ایس ای سی پی نے کمپنی کے نام کے حصول کو کمپنی کی رجسٹریشن کے عمل کا حصہ بنا دیا

ایس ای سی پی نے کمپنی کے نام کے حصول کو کمپنی کی رجسٹریشن کے عمل کا حصہ بنا دیا

اسلام آباد(اے پی پی) سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کاروبار کو آسان بنانے کیلئے اصلاحات کے تسلسل میں نئی کمپنی کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید سہل بناتے ہوئے کمپنی کیلئے نام کے حصول اور بعد ازاں کمپنی کی رجسٹریشن کو ایک ہی عمل کا حصہ بنا دیا۔ کمپنی کی رجسٹریشن کے طریق کار میں اس نمایاں تبدیلی کے بعد اب آن لائن طریقے سے کمپنی کی رجسٹریشن چار گھنٹوں میں ممکن ہو سکے گی۔ ایس ای سی پی کی جانب سے کمپنی کے نام کی درخواست اور کمپنی کی رجسٹریشن کے عمل کو اکٹھا کرنا ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کاروبار کے لئے آسانیاں فراہم کرنے والے عوامل کے عین مطابق ہے۔ کمپنی رجسٹریشن کے طریق کار میں تبدیلی کے بعد اب کمپنی رجسٹرڈ کرانے کے خواہش مند افراد کو صرف ایک درخواست جمع کروانی ہو گی جس میں کمپنی کے لئے تین نام تجویز کرنے ہوں گے جبکہ اسی درخواست کے ساتھ ہی مجوزہ کمپنی کا میمورنڈم آف ایسو سی ائیشن اور آرٹیکلز آف ایسوسی ائیشن بھی جمع کروانے ہوں گے۔ کمپنی کی رجسٹریشن کی درخواست کے ساتھ ہی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا نام بھی ساتھ ہی تجویز کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کی رجسٹریشن کے مختلف مرحلوں کو یکجا کرنے سے کمپنی رجسٹریشن کی فیس میں بھی نمایاں کمی ہو گئی ہے۔ کمپنی کا نام محفوظ کروانے اور کمپنی کی رجسٹریشن کے عمل کو یکجا کرنے سے ایک کمپنی جس کا ادا شدہ سرمایہ ایک لاکھ روپے تک ہو، کی آن لائن رجسٹریشن کی فیس پندرہ سو پچاس روپے ہے جبکہ مینول طریقے سے یہ فیس تین ہزار روپے ہے۔

پہلے آن لائن طریق سے رجسٹریشن کی فیس دو ہزار تین سو روپے تھی جبکہ کمپنی رجسٹریشن کی مینول فیس چار ہزار پانچ سو روپے تھی۔ ایس ای سی پی ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے لئے سہل اور سادہ طریق کار کی اہمیت سے آگاہ ہے اور ایسی اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی جس سے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے اور کارپوریٹ سیکٹر کو فروغ حاصل ہو۔

مقامی صنعت نے سندھ کی مجوزہ لیبر پالیسی مسترد کردی

اجرت پہلے ہی خطے کے دیگرممالک سے زائد،حکومت مہنگائی کنٹرول کرے

کراچی(اکنامک رپورٹر ) مقامی صنعتی شعبے نے سندھ کی مجوزہ لیبر پالیسی میں سندھ ٹرائی پارٹائٹ لیبر کانفرنس کی لیبر کی ماہانہ اجرت 25ہزار روپے تک بڑھانے کی تجویز کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے تاحال نئی لیبرپالیسی سے متعلق مقامی صنعتی شعبوں کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔کراچی کی ساتوں صنعتی علاقوں کی نمائندہ ایسوسی ایشنزپرمشتمل اجلاس میں حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی لیبرکی اجرت خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے، حکومت مہنگائی میں کمی میں ناکامی کا ملبہ لیبر کی اجرت بڑھانے کی صورت میں صنعتکاروں پر ڈالنے کے بجائے مہنگائی پر کنٹرول کرے۔2014میں غیرہنرمند لیبر کی ماہانہ اجرت 11ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی تھی اوراس وقت ڈالرکی قدر101روپے تھی اور مہنگائی کنزیومر پرائس انڈیکس کے لحاظ 8.62فیصد تھی، 2014 سے 2017تک ڈالر ایکس چینج ریٹ 9فیصد بڑھ کر 110.55روپے تک پہنچ گیا جبکہ اس دوران مہنگائی کنزیومر پرائس انڈیکس میں 4.16فیصد کمی ہوئی جبکہ لیبر کی ماہانہ اجرت میں 36فیصد اضافہ ہو کر 11ہزار روپے سے بڑھ کر 15ہزار ماہانہ تک پہنچ گئی جو کہ خطے میں سب سے ذیادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اندرون سندھ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں لیبر کی کم از کم اجرت 10ہزار روپے سے بھی کم ہے، حکومت سندھ پہلے اندرون سندھ میں منظور شدہ 15ہزار روپے لیبر اجرت کا اطلاق یقینی بنائے، انھوں نے کہا کہ حالیہ لیبر اور انڈسٹرئیل ریلیشنز کے حوالے سے 16صوبائی قوانین کا اطلاق کیا گیا ہے جس کی تشکیل میں بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے طلب نہیں کی گئی۔ایسوسی ایشنز کی دی گئی سندھ لیبر پالیسی کے مسودے پر تاریخ 25جنوری 2017درج ہے جس میں کہاگیا ہے کہ لیبر اور انڈسٹرئیل ریلیشنز سے متعلق 16صوبائی قوانین مرتب کیے جائیں گے اوران میں سے 11قوانین حکومت منظور کر چکی ہے جبکہ بقیہ 5قوانین اس وقت تک منظور نہیں ہوئے۔صنعتی شعبے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایک سال پرانامسودہ ایسوسی ایشنز کوارسال کیا گیا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق بقیہ نا منظورہ شدہ 5قوانین بھی فروری 2017سے جنوری2018کے دوران منظو ر ہو چکے ہیں مگر ڈرافٹ لیبر پالیسی کو موجودہ تمام منظور شدہ قوانین کے مطابق تجدید نہیں کی گئی، سندھ کی صنعتوں میں کراچی کا حصہ 80فیصد جبکہ صوبے کے لیے ریوینیو فراہم کرنے میں کراچی کا کردار تقریباً 90 فیصد ہے جبکہ کراچی کی صنعتیں سب سے ذیادہ ملازمت کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔مسودے کی تیاری میں صرف چند لوگوں سے مشاورت کی گئی جو کہ انتہائی نامناسب ہے لہٰذا تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنائی جائے۔صنعتی شعبہ کاکہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں لیبر کی کم از کم اجرت 68ڈالر، بھارت میں 115ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں لیبر کی ماہانہ اجرت 135ڈالرز ماہانہ بنتی ہے۔ پاکستان میں بنگلہ دیش کی نسبت لیبر کی اجرت 98فیصد اور بھارت کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہے۔اسی طرح پاکستان میں صنعتی گیس کے نرخ بنگلہ دیش کی نسبت 126فیصد، بھارت کی نسبت 62.87فیصد اورویتنام کی نسبت 26.5فیصد زائد ہیں، اسی طرح پاکستان میں صنعتی بجلی کے نرخ بنگلہ دیش اور بھارت سے 22فیصد اور ویتنام کی نسبت 37فیصد زیادہ ہیں۔پانی کے نرخ ملک بھر میں 0.50ڈالر جبکہ کراچی میں 2.30ڈالر فی ہزار گیلن ہیں۔ یہ مہنگے انڈسٹرئیل ان پٹس صنعتوں کی چلانے کی لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذاانھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،لہٰذا اس صورت میں ایکسپورٹ انڈسٹری مستقل بنیادوں پر 100فیصد تنخواہ پر لیبر رکھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے گارمنٹس فیکٹریوں میں عموماً کام کی مناسبت سے کنٹریکچول لیبر رکھی جاتی ہے۔پیک سیزن میں عموماً لیبر کی اوسطاً تعد اد 5سو افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو ایکسپورٹ آرڈر مکمل ہونے کے پروڈکشن بند ہونے کی صورت میں گھٹ کر 5رہ جاتی ہے۔

سعودی لیبر سسٹم کی خلاف ورزی پر سزاؤں کا سامنا ہو گا،وزارت محنت

ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی دہرائے جانے پر سزا دْگنی ہو جائے گی،بیان

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں محنت اور سماجی ترقی کے وزیر علی الغفیص نے مملکت میں لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق کر دی ۔عرب ٹی وی کے مطابق اگر آجر نے غیر سعودی ورکر کو ورک پرمٹ میں دیے گئے پیشے کے سوا کسی دوسرے پیشے میں کام کروایا یا پھر لیبر آفس میں ادارے کا کھاتہ نہ کھلوایا یا ادارے کی معلومات کی تجدید نہ کرائی تو ایسی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔آجر کی جانب سے ورکر کی مرضی کے بغیر اس کا پاسپورٹ یا اقامہ یا میڈیکل انشورنس کارڈ اپنے پاس رکھنے کی صورت میں2 ہزار ریال جرمانہ لاگو ہو گا۔ اسی طرح ادارے کے قواعد و ضوابط نہ ہونے یا ان پر کاربند نہ ہونے کی صورت میں جرمانے کی مالیت 10 ہزار ریال ہو گی۔ آجر کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پرفائل اپلوڈ نہ کرنے کی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح ادارے کی جانب سے ورکروں کے لیے مقررہ چھٹیوں کے نظام پر عمل درامد نہ کرنے پر جرمانے کی رقم 10 ہزار ریال ہو گی۔ علاوہ ازیں سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق پیشہ ورانہ انتظامی امور کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں 15 ہزار ریال جرمانہ ہو گا۔وزیر محنت کے فیصلے کے مطابق ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی کے دْہرائے جانے کی صورت میں دی جانے والی سزا ہر مرتبہ گزشتہ خلاف ورزی سے دْگنی ہو جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے پر لازم ہو گا کہ وہ جرمانہ یا سزا لاگو ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر اس کو پورا کرے۔ مذکورہ مدت کے اندر ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے خلاف ورزی کا دْہرانا شمار کیا جائے گا جس کے نتیجے میں سزا بھی دْگنی ہو جائے گی۔وزارت محنت نے واضح کیا کہ ورک مارکیٹ کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق وہ خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے چارٹ کی تجدید کرتی رہتی ہے۔

جنوبی کوریا، سام سنگ کے وائس چیئرمین کو کرپشن پر 5سال کی سزا معطل

سیؤل (آن لائن)سام سنگ کے وائیس چیئرمین کو گزشتہ سال کرپشن پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی مگر اب وہ معطل کردی گئی ہے۔اسمارٹ موبائل تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کے وائس چیئرمین لی جائے یونگ پر سابق جنوبی کورین صدر پارک گوین ہَے کو غیر قانونی طریقے سے مالی مدد دینے کا الزام تھا، جس پر گزشتہ سال انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔تاہم اب لگ بھگ ایک سال جیل میں گزارنے والے لی جائے یونگ کی سزا کو عدالت نے معطل کردیا ہے، مگر اب بھی انہیں اگلے چار سال پروبیشن پر گزارنے ہوں گے۔سام سنگ کے وائس چیئرمین پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق خاتون صدر پارک گوین ہے کی دوست کو چوئی سون سل کو ایک فیصلہ کرنے کے لیے 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالررشوت کی پیشکش کی۔خیال رہے کہ اسی کرپشن کیس میں ہی جنوبی کوریا کی سابق صدر اور ان کی دوست چوئی سون سل کو بھی عدالت کی جانب سے سزا ہوچکی ہے۔خاتون صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف کمپنیوں سے پیسے بٹورے، جب کہ انہوں نے اپنی سہیلی چوئی سون سل کو اہم سرکاری دستاویزات تک رسائی دی۔گزشتہ برس مارچ میں جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے خاتون صدر پارک گیَن ہے کو اپنے عہدے سے برطرف کردیا تھا، جب کہ ان کی دوست کو پہلے ہی قید کی سزا سنادی گئی تھی۔اسی کرپشن کیس کے سلسلے میں سام سنگ کے وائس چیئرمین سمیت کمپنی کے دیگر 4 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف جنوری 2017 سے کارروائی جاری تھی۔

آسٹریلیا، مرکزی شرح سود کو کم سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان

سڈنی (اے پی پی) آسٹریلیا میں مرکزی شرح سود کو کم سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے مرکزی بینک کی رواں سال کے پہلے اجلاس کے بعد ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے گورنر فلپ لوئی نے کہا کہ ملک میں افراط زر کی شرح نرم پالیسی ریٹ تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مرکزی شرح سود کو 1.50 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔ آسٹریلیا میں نان مائننگ سیکٹر کو فروغ دینے کے لئے اگست 2016ء کے بعد سے شرح سود میں کمی یا بیشی نہیں کی گئی ہے۔ بینک نے کہاکہ موجودہ مالیاتی پالیسی معاشی ترقی کو سہارا دے رہی ہے تاہم قرضوں کا حجم زیادہ ہے اور گھریلو آمدنی میں آہستگی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

جرمنی، دھاتی صنعت کے مزدوروں کے کام کے ہفتہ وار اوقات میں 28 گھنٹے کی کمی

فرینکفرٹ (اے پی پی) جرمنی میں دھاتی صنعت کے مزدوروں کے کام کے ہفتہ وار اوقات میں 28 گھنٹے کی کمی کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق جرمنی میں بااثر دھاتی صنعت میں کام کرنے والے 3 لاکھ 90 ہزار مزدوروں کی نمائندہ میٹل ورکنگ یونین ’آئی جی میٹال‘ کا مزدوروں کے کام کرنے کے ہفتہ وار اوقات میں 28 گھنٹے کمی کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا جس کے لئے یونین اور انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ’آئی جی میٹال‘ ایک ماہ سے مزدوروں کے کام کے ہفتہ وار اوقات میں 28 گھنٹے کی کمی اور معاوضوں میں اضافے کے لئے یومیہ گھنٹہ وار ہڑتال پر تھی۔ اس رعایت کا فائدہ کار ساز ،بجلی اور الیکٹرانکس کے آلات اور دھات سازی کی صنعت میں کام کرنے والے 9 لاکھ مزدوروں کو ہوگا جن کے کام کرنے کے میں 2003ء سے کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی تھی تاہم صنعتی اداروں نے اس رعایت کو عارضی طور 6 ماہ سے 24 ماہ تک برقرار رکھنے کا وعدہ کیا ہے جس کے دوران دیکھا جائے گا کہ اس رعایت سے پیداوار تو متاثر نہ ہو گی۔

ونیزویلا، بولیوار کی قدر یورو کے مقابلے 86.6 فیصد تک گر گئی

کراکس (اے پی پی) ونیزویلا کی کرنسی بولیوار کی شرح تبادلہ یورو کے مقابلے ریکارڈ 86.6 فیصد تک گر گئی۔ منگل کو ونیزویلا کے سنٹرل بینک کے مطابق یورو بولیوار آکشن میں یورو کے مقابلے بولیوار کی سرکاری شرح تبادلہ 4,146.13 بولیوار ہو گئی ہے جو کہ ملکی کرنسی کی قدر86.6 فیصد تک گرنے کو ظاہر کر رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ڈالر آکشن گذشتہ سال ستمبر سے نہیں کیا گیا۔ ونیزویلا میں کرنسی کنٹرول کے لئے کرنسی کی سرکاری شرح تبادلہ ’ڈی کام‘ نامی ایکسچینج میں غیرملکی کرنسیوں کو خریدنے کے ذریعے طے ہوتی ہے جہاں عام لوگوں یا اداروں کی رسائی بہت محدود رکھی جاتی ہے۔

ٹویوٹا کو گزشتہ سال اپریل تا اکتوبر کے دوران 18.3 بلین ڈالر خالص منافع حاصل

ٹوکیو (اے پی پی) جاپانی کار ساز ادارے ٹویوٹا کو گزشتہ سال اپریل تا اکتوبر نو ماہ کے دوران 2016ء کے اس عرصہ کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ خالص منافع حاصل ہوا۔ ٹویوٹا جو جاپان کا نمبر ایک کار ساز ادارہ ہے، نے منگل کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھیں21.8 ٹریلین ین کی سیل پر اپریل تا اکتوبر 2017ء کے دوران 40 فیصد زیادہ 2 کھرب ین (18.3 بلین ڈالر) خالص منافع حاصل ہوا ہے اور ان نو ماہ میں ان کی گاڑیوں کی سیل اپریل تا دسمبر 2016ء کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ رہی ہے۔

بٹ کوئن کی شرح تبادلہ میں20 فیصد کمی،6,200 ڈالر سے نیچے گر گئی

ٹوکیو (اے پی پی) کرپٹو کرنسی بٹ کوئن کی شرح تبادلہ 20 فیصد گراوٹ کے ساتھ 6,200 ڈالر سے نیچے گر گئی جس کی وجہ دنیا بھر کی سٹاکس اور فوریکس مارکیٹ میں چھا جانے والی مندی ہے۔ منگل کو بٹ سٹمپ ایکسچینج کے تحت ورچوئل کرنسی کی شرح تبادلہ 6,190 ڈالر رہی، بٹ کوئن کی شرح تبادلہ میں گذشتہ سال26 گنا اضافہ ہوا تھا اور ریکارڈ19,511ڈالر پر گئی۔ اس وقت بھی ماہرین نے اس کی قدر میں 50 فیصد تک کمی آنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ یورپ،جاپان اور امریکا کے سنٹرل بینکوں نے اس یونٹ بارے اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں اور کہا ہے کہ انھوں نے اپنے کسٹمرز کو کریڈٹ کارڈز کے بٹ کوئن کی خریداری سے روک دیا ہے۔

مزید : کامرس