات اور شواہد پر دارومدار ہو گا جن کو حکومتی اداروں نے فراہم کرنا ہے اور یہاں ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ کیا حکومتی ادارے ایف آئی اے ، نیب یا ایف بی آر حکومت یا شریف خاندان کے بارے کوئی ثبوت سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔ میری اطلاع کے مطابق حکومت پاکستان کے اداروں ایف بی آر وغیرہ نے آف شور کمپنیوں والے تمام ممالک سے خط و کتابت کی ہے جہاں سے جو جواب آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم آپ کو کسی بھی طرح کا ریکارڈ نہیں دے سکتے کیونکہ آپ کا ہمارے ساتھ ریکارڈ یا دستاویزات کے تبادلہ کا کوئی ایسا معاہدہ نہ ہے اگر ایف بی آر اسی طرح کا جواب سپریم کورٹ میں داخل کروا دیتا ہے تو پھر کیا ہو گا عدالت پی ٹی آئی کی طرف سے ذاتی حیثیت میں دی جانیوالی دستاویزات اور ثبوتوں پر فیصلہ کیسے کرے گی مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ حکومتی پارٹی کو اپنے قائد کی نا اہلی کی قبل از وقت اتنی کیوں فکر ہے ن لیگ کی قیادت اپنی تقریروں میں کس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ہمارے قائد کی نا اہلی کیلئے کون سی ایسی طاقت ہے جو رول ادا کر سکتی ہے میرے خیال میں ن لیگ دبے لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ پانامہ کا فیصلہ کچھ بھی ہو اس طرح کا تذکرہ 2018ء کے الیکشن میں بھی جاری رہے گا۔ پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتیں 2018ء کے انتخابات کو کرپشن اور پانامہ کی بنیاد پر لڑیں گی جبکہ ن لیگ میاں نواز شریف کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر کے طور پر میدان میں لے کر آئیگی جس نے اپنی حکومت کے دوران ہر طرح کی سازش اور سکرپٹڈ پلانز کا کمال جرأت سے مقابلہ کیا مگر وہ نہ جھکا اور نہ ہی اس نے استعفے دیا میاں نواز شریف کی ذات سے ہزار اختلا ف ہوں یہ کریڈٹ ان کو بہرحال دینا پڑے گا کہ انہوں نے خوفناک حد تک دباؤ برداشت کیا مگر بدترین دباؤ میں بھی نہ جھکا اور نہ ہی کوئی بڑا بلنڈر کیا کیونکہ دباؤ ڈالنے والے ان دو چیزوں کے منتظر تھے ان کا خیال تھا کہ میاں نواز شریف یا دباؤ برداشت نہ کر تے ہوئے اپنی وکٹ چھوڑ دیں گے ، بھاگ جائیں گے یا پھر کوئی بڑی غلطی کریں گے جس پر ان کی پکڑ ہو جائے گی۔ اس بات سے بھی اختلاف کرنا خاصا مشکل ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف گزشتہ ساڑھے تین سال سے منظم ترین سازشیں کی گئیں مگر جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد اگر ن لیگ کی قیادت اپنی تقریروں میں یہ تاثر دے کہ ان کے قائد کی نا اہلی یا ان کو راستے سے ہٹانے کیلئے کوئی شخصیت یا ادارہ سرگرم ہے تو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ اب ن لیگ الیکشن میں اس بات کو الیکشن کے سلوگن کے طور پر یا پھر انٹرنیشنل پلیئرز کو باور کروانے کیلئے استعمال کرنا چاہے تو یہ الگ بات ہے ورنہ اس وقت تو ہر ادارہ اور ہر شخص میاں نواز شریف کی عظمت کے راگ الاپ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کیلئے 2018ء کے الیکشن میں کوئی بڑا چیلنج نظر نہیں آ رہا ۔ آج ایک طرف پانامہ کیس عروج پر ہے ، دوسری طرف میاں نواز شریف کی پاپولیرٹی کے سروے بھی شائع ہو رہے ہیں ۔ تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن موڈ میں جا چکی ہیں حکومتی پارٹی نے خود بھی غیر اعلانیہ انتخابی مہم اور رابطہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے لیکر الیکشن کمیشن اور حلقہ بندیوں تک ہر معاملے میں فائدہ ن لیگ کا نظر آ رہا ہے ن لیگ کی مینجمنٹ کا ویسے ہی زمانہ معترف ہے تو پھر فکر کس بات کی ہے؟

مزید :

کالم -