19لانسر کا سانحہ!

19لانسر کا سانحہ!
19لانسر کا سانحہ!

  

3فروری 2018ء کی شب جب ٹیلی ویژن پر یہ خبر فلیش ہوئی کہ کبل (سوات) میں رسالے کی ایک یونٹ کے درجن بھر جوان اور آفیسرز شہید ہو گئے ہیں اور درجن سے زیادہ زخمی ہیں تو دل میں فریادوفغاں کے ساتھ ساتھ کئی خیالات بجلی کی سی تیزی کے ساتھ آئے اور تن بدن میں ایک ہیجان سا برپا کر گئے۔

بتایا گیا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جو یونٹ کے سپورٹس کمپلیکس میں کھیلے جانے والے ایک والی بال میچ کے دوران کیا گیا

مجھے یہ سن کر حیرانی ہوئی۔ حیرانی اس بات پر تھی کہ کیا یونٹ کی چوکسی (گارڈ) اتنی ہی نرم اور ادھوری تھی کہ دہشت گردوں کو وار کرنے کا موقع مل گیا۔

میں نے سوات میں کئی دوستوں سے رابطہ کیا تو 19 لانسرکے کمانڈانٹ سے معلوم ہوا کہ خبر گیری اور چوکسی میں نرمی کی خبر غلط تھی۔ یہ یونٹ در اصل مین سڑک کے ساتھ ساتھ ڈیپلائے تھی۔ اس سڑک پر دن رات ٹریفک کا ہجوم رہتا ہے۔

اسی ٹریفک میں خود کش بمبار بھی چلا آیا اور یونٹ ایریا (لبِ سڑک) میں آکر خود کش دھماکہ کر دیا۔ جو لوگ شہید ہوئے ان کی تعداد 11 تھی جن میں ایک آفیسر (کیپٹن جاذب) ایک جے سی او (نائب صوبیدار زاہد) اور 9 دوسرے عہدیداران شامل تھے جن میں حوالدار سے لے کر سپاہی اور NCB یعنی غیر لڑاکا بیٹ مین تک شامل تھے۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد 13 تھی جن میں ایک آفیسر (لیفٹیننٹ عدیل) اور 12 سولجرز شامل تھے۔

کمانڈانٹ نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعلان کیا کہ یونٹ کا مورال بلند ہے، شہیدوں اور مجروحین کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب چکایا جائے گا اور شہداء کی تدفین سے جونہی فارغ ہوئے اگلے لمحے حملہ آوروں سے دو دو ہاتھ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ یہ بھی کہا کہ ہماری جانیں پاکستان سے زیادہ قیمتی نہیں۔

میں نے یہ سن کر اطمینان کا سانس لیا کہ چوکسی میں نرمی والی خبر میں کچھ صداقت نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود جو حملہ ہوا اس سے درج ذیل نتائج نکالے جا سکتے ہیں:

-1 خود کش حملہ آور اکیلا نہیں تھا، اس کے مدد گار اور شریکِ جرم اور بھی ہوں گے۔

-2 مقامِ حادثہ چونکہ پاک افغان سرحد سے کوسوں پیچھے ہے اس لئے یہ خیال کرنا کہ سرحد پار سے آکر لوگوں نے حملہ کیا ہے بعید از قیاس ہوگا۔یہ خود کش بمبار اور اس کے سہولت کار اسی علاقے (کبل) کے گرد و نواح کے لوگ ہی ہوں گے۔

-3 سوات کے یہ علاقے ابھی تک دہشت گردوں سے پوری طرح پاک نہیں ہوئے۔ سرحد کے اس حصے پر اگرچہ باڑ لگائی جا چکی ہے اور جگہ جگہ قلعہ بندیاں بھی تعمیر کر کے ان میں ٹروپس مورچوں میں بیٹھے ہیں لیکن دہشت گرد 2611 کلومیٹر طویل سرحد کے کسی بھی علاقے سے داخل ہو کر سوات آجا سکتے ہیں۔

یہ ساری سرحد تو ابھی تک سیل نہیں ہو سکی۔ اسے کم از کم ایک سال سے زیادہ عرصہ مزیددرکار ہوگا۔ یہ سارا علاقہ پورس ہے یعنی جگہ جگہ ایسے بہت سے راستے ہیں جن کو با آسانی عبور کر کے پاکستانی علاقے میں آیا جا سکتا ہے۔

-4 اوریہ جو کئی لاکھ افغان مہاجرین ہم نے 38, 37 برسوں سے پال رکھے ہیں ان میں سے ایک ایک پر نگاہ رکھنا کیسے ممکن ہے؟

-5 پاکستان میں مولوی فضل اللہ کے حمائتی ابھی تک موجود ہیں۔ معلوم ہوتا ہے وہ افغانستان میں ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کے جھرمٹ میں بیٹھا پلاننگ کر رہا ہے اور افغان سیکیورٹی ایجنسیوں سے مل کر اس طرح کے حملے کروا رہا ہے۔

-6 ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ دنوں کابل میں طالبان کے حملوں میں جو 128 لوگ مارے گئے تھے ان میں افغان نیشنل آرمی/ پولیس کے متعدد لوگ بھی شامل تھے۔سوات کا یہ حملہ ان طالبان حملوں کا جواب بھی ہو سکتا ہے۔ گویا افغانستان نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ وہ ہماری ریگولر آرمی پر بے دھڑک حملے کر سکتا ہے اور کثیر جانی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

-7 پاکستان کی مشرقی سرحد (لائن آف کنٹرول) پر کئی ماہ سے مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں اور ان میں فریقین کے ٹروپس مارے جا رہے ہیں اور زخمی بھی ہو رہے ہیں۔

لیکن اس مغربی سرحد پر حملے کا یہ جانی نقصان اتنا کثیر ہے کہ افواجِ پاکستان کے اربابِ اختیار کو اپنی یونٹوں اور فارمیشنوں کی داخلی نگرانی اور چوکسی کے معاملے میں سہل انگاری کے الزام سے بری الزمہ قرار دینا محلِ نظر سے۔

رسالے کی یونٹ ہو یا کسی اور آرم/ سروس کی کسی بھی حجم کی کوئی یونٹ یا سب (Sub) یونٹ ہو تو اس کے لئے اپنے الاٹ شدہ پیرا میٹر کے اندرونی حلقے کی سلامتی کا بندوبست کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔۔۔ اور 19 لانسر کوئی ایسی یونٹ / رجمنٹ نہیں جو حال ہی میں کھڑی کی گئی ہو اور اس کے طریقہ ہائے کار (SOPs) ابھی پوری طرح ٹیسٹ نہ کئے گئے ہوں۔

19 لانسر پاکستان آرمی کی ایک ٹینک رجمنٹ ہے۔ یہ تقسیم سے پہلے 1922ء میں کھڑی کی گئی تھی۔ اور 1947ء میں جب پاکستان قائم ہوا اور یہ ہمارے حصے میں آئی تو یہ برٹش انڈین آرمی کی ایک ریگولر کیولری رجمنٹ تھی جس کا نام’’ 18 کنگ جارج پنجم کی اپنی یونٹ‘‘ تھا۔

لیکن قیام پاکستان کے بعد اسے 19 لانسر کے نام سے پاکستان آرمی کو الاٹ کر دیا گیا۔ یہ ایک جنگ دیدہ اور جنگ آزمودہ رجمنٹ ہے جس نے سیکنڈ افغان وار (1878-80ء)، تیرہ کی مہم (1897ء) فرسٹ ورلڈ وار (1914-18ء)، سیکنڈ ورلڈ وار (1939-45)، انڈو پاک وار (1965ء) اور صومالیہ کی لڑائی (1993-95ء) میں حصہ لیا اور ان تمام معرکوں میں پروفیشنل کارکردگی کے جوہر دکھائے۔

بعض قارئین کو شائد لفظ لانسر کے پس منظر کا علم نہ ہو تو ان کے لئے عرض ہے کہ دوسری جنگ عظیم جب یکم ستمبر 1939ء کو شروع ہوئی تو کسی بھی ملک کی فوج کے پاس کوئی ٹینک یونٹ یا رجمنٹ نہیں تھی۔ صرف جرمنی وہ واحد ملک تھا جس کے پاس ٹینکوں کی یونٹیں تھیں۔

ٹینک کی ایجاد پہلی جنگ عظیم کے دوران ہوئی۔ اس جنگ میں برطانیہ نے کیمبرائی کی لڑائی (1917ء) میں ٹینکوں کا محدود پیمانے پر استعمال کیا۔ ٹینک برطانیہ کی ایجاد تھا جسے جرمنی نے باقاعدہ فوج کے ایک لڑاکا صیغے (Arm) کے طور پر اپنایا۔ جب 1939ء میں دوسری عالمی جنگ ہوئی تو دنیا کی ساری افواج کے پاس گھوڑوں کی یونٹیں اور رجمنٹیں تھیں جن کو کیولری کہا جاتا تھا۔لاہور کینٹ کا کیولری گراؤنڈ بھی انہی ایام کی یاد گار ہے جس میں ہر صبح گھوڑوں کو فالن کر کے ان کی پریڈ کروائی جاتی تھی!

جرمنی کو اتحادیوں کے ہاتھوں پہلی عالمی جنگ میں شکست فاش ہوئی تھی اور جرمن فوج کی تعداد محدود کر کے ایک لاکھ کر دی گئی تھی جس میں صرف 4 ہزار آفیسرز اور 96 ہزار ٹروپس تھے۔

بھاری ہتھیار از قسم ہوائی جہاز، توپ، آبدوز وغیرہ ممنوع قرار دیئے گئے تھے۔ ہٹلر کی نگاہ جب ایک ایکسرسائز کے دوران ٹینک پر پڑی تھی تو اس کے منہ سے بے اختیار نکلاتھا: ’’یہی تو وہ ہتھیار ہے جو میرا خواب تھا!‘‘

چنانچہ جرمنی نے دھڑا دھڑ ٹینک یونٹیں تشکیل دینی شروع کر دیں جن کو حملے میں ہراول کے طور پر استعمال کرنے کا ڈاکٹرین زیر بحث آنے لگا۔ لیکن چونکہ دنیا کی افواج میں لاکھوں کی تعداد میں گھوڑے تھے اس لئے گھڑ سوار فوج کے افسروں نے ٹینکوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔۔۔

لیکن ٹینک ہی وہ واحد ہتھیار تھا جس کی بدولت ہٹلر کی نازی افواج نے آن کی آن میں سارے یورپ کو فتح کر لیا۔

گھوڑے اور خچر لاکھوں کی تعداد میں مارے گئے۔ اور جب دورانِ جنگ جرمنی کی دیکھا دیکھی دنیا بھر کی افواج کوسینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ٹینک بنانے پڑے تو گھڑ سوار فوج کے جرنیلوں نے واویلا مچانا شروع کردیا۔ وہ صدیوں کی اپنی عسکری روایات کا جنازہ اٹھتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ہزاروں جرنیلوں اور سینئر افسروں کو اپنے گھوڑوں سے گلے مل کر زارو قطار روتے اور بلکتے دیکھا گیا۔۔۔ یہ مناظر آج بھی جنگ عظیم دوم کی تاریخ کا ایک یاد گار حصہ ہیں!

گھڑ سوار دستوں کی انہی یونٹوں کو رسالہ بھی کہا جاتا تھاان کی مزید درجہ بندی کر کے ان کو لانسر (Lancer) ہارس (Horse) اور کیولری (Cavalry) کے نام دے دئے گئے۔۔۔ لانس کو اردو میں نیزہ کہا جاتا ہے۔ یہ نیزہ، گھڑ سوار دستے کا ایک موثر ہتھیار ہوتا تھا۔ اس کے باقی ہتھیاروں میں تیر کمان ، تلوار اور ڈھال قابل ذکر تھے۔ گھڑ سوار اپنے نیزے (لانس) کو درمیان میں ہاتھ سے پکڑ کر انفنٹری پر چارج کرتا تو پیادہ فوجیوں کا کچو مرنکل جاتا اور جب کوئی گھڑ سوار دوسرے گھڑ سوار کے مقابل آتا تو گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور نیزوں کی ضرب کی جھنکار سے سارا میدان جنگ گونجا کرتا۔۔۔ اس طرح ایک خاص نسل کے چھوٹے قد کے گھوڑے کی یونٹ بنا کر اس کو ’ہارس‘ کا نام دیا گیا اور یہیحال کیولری کا بھی تھا۔ کیولری، ہارس اور لانسر یونٹیں گھڑ سوار فوج کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ ان کے ہتھیاروں اور سازو سامان میں البتہ تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا تھا بالکل اسی طرح جس طرح بھاری توپخانے اور ہلکا توپخانے وغیرہ میں ہوتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب لاکھوں گھوڑوں کو خود اپنے ہاتھ سے گولیاں مار کر قتل کرنا پڑا تو رسالے کے افسروں کی حالت دیدنی تھی۔ ان کو جب ٹینک یونٹوں پر ٹریننگ دینے کا وقت آیا تو انہوں نے نئی ٹینک یونٹوں کو بھی لانسر، ہارس اور کیولری کا نام دینے پر اصرار کیا جسے فوج نے منظور کر لیا۔۔۔

ہماری19 لانسر، 24 کیولری اور 15 ہارس وغیرہ تمام کی تمام یونٹیں، ٹینک یونٹیں ہیں لیکن ان کے نام پرانی گھڑ سوار یونٹوں کی یاد دلاتے ہیں۔

1965ء کی جنگ میں 19 لانسر نے چار محاذوں پر داد شجاعت دی۔ کشمیر میں آپریشن گرینڈ سلام میں حصہ لیا۔ قصور کھیم کرن کی لڑائی میں شرکت کی اور چونڈہ (سیالکوٹ) کی لڑائیوں میں بھی دشمن کے دانت کھٹے کئے۔

کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ 19 لانسر کے شاندار عسکری ماضی کی حامل ایک تجربہ کار اور جنگ آزمودہ یونٹ کی چوکسی کس طرح سہل کوشی کا شکار ہوئی یا خودکش بمبار نے کس طرح پوری ایک پلاٹون (24 جوانوں/ عہدیداروں/ افسروں) کو شہید اور زخمی کر دیا! ۔۔۔ اس سانحے کی تحقیقات کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکے گاکہ اس جاں گسل اور دلگداز سانحے کا اصل سبب کیا تھا۔

مزید : رائے /کالم