کامریڈ عبدالکریم بزنجو سے کامریڈ عبدالقدوس بزنجو تک!

کامریڈ عبدالکریم بزنجو سے کامریڈ عبدالقدوس بزنجو تک!
 کامریڈ عبدالکریم بزنجو سے کامریڈ عبدالقدوس بزنجو تک!

مستقبل انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے نہ آنے والے لمحوں کا علم ہے نہ آنے والے کل کا، کیا ہونے والا ہے یہ سب کچھ مستقبل کے پردے میں موجود ہوتا ہے لیکن انسان بے خبر ہوتا ہے ہم نے تاریخ میں باد شاہوں کو تخت سے اترتے ہوئے دیکھا ہے اور کبھی کبھی ان کے سر اترتے ہوئے دیکھے ہیں ایران کے انقلاب میں شاہ کو اپنے خاندان کے ساتھ دنیا نے فرار ہوتے اور انقلاب کے امام کو آتے ہوئے دیکھا یہ بھی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ تھا عرب دنیا میں تاریخ نے جس لمحے میں خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کو برسراقتدار دیکھا تو ملوکیت کے حکمرانوں کے سروں کی فصل کٹتے ہوئے دیکھی گئی۔

تاریخ میں یہ لمحہ کتنا المناک تھا ۔ ملوکیت کی پوری تاریخ میں علم بغاوت کرنے والوں کے سروں کی فصل کاٹی گئی یہ اسلامی دنیا میں ملوکیت کے جبر و استبداد کی تاریخ ہے ۔

مصر میں اخوان المسلمین کے فرزندوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور تختہ دار پر ان کے رہبروں کو چڑھتے ہوئے دیکھا اور فاشسٹ حکومتوں میں بھی ایسا ہی کھیل کھیلا گیا جمہوری حکومت فاشزم کی طرف گئی تو ہم نے اس عبرت ناک منظر کو بنگلہ دیش میں دیکھا تو بنگلہ دیش کے بانی اور بنگلہ بند ھو شیخ مجیب الرحمان اور اس کے ساتھیوں کو گولیوں کی باڑ مارکر موت کی نیند سلادیا اور آزادی کے رہنماء کی لاش کو سرکاری رہائشگاہ سے تین دن تک اٹھانے والا کوئی نہ تھا اس منظر کو ہم نے افغانستان کے انقلاب ثور کے برپا ہوتے ہوئے بھی دیکھا جنرل داؤد کو اس کے خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا نور محمد ترہ کئی صدر افغانستان جو ایک عمر رسیدہ شخص تھے اپنے شاگردوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے گئے پھر نجیب کو چوراہے پر لٹکتے ہوئے دنیا نے دیکھا مشرق وسطیٰ کی سرزمین خون آشام بن گئی ہے جس موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں اس سے پہلے ایک اپنے ہمسایہ ممالک اور مشرق وسطیٰ میں ڈالی ہے اور پاکستان میں سیاسی حکمران بھٹو کے خلاف عوامی تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیاء نے اسے تختہ دار پر کھینچا پاکستان میں وقفہ وقفہ سے جمہوریت پر شب خون مارا گیا ہے جمہوریت ہمیشہ خطرے میں کھڑی نظر آئی ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو جمہوری بنیاد پر وجود میںآیا ووٹ کی بدولت اس کی تخلیق ہوئی اس لئے عوام مسلسل جمہوریت کی طرف ہی دیکھتے ہیں ۔

اس تجزیہ کا مقصد عوام کو یہ جمہوریت کے فوائد کی طرف متوجہ کرنا ہے ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس کا ایک دستور بھی ہے اور پیپلزپارٹی کو تاریخی طور پر یہ کریڈٹ حاصل رہے گا کہ بھٹو کے دور حکومت میں ایک اسلامی دستور تشکیل دیا گیا پاکستان خوش قسمت ملک ہے جو دستور کے تحت مستقبل کی طرف اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اس پس منظر میں بلوچستان میں ایک جمہوری عمل کے ذریعے بڑی آسانی سے تبدیلی آگئی ہے اس تبدیلی میں نوجوان ممبران اسمبلی کا کارنامہ ہی نظر آتا ہے ہوسکتا ہے پس پردہ کوئی سایہ حرکت پذیر رہا ہو لیکن وہ نگاہوں سے پوشیدہ ہی رہا۔

اس جمہوری عمل میں بلوچستان دھیرے دھیرے ایک نئے سفر پر گامزن ہے اور غیر محسوس طریقے سے سیاسی اور تاریخی سفر پررواں دواں نظر آرہا ہے اس سفر کو طے کرنے میں کافی وقت لگا ہے اور تاریخ میں پہلی بار اقتدار پرایک عام شخص جلوہ گر ہوا اور وہ عبدالمالک کی صورت میں تھا تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کی اہم نشست پر نہ نواب تھا نہ کوئی جاگیردار نظر آیا اور اس کا یہ سفر نصف مرحلے کیلئے تھا اور طے ہوگیا وہ کامیاب تھا ،یا ناکام رہا تاریخ اس کا فیصلہ ضرور کرے گی اور اس کے بعد دور اقتدار پر ایک نواب نظر آیا اور وہ اپنا دور اقتدار پورا نہ کرسکا یہ المیہ بھی ہے اور نااہلی بھی ۔ نا اہلی اس حوالے سے کہ جناح روڈچھ ماہ سے زائد عرصہ تک مکمل نہ ہوسکی یہ نااہلی اعلیٰ درجہ کی تھی اس عرصہ میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نے سات ماہ میں لاہور کے اندر دو کلومیٹر کے قریب انڈر پاس مکمل کرلی اور بلوچستان میں حکومت اخبارات میں صرف منصوبے مکمل کرتی رہی اور محکمہ اطلاعات کے ذریعے اشتہارات میں بلوچستان جنت نگاہ دکھائی دے رہا تھا موجودہ وزیراعلیٰ ان گزشتہ اشتہارات کا بھی جائزہ لے لیں تو بہتر ہے تاکہ انہیں کوئی اور محکمہ اطلاعات کا آفیسر مغالطے میں نہ رکھ سکے اشتہارات کومقالے کی شکل نہ دے سکے اور صحافیوں کے اس گروہ سے بھی وزیراعلیٰ کو دامن بچانا چاہئے جو وزیراعلیٰ کے تبدیل ہونے کے بعد نئے وزیراعلیٰ کو شیشے میں اتارنے کا فن جانتا ہے اور یہ گروہ لیلائے اقتدار کے گرد مکھیوں کی مانند بھنبھناتا ہوا نظر آتا ہے یہ اقتدار کے پجاریوں کا ایک گروہ ہے ایک ایسا ہی دلچسپ اور عبرت ناک منظر مجھے نواب رئیسانی کے دور حکومت میں نظر آیا یہ ٹولہ اس کے گرد جمع تھا وہ بھی مطمئن تھے اور لطیفے سناتے رہتے تھے جب اقتدار سے محروم ہوئے تو ان کا کوچہ ویران نظر آیا اورکسی صحافی کو اس کوچہ میں جاتے ہوئے نہ دیکھا اس کی ویرانی پر وہاں جب بھی گزرتا ہوں تو ملال ہوتا ہے اور افسوس ہوتا ہے لیکن اقتدار کا نشہ ایسا چڑھتا ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا اور جب اقتدار سے انسان اترتا ہے تو وہ خلامیں ہی گھورتا ہوا نظر آتا ہے ۔

ہم نے ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی اسی رنگ میں دیکھا ہے اب عبدالقدوس بزنجو کا دور حکومت ہے کیا وہ اس مفاد پرست گروہ سے جان چھڑا سکیں گے۔

یہ ایک سیاسی سفر ہے جس کا آغاز ہوگیاہے اقتدار کی کرسی پر ایک عام شخص نظر آرہا ہے اور وہ ہے عبدالقدوس بزنجو اس سے عام لوگ مل سکتے ہیں کسی نواب یا سردار سے ملنے کے لئے عام شخص کو کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتاہے بلوچ معاشرہ ابھی تک سرداری نوابی اور جاگیرداری نظام سے مکمل نہیں نکل سکا ہے۔

اس سے پشتون معاشرہ نکل گیا ہے لیکن وہ ملاؤں کی گرفت میں چلا گیا ہے اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے اس رنگ کو توڑنے کی کوشش کی ہے وہ کسی حد تک کامیاب رہی ہے تاریخ میں پشتونخواہ میپ اور نیشنل پارٹی نے کوشش کی کہ جمیعت علماء اسلام کو اقتدار سے دور رکھے اور وہ کامیاب رہے اب اقتدار کے آخری مرحلے میں اس نے نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کامیاب رہی ہے مولانا فضل الرحمان محترم مرکز میں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور بلوچستان میں اس کے مخالف گروہ کے حمایتی بنے ہیں اور حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب وہ حزب اختلاف کے قائد کا عہدہ بھی سنبھالنا چاہتی ہے مگر وہ تو حکومتی مفادات کے ساتھ ہے اس لئے حقیقی حزب اختلاف کے قائد کا انتخاب دستوری تقاضا بن گیا ہے جمعیت نے ووٹ دیا ہے اس لئے اس کی قیمت وصول کرنا چاہتی ہے پہلے مرحلے پر اس نے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے کو طلب کرلیا ہے اور اب اس کی نظر ڈپٹی اسپیکر کی نشست پر ہے جان جمالی کی نگاہیں بلوچستان اسمبلی کی اسپیکر شپ پر جمی ہوئی ہے جمالی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے ہیں۔

سیاست کا تسلسل ٹوٹ گیا تھا ،لیکن اب عبدالقدوس بزنجو نے اقتدار کی دہلیز پار کرکے ان کے سر پر وزارت اعلیٰ کا نام سجادیا گیا ہے اچھا لگ رہا ہے کہ اقتدار نوابوں سرداروں جاگیرداروں کی بجائے ایک عام جوان مستحق ٹھہرا ہے نوابوں اور سرداروں اور جاگیرداروں نے ووٹ دیا ہے یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایوب خان کے دور سے سرداروں اور نوابوں کے خلاف جدوجہد کرتی چلی آرہی ہے لیکن وہ بھی ان سرداروں اور نوابوں کی گرفت سے نکل نہیں پائی لیکن ایک دن تاریخ میں ان کی جدوجہد کو بار آور ضرور دیکھے گی بی ایس او کے لیڈر ڈاکٹر عبدالمالک کا وزیراعلیٰ بننابی ایس او کی جدوجہد کا نتیجہ تو تھا مختصر لیکن اقتدار کی دھلیز بی ایس او نے ہی پار کی ہے قابل تعریف اور قابل تحسین عمل ہے یہ بھی ایک تاریخ کا لمحہ ہے جو تاریخ میں نقش ہوگیا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...