نواز شریف، آصف علی زرداری کے نشانے پر

نواز شریف، آصف علی زرداری کے نشانے پر
نواز شریف، آصف علی زرداری کے نشانے پر

  

مجھے نہیں یاد کہ عمران خان نے نواز شریف کو کبھی پاکستان کا ناسور کہا ہو، آصف علی زرداری انہیں یہ خطاب بھی دے گئے ہیں، اتنے سخت اور تلخ لفظوں کا استعمال کرکے آصف علی زرداری یہ ثابت کررہے ہیں کہ پنجاب کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے بھی کشتیاں جلا دی ہیں۔

سندھ کے حوالے سے تو وہ اس لئے بے فکر ہوچکے ہیں کہ اب کراچی اور حیدر آباد بھی ایم کیو ایم کی کُلّی دسترس میں نہیں رہے، کیونکہ وہ خود حد درجہ انتشار کا شکار ہے اور اس کے حصے بخرے نوشتہ دیوار بن چکے ہیں۔

زرداری کی اب ساری توجہ پنجاب پر ہے، جہاں سے نواز شریف کو نکالے بغیر ان کی مراد پوری نہیں ہوسکتی۔ اب ایک طرف نواز شریف نے کشتیاں جلا دی ہیں اور دوسری طرف آصف علی زرداری کے لب و لہجے سے بھی لگ رہا ہے کہ وہ مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے تمام کشتیاں جلا چکے ہیں، اور انہوں نے اپنے پرانے حلیف نواز شریف کو نشانے پر لے لیا ہے۔

موچی دروازہ لاہور کے جلسے میں انہوں نے عمران خان کے بارے میں ایک بات نہیں کی، بلکہ سارا زور نواز شریف کو کرپٹ، غدار اور چورلٹیرا ثابت کرنے پر لگایا۔ پندرہ منٹ کے خطاب میں آصف علی زرداری بہت سے پیغامات دے گئے۔ ان کی اس تقریر سے تو یوں لگتا ہے ان کے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے پا گئے ہیں، مثلاً ان کا یہ کہنا کہ اب دھاندلی نہیں ہوگی، اب پیپلز پارٹی جیتے گی اور مرکز کے ساتھ ساتھ صوبوں میں بھی حکومتیں بنائے گی، پھر ان کا بلوچستان حکومت گرانے میں اپنا کردار تسلیم کرنا اور یہ تک کہہ دینا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ پورا بھی ہوتا ہے، ایسی باتیں ہیں جو آصف علی زرداری کے کسی خفیہ مشن کا پتہ دے رہی ہیں۔

میں تو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف نا اہلی کے بعد سے اب تک جو کچھ کررہے ہیں، وہ انہیں فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا رہا ہے، وہ اور کچھ نہیں تو ان کے مخالفین کے لئے ایک ایسا مواد بنتا جارہا ہے جس پر وہ اپنی انتخابی مہم چلا سکتے ہیں، آصف علی زرداری تو اب رکنے کا نام نہیں لے رہے، انہوں نے چند روز پہلے نواز شریف کو دھرتی کا بوجھ قرار دیا تھا، اب انہیں دھرتی کا ناسور کہہ دیا ہے۔

یہ غصے کی انتہا ہے، جو آصف علی زرداری پہلی بار دکھا رہے ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف نے حالیہ عرصے میں آصف علی زرداری کو کبھی ہدف تنقید نہیں بنایا، ان کا سارا زور پانچ ججوں کو جانبدار ثابت کرنے پر صرف ہورہا ہے۔

میاں صاحب کو یہ مان لینا چاہئے کہ اس بیانیے کے ساتھ وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے، کیونکہ یہ کوئی سیاسی بیانیہ نہیں ہے، اس بیانیے کی وجہ سے ان کی باتوں میں ایک عجیب قسم کی بے ربطگی نظر آتی ہے، مثلاً مظفر آباد کے جلسے میں ان کا یہ کہنا کہ ان کی حکومت ختم نہ کی جاتی تو آج کوئی نوجوان بے روزگار نہ رہتا۔۔۔ اپنے چار برسوں میں نواز شریف نے کیا دودھ کی نہریں بہائی تھیں کہ اس آخری سال میں وہ مزید بہا دیتے۔۔۔ پھر حکومت تو آج بھی انہی کی ہے، شاہد خاقان عباسی ہر دوسرے جملے میں ان کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔

سب کچھ تو ان سے پوچھ کر کرتے ہیں، پھر ایسی باتوں سے عوام کو کیسے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے، جو زمینی حقیقتوں کے برعکس ہوں، نواز شریف ایک ہی نکتے کو پکڑ کر ایک ایسا سیاسی خلا چھوڑتے جارہے ہیں، جسے آگے چل کر بھرنا ممکن نہیں رہے گا۔ آصف علی زرداری اور عمران خان کے لئے تو بہت آسان ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو آئین و اداروں کے خلاف سرگرم جماعت بنا کر پیش کریں اور عوام کو یہ باور کرادیں کہ نواز شریف کو اگر دوبارہ اقتدار سونپا گیا تو ملک کی سلامتی کے لئے خطرناک ہوگا، کیونکہ ان کا ایجنڈا فوج اور عدلیہ کو نیچا دکھانا ہے۔

عوامی تحریک کے زیر اہتمام مال روڈلاہور پر جو ناکام جلسہ ہوا تھا، اس کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے غالباً آصف علی زرداری نے موچی گیٹ میں جلسے کا ٹاسک دیا۔ انہوں نے خود جلسے میں یہ کہا کہ لاہور کی تنظیم نے بہت کم وقت میں اس جلسے کا انتظام کیا اور اسے کامیاب بنایا۔

اس جلسے نے پیپلز پارٹی کے لئے لاہور میں قدم جمانے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے، شاید اسی کو دیکھ آصف زرداری نے اپنے خطاب میں چوکے چھکے لگائے۔

آصف علی زرداری کی سیاسی چالیں بہت مشہور ہیں۔ وہ داؤ پیچ آزمانا شروع ہوچکے ہیں، انہوں نے ایک طرف جنوبی پنجاب کو اپنی ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا ہے اور دوسری طرف وہ لاہور میں اپنی سیاسی طاقت کو منوا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کو سینٹ کی تین نشستیں دینے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے اور بلاول بھٹو زرداری بھی اس علاقے کے نگران مقرر کردیئے گئے ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) ہے، جس کے پاس پنجاب میں سینٹ کی بہت سی نشستیں ہیں، مگر پورے جنوبی پنجاب سے کسی کو بھی سینٹ کا ٹکٹ نہیں دیا جارہا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ عمران خان کے مقابلے میں آصف علی زرداری کے ساتھ اہم سیاسی لوگوں کو معاملات طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے، پھر آصف علی زرداری کے پاس پاورشئرنگ کا جو انمول کارڈ ہے، وہ اسے بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً انہوں نے خود لاہور کے جلسے میں کہا کہ بلوچستان میں صرف ارکانِ اسمبلی کو عزت دینے کی ضرورت تھی۔ ہم نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور وہ اپنی پارٹی کے خلاف متحد ہوگئے۔ اپنا یہ کارڈ تو وہ کہیں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

اس وقت پاکستانی سیاست کے تین بڑے نام ہیں۔ آصف علی زرداری، نواز شریف اور عمران خان، نواز شریف اگرچہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے، تاہم پارٹی پر ان کی گرفت مضبوط ہے اور عوام کی حمایت بھی رکھتے ہیں۔ آصف علی زرداری اور عمران خان اپنی جماعتوں کو لیڈ بھی کریں گے اور انتخابات میں حصہ بھی لیں گے۔ آصف علی زرداری نے تو بلاول بھٹو اور آصفہ زرداری کے بھی انتخابات میں حصہ لینے کی نوید سنا دی ہے۔

نواز شریف اور مریم پر احتساب عدالت کی تلوار بھی لٹک رہی ہے، اگر انہیں سزا نہ ہوئی تو مریم نواز بھرپور طریقے سے میدان میں ہوں گی۔ مریم نواز عدلیہ کے خلاف بہت سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔

یہ بات ان کی شخصیت کے حوالے سے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑ رہی۔ نواز شریف کو جلسوں میں صرف ایک ہی دکھڑا سنانے کی بجائے مستقبل میں مسلم لیگ (ن) کے منشور کا ذکر کرنا چاہیے۔

یہ دل خوش کن نعرہ لگانے کی بجائے، رکاوٹیں ختم ہونے والی ہیں۔ عوام کو یہ سچ بتانا چاہئے کہ وہ اگلی بار وزیراعظم نہیں ہوں گے، لیکن مسلم لیگ (ن) ان کی خدمت کے لئے حاضر رہے گی۔

ایک طرف نواز شریف کے پاس نیب کیسوں میں صفائی دینے کے لئے کچھ نظر نہیں آرہا اور دوسری طرف وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے خلاف اعلان بغاوت کررہے ہیں۔ یہ تو اپنی داڑھی مخالفین کے ہاتھ میں دینے والی بات ہے، یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری انہیں ایسے القابات سے نواز رہے ہیں، جن کی اس سے پہلے سیاست میں مثال نہیں ملتی۔

مزید : رائے /کالم