عمران خان اور چائنہ ماڈل

عمران خان اور چائنہ ماڈل
عمران خان اور چائنہ ماڈل

برطانیہ کے مشہور اخبار ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ میں اتوار 4 فروری کو عمران خان کا ایک طویل انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں بہت سے سیاسی موضوعات پر تفصیل سے بات کی گئی ۔

یہ انٹرویو نوجوان صحافی بین جوڈاہ نے لیا جو کم عمری میں ہی پہلے امریکہ میں ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ اور اب برطانیہ کے ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ میں اپنے کام کا لوہا منوا چکے ہیں۔

شروع میں وہ اپنے والد مشہور صحافی ٹم جوڈاہ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، لیکن اب ان کی وجہ شہرت انٹرویو لینے کا منفرد انداز ہے جس میں وہ کرید کرید کر انٹرویو دینے والی مشہور شخصیات کی تمام پرتیں کھول کر دیتے ہیں کہ پڑھنے والا اس شخص کی ذات کے اندر تک اتر جاتا ہے، جیسا کہ ایک زمانے میں اٹلی کی اوریانہ فلاسی ایسے انٹرویوز لینے کے لئے پوری دنیا میں مشہور تھیں۔

کچھ ایسا ہی انہوں نے عمران خان کے ساتھ کیا، جن کا انٹرویو لینے وہ خاص طور پر پاکستان آئے اور منڈی بہاؤالدین میں لئے گئے انٹرویو میں عمران خان کی شخصیت کا مکمل ایکسرے کر ڈالا۔

انہوں نے عمران خان سے سوال پوچھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے، جہاں کروڑوں لوگ خطِ افلاس سے نیچے رہنے پر مجبور ہیں، اس لئے پاکستان میں غربت کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ کیا کریں گے؟

عمران خان نے جواب دیا کہ وہ غربت کا مقابلہ چائنہ ماڈل سے کریں گے۔ اس پر بین جوڈاہ نے عمران خان سے چائنہ ماڈل کے خدو خال پوچھے تو عمران خان کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ تھا۔ اس موقع پر موجود اسد عمر نے یہ کہہ کر عمران خان کی جان چھڑائی کہ عمران خان کو سٹریٹجی کے معاملات کا علم نہیں ہے۔

بہر حال اس سے ایک بات تو واضح ہوئی کہ عمران خان جو باتیں کرتے ہیں، ان میں سے اکثر کا انہیں خود علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پاکستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے کہ وہ بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے علاوہ معاشی استحکام کے لئے چین کی طرف دیکھ رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سی پیک کو پاکستان کے لئے گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں صرف چائنہ ماڈل کہہ دینا اور اس کے بارے میں واجبی سی معلومات بھی نہ رکھنا انتہائی فکر مندی کی بات ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے عمران خان اپنے پانچ سالہ دور میں خیبر پختون خوا میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہ لا سکے۔ پاکستانی عوام اب اتنے باشعور ضرور ہو چکے ہیں کہ نعروں اور سامنے نظر آنے والے کاموں کے درمیان فرق دیکھ سکیں۔

اگر عمران خان 2013ء کا الیکشن ہارنے کے بعد پانچ سال دھرنوں اور سپریم کورٹ کے مقدمات میں ضائع کرنے کی بجائے خیبر پختون خوا میں تبدیلی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرتے اور اپنی پارٹی کو ہر سطح پر منظم کرتے تو شائد آنے والے الیکشن میں لوگ ان کی تبدیلی یا نئے پاکستان کے نعرے کو سنجیدگی سے لیتے، لیکن اب ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا اور محسوس نہیں ہوتا کہ 2018ء کے الیکشن میں وہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

ایک زمانہ وہ تھا جب عمران خان کے ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ میں کرکٹ سٹار کی حیثیت سے انٹرویو چھپا کرتے تھے، ان کی اصل فیلڈ کرکٹ ہی تھی جس میں انہوں نے کامیابیاں اور عالمی شہرت حاصل کی۔عمران خان کے انٹرنیشنل کرکٹ اور سیاست دونوں میں کیرئیر 21،21 سال کے ہیں، پہلے1971ء سے 1992ء تک 21 سال انٹرنیشنل کرکٹ اور چار سال کے وقفے کے بعد 1996ء سے اب تک یعنی 2018ء تک ملکی سیاست ، لیکن دونوں سفر بہت مختلف ہیں۔ جہاں کرکٹ میں بے شمار کامیابیوں کی داستان ہے وہیں سیاست میں کامیابی بہت حد تک محدود ہے، شائد اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر عمران خان ایک کرکٹر ہیں اور سیاست میں گرومنگ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات غلط فیصلے کرتے ہیں یا اگر فیصلے درست بھی ہوں تو ان کی ٹائمنگ درست نہیں ہوتی۔

بہر حال ان کی سیاسی اننگ ابھی جاری ہے، جس میں وہ ہنوز کسی بڑی کامیابی کے منتظر ہیں۔ تین ماہ بعد اپریل میں پاکستان تحریک انصاف کے سیاست میں 22 سال پورے ہو جائیں گے،دی سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والا انٹرویو اگرچہ طویل اور دلچسپ ہے،اس سے ان کے مائنڈ سیٹ کی بہت حد تک عکاسی ہوتی ہے۔

عمران خان چونکہ وزارتِ عظمی کے ایک سنجیدہ امیدوار ہیں۔ اس لئے ان کے ذہن کو سمجھنا پاکستانی قوم کے لئے ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا حق بھی ہے ۔

جب سے عمران خان سیاست میں آئے ہیں، مختلف مواقع پر مجھے نظریاتی طور پر کنفیوز لگے۔ خاص طور پر دہشت گردی، طالبان، نظامِ انصاف، اعلیٰ عدلیہ، گورننس، خارجہ پالیسی اور معیشت وغیرہ پر ان کے اپنے بیانات میں اکثر کافی تضاد دیکھا گیا ہے، جیسے ان کا ذہن بہت سے اہم معاملات میں خود کلئیر نہیں ہے۔

یہی وہ تضادات ہیں جن کی وجہ سے مختلف قومی اور سیاسی معاملات پر عمران خان کا بیانیہ نحیف محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر پانامہ اور اقامہ کے معاملے پر سپریم کورٹ کے خود ساختہ ترجمان بن کر شیخ رشید اور عمران خان نے سپریم کورٹ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے بولتے ہیں، خود ساختہ ترجمان نہیں، بلکہ اگر زیادہ گہرائی میں دیکھا اور زیادہ سنجیدگی سے سوچا جائے تو سخت سے سخت تنقید بھی سپریم کورٹ کونقصان نہیں پہنچاتی، لیکن خود ساختہ ترجمان اسے گھائل کر دیتے ہیں۔

چار حلقے کھولنے اور دھرنا دینے سے لے کر آج تک عمران خان کی جانب سے آئے تمام بیانئے کمزور ثابت ہوئے اور آج صورت حال یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے نا اہل کئے گئے میاں نواز شریف کا بیانیہ عوام کی آواز بن چکا ہے۔

شائد وہ وقت گذر چکا ہے، جب عمران خان ٹھنڈے دماغ سے سوچتے کہ ان سے سیاست میں کن مواقع پر کون کون سی غلطیاں ایسی ہوئیں جن کا مداوا ممکن نہیں تھا ، بلکہ میرے نزدیک یہ سوچنے کا وقت بھی نکل چکا ہے کہ انہیں خارِ زار سیاست میں قدم رکھنا بھی چاہئے تھا کہ نہیں؟

پچھلے بیس سال سے میں بار بار اس خیال کا اظہار کرتا رہا ہوں کہ عمران خان کا اصل میدان سیاست نہیں، بلکہ کرکٹ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔خیر، اسے ایک جملہ معترضہ سمجھ کر ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ میں شائع ہونے والے طویل انٹرویو پر فوکس کرنا چاہئے، کیونکہ پچھلے بیس بائیس سال سے عمران خان کی سیاست میں جو کنفیوژن دیکھی جا رہی تھی، وہ بین جوڈاہ جیسے کہنہ مشق صحافی نے بہت حد تک ایک جگہ اس طرح سمو کر دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ کے انٹرویو نے پوری طرح عیاں کر دی ہے کہ عمران خان طالبان کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

جس طرح چین کی اقتصادیات اور سی پیک کے بارے میں محض چائنہ ماڈل کہہ دیتے ہیں، لیکن اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ چائنہ ماڈل کیا ہوتا ہے؟

بالکل اسی طرح عمران خان بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے باہر نکل آنا چاہئے، لیکن جب بین جوڈاہ نے ان سے پوچھا کہ اس جنگ سے باہر نکلنے کے لئے ان کے پاس کیا حکمت عملی ہے تو طالبان کی تعریفیں کرنے کے علاوہ عمران خان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ ملک سے دہشت گردی جڑ سے ختم ہو اور پاکستان میں ترقی اور خوش حالی کا دور دورہ ہو، لیکن کیا یہ طالبان کی مدد سے ہوگا جو پاکستان میں دہشت گردی کی سینکڑوں یا شائد ہزاروں کارروائیوں میں ساٹھ ستر ہزار بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں؟ مسئلہ طالبان کو اچھا یا برا کہنے سے حل نہیں ہوگا، کیونکہ بھارت، افغانستان اور امریکہ کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کو سنگین صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے اور اب اطلاعات کے مطابق بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان ایجنسی این ڈی ایس سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے لئے جامع منصوبہ بندی کر چکی ہیں۔

عمران خان دہشت گردی کے خلاف سوال پر صرف طالبان کی تعریف کرکے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں اور یہاں پر بھی اسد عمر کی وضاحت سے کام چلایا جاتا ہے کہ خان صاحب سٹریٹجی کے آدمی نہیں ہیں۔

عمران خان جب کچھ نہ جانتے ہوئے چائنہ ماڈل کی بات کرتے ہیں تو مجھے ان کے ساتھی فاسٹ باؤلر سرفراز نواز کے شاہد آفریدی کے بارے میں ریمارکس یاد آجاتے ہیں کہ وہ چائنہ کا موبائیل ہے، چل گیا تو چل گیا نہ چلا تو نہ چلا۔

عمران خان کے تمام بیانئے جس طرح تیزی سے باؤنس بیک ہو رہے ہیں ، میرے خیال میں اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کی بجائے عمران خان کی شخصیت کے بارے میں بین جوڈاہ کے تبصروں سے محضوظ ہونا زیادہ بہتر ہے جو ’’دی سنڈے ٹائمز‘‘ میں لکھتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں،کیونکہ انہیں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بوڑھا ہوجانے کے باوجود اپنے بالوں کی زیادہ فکر رہتی ہے۔

طالبان پاکستان میں عمران خان کو اگلا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن پاکستان کو موجودہ سنگین اندرونی اور بیرونی حالات میں طالبان کی پسند کی نہیں، بلکہ ایک ایسی تجربہ کار قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو ان سے موثر طریقے سے باہر نکال سکے۔

پاکستان کی کرکٹ بہت نیچے جا چکی ہے ، میرے خیال میں عمران خان کو چائنہ ماڈل کی بجائے پاکستان کو ایک اچھا کرکٹ ماڈل دینا چاہئے جس میں ان کی مہارت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...