چاریونیورسٹیوں میں دو ہزار سے زائد غیر قانونی بھرتیاں

چاریونیورسٹیوں میں دو ہزار سے زائد غیر قانونی بھرتیاں

سپیشل آڈٹ رپورٹ کا یہ انکشاف حیرت انگیز ہے کہ کراچی اور لاڑکانہ میں چار سرکاری یونیورسٹیوں میں دو ہزار سے زائد افراد کو غیر قانونی طور پربھرتی کرلیا گیا، جن اسامیوں پر غیر قانونی بھرتی ہوئی، ان پر ڈیوٹی دینے والوں کو اب تک سوا چار کروڑ روپے سے زائد رقم تنخواہوں اور دیگر مراعات کے طور پر ادا کی جاچکی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو ہزار سے زائد خالی اسامیوں پر بھرتی کے لئے اعلیٰ حکام سے باقاعدہ منظوری نہیں لی گئی بجٹ میں فنڈز بھی مختص نہیں کئے گئے۔ جن یونیورسٹیوں میں یہ ’’کارنامہ‘‘ انجام دیا گیا، اُن میں جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی، لیاقت یونیورسٹی کراچی اور شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ شامل ہیں۔ آڈٹ رپورٹ میں جو تفصیلات شامل ہیں، اُن کی وجہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہوئی ہے کہ اوپر سے نیچے تک ملی بھگت سے اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی بھرتی کی گئی۔ اس قسم کے ’’کارنامے‘‘ رشوت اور سفارش کلچر کی وجہ ہی سے ممکن ہوا کرتے ہیں۔بنیادی طور پر من پسند اور چہیتے لوگوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ سرکاری محکموں اور اداروں میں بھرتی کے لئے اخبارات میں پیشگی اشتہارات دیئے جاتے ہیں، موصول ہونے والی درخواستو ں کی جانچ پڑتال کے بعد تحریری انٹرویو ہوتے ہیں، ان میں کامیاب ہونے والوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ چاروں یونیورسٹیوں میں بھرتی کرتے وقت کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ ماتحت عملے اور متعلقہ حکام کی اعلیٰ حکام سے ’’انڈر سٹینڈنگ‘‘ کی وجہ سے تمام مراحل خود ہی طے کرلئے گئے اور بھرتی ہونے والوں کو تنخواہیں اور دیگر الاؤنسز بھی دیئے جارہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملی بھگت کے ذریعے بد عنوان حکام نے مستحق اور اہل افراد کی حق تلفی کرتے ہوئے خالی اسامیوں کو پُر کرلیا۔ یہ سارا کام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہوتا رہا۔ جہاں سے نوجوانوں کی بہتر تربیت کی توقع کی جاتی ہے۔ایسے لگتا ہے کہ مخصوص طریق کار کا استعمال کرکے چاروں یونیورسٹیوں میں ناجائز اور غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔ ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالب علموں کے ذہنوں پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوئے ہوں گے، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس لوٹ مار میں ملوث افراد کی دیدہ دلیری کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آڈٹ حکام کی طرف سے جب اُن سے ناجائز بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا توفراہم کرنے سے انکار کردیا گیا۔ تاہم جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے بتایا کہ 581 افرادکو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں تین دوسری یونیورسٹیوں میں کتنے لوگوں کو کنٹریکٹ یا مستقل بھرتی کیا گیا، اس کی تفصیلات مہیا نہیں کی گئیں۔ حیرت ہے کہ جب ان آسامیوں کے حوالے سے بجٹ میں فنڈز مختص نہیں کئے گئے تو پچھلے چھ سات ماہ سے تنخواہیں اور الاؤنسز وغیرہ کی ادائیگی کس کھاتے سے ہورہی ہے۔ ضروری ہے کہ تفصیلی رپورٹ تیار کرکے ذمے داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ اس گھپلے میں اوپر سے نیچے تک سبھی لوگ ملوث ہیں لہٰذا کسی سے رعائت نہیں ہونی چاہئے۔ عموماً چھوٹے اور کمزور ملازمین کو ’’قربانی کا بکرا‘‘ بناکر بنیادی طور پر ذمے داروں کو بچالیا جاتا ہے، یہ حربہ استعمال نہ کرنے دیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...