کالی آگ

کالی آگ
کالی آگ

دھماکے، چیخ و پکار، خون آلود چہرے اور کنکریوں کی مانند بکھرے انسانی اعضاء۔ پاکستان کے دشمن نئی توانائیوں سے دوبارہ منظر عام پر آ چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔دہشت گرد کون تھے؟۔ پس پردہ مقاصد کیا تھے؟

اور ماسٹر مائنڈ کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے؟۔ ساری کڑیوں کو ملائیں تو ایک ہی تصویر بنتی نظر آرہی ہے۔ ’’ غیر مستحکم پاکستان‘‘۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان میں پاکستان کا کردار گھٹانے پر غور شروع ہوچکا ہے، بھارت دہشت گردی کی نئی نرسریاں بیج رہا ہے اور افغان صدر اپنا لب و لہجہ تبدیل کرتے ہوئے پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ایسے وقت میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے اہداف کا چناؤ یقیناًتشویش ناک ہے۔

نئے حملوں میں بڑی شفاف منصوبہ بندی کے تحت چند منٹوں کے وقفے والی تکنیک استعمال کی جا رہی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا دھماکہ۔ ان حملوں کی صورت بنیاد پرستوں نے پاکستانی ریاست کو کھلا پیغام پہنچایا کہ وہ کسی صورت اپنا غیر ملکی ایجنڈہ ادھورا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

حملوں میں عارضی وقفوں کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا دہشت گرد تتر بتر ہوچکے ہیںیا ان کی قوت کمزور پڑچکی ہے یا وہ ریاستی اداروں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔ دہشت گرد بدستور مضبوط اور موجود ہیں۔

ایک طرف ریاست دوسری طرف شر انگیزی پر تلے عناصر۔ ایک طرف بیس کر وڑ انسان دوسری طرف چند ہزار جنونیوں پر مشتمل ٹولہ۔ اس جنونی ٹولے سے کس طرح نمٹا جائے گا؟۔

یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی خاطر گذشتہ سترہ برسوں سے پاکستانی ، عالمی برادری اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ عالمی برادری فرمان جاری کرتی ہے پاکستان کو کسی طور دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔

پاکستانی ریاست نعرہ لگاتی ہے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا جائے گا۔فی الوقت دونوں اپنے دعوؤں میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے۔ اگر اس معاملے کا حل اتنا ہی آسان ہوتا تو حکومتوں کے تختے الٹنے والی سی آئی اے کب کی کامیاب ہوچکی ہوتی۔

اگر یہ مسئلہ اتنا ہی سادہ ہوتا تو مشرق سے مغرب تک پنجے گاڑی آئی ایس آئی کب کی فتح کے شادیانے بجا چکی ہوتی۔ گذرے سال گواہی دیتے ہیں کہ مذہب کی آڑ میں رینگتا نفرت کا اژدہا پاکستانی سماج کو اپنی گرفت میں لینے کی کوششیں کر رہا ہے۔ب

ے گناہوں کا خون چیخ چیخ کر دہائی دے رہا ہے مسلکی غرور کا جلاد لاشوں کے انبار لگا رہا ہے۔ کٹی پھٹی لاشیں خاموشی کی زباں میں نوحہ کناں ہیں ان کا قصور کیا تھا۔ اور عام پاکستانی سوال کنندہ ہے حکومتوں سے، آخر کب تلک انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر موت کی بدصورتیوں میں دھکیلا جاتا رہے گا؟۔

پاکستانی ریاست بڑی دشوار گذار راہوں سے گذر رہی ہے۔ خوف کی وجہ سے ابھی تک کوئی حکومت ایسی منظم پالیسی تشکیل نہیں دے سکی جو ان اداروں، گروپوں اور تنظیموں پر ہاتھ ڈال سکے جن کا کام غیر ملکی اشاروں پر سماج میں ابتری پیدا کرنا ہے۔

بے پناہ وسائل، کروفر، قیمتی گاڑیاں، آتشگیر ہتھیار اور محافظوں کی فوج ۔ کیا ان چیزوں کے ہوتے ہوئے کوئی تنظیم دین کی خدمت کا دعوی کر سکتی ہے؟۔

بظاہر یہ گروپ دین کی ترویج کی خاطر قائم کئے گئے۔ لیکن آج یہ برتری اور بقاء کی خاطر نہ صرف آپس میں مورچہ زن ہو چکے بلکہ ریاست کی بھی اینٹ سے اینٹ بجانے پر کمر بستہ نظر آرہے ہیں۔

ان گروپوں اور تنطیموں نے سماج کی اکثریت کو ایسے نفرت انگیز بحث مباحثوں میں الجھا رکھا ہے جن میں ہر کوئی اپنے آپ کو سچا اور فاتح دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کی دین سے دوری کا یہ عالم ہوچکا ہے کہ خودکش حملہ آور پورے اعتقاد کے ساتھ اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو منافق قرار دیتے ہوئے جسموں کے پرخچے اڑا رہا ہے۔

ہر مسئلے کے مانند اس مصیبت کا بھی حل موجود ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے آگے کون بڑھے گا؟۔ کس میں اتنا حوصلہ ہے جو دین کی آڑ میں نفرت پھیلانے والوں کو دوبارہ مفید شہری بنانے کی پالیسی تشکیل دے سکے۔

کس میں اتنی جرات ہے جو عرب ریاستوں کی طرح، بے مہار مذہبی گروپوں ، جماعتوں کو ریاستی کنٹرول میں لے سکے۔ کس میں اتنی ہمت ہے جو روزانہ ہزاروں کی تعداد میں منعقد ہونے والی تربیتی نشستوں میں پھیلائی جانے والی نفرت اور برین واشنگ پر کریک ڈاؤن کر سکے۔اور کس میں اتنی سکت ہے جو انسان اور اللہ تعالی کے درمیان حائل شرپسندوں کو کچل سکے؟۔

اگر کسی میں اتنی ہمت نہیں تو واویلا مچانے اور حلق پھاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خودکش حملے اسی طرح جاری رہیں گے۔ خون میں لتھڑے لوگ اسی طرح آہ و بکا کرتے رہیں گے۔ حتی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر طرف خاموشی چھا جائے گی۔ کم از کم تاریخ یہی درس دیتی ہے۔

حالت ہمیشہ ان کی بدلی جو سچائی پر کاربند رہے۔ اور آج کے پاکستان کی سب سے بڑی سچائی ان نفرت کے دیوتاؤں کی توڑ پھوڑ ہے جو پاکستان کا مستقبل نوچنے کے لئے بے چین نظر آرہے ہیں۔

یہ کیسی ان دیکھی جنگ ہے جس کا سرا دکھائی نہیں دے رہا۔ کبھی یہ آگ فاٹا میں بھڑک اٹھتی ہے۔ کبھی اس کا رخ پشاور کی جانب ہوجاتا ہے اور کبھی یکدم کوئٹہ، راولپنڈی، گجرات ، لاہور اور کراچی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔

یہ تو پاکستانی سماج کی خوبی اور باہمی تعلقات کی مضبوطی ہے جو ریاست ڈگمگائی نہیں وگرنہ کوئی اور معاشرہ ہوتا تو کب کا اکھڑ چکا ہوتا۔ سترہ سالہ جنگ، پچاس ممالک کا دباؤ، عالمی طاقتوں کی سازشوں اور معاشی تنگدستی کے باوجود پاکستان میں زندگی کے رواں دواں رہنے نے اس بات کو بھی ثابت کردیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاستیں آخر تک برقرار رہتی ہیں۔

وگرنہ تاریخ میں کئی ایسی ریاستیں گذریں جن کا ڈھانچہ شخصی نظریات پر تعمیر ہوا۔ ادھر شخصیتیں رخصت ہوئیں ادھر معاشرے تقسیم در تقسیم کے عمل سے گذرتے ہوئے بالآخر ٹوٹ گئے۔ پاکستان نے تو پھر سینکڑوں خودکش حملے، ہزاروں ہلاکتیں سہہ لیں۔

اس یورپ کا بھی تو سوچئے جہاں فقط ایک دھماکہ پورے ملک میں خوف و ہراس طاری کر دیتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ٹھہرا دوسروں کے ہاں آگ بھڑکانے والے خود بھی محفوظ نہیں رہتے۔

آج نہیں تو کل دہشت گردی کی یہ آگ بالآخر ان ممالک کا بھی رخ کرے گی جو افغانستان میں پناہ گزین پاکستان مخالف گروپوں کو سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...