آئندہ سینٹ الیکشن، ایم، کیو، ایم (پاکستان) دھڑے بندی کا شکار

آئندہ سینٹ الیکشن، ایم، کیو، ایم (پاکستان) دھڑے بندی کا شکار

یہ سطور شائع ہوں گی تو ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف ہونے والی بغاوت اور بعدازاں ڈاکٹر فاروق ستار کے جوابی وار کی تمام ترتفصیلات میڈیا میں آچکی ہوں گی۔ ایم کیو ایم(پاکستان) جس نے 23اگست 2016ء کو الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر سے اظہار لاتعلقی کرکے ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں کام کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کی سب سے بڑی طاقت ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے قومی، صوبائی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان تھے یہ طاقت اب بکھرگئی ہے اور سینٹ انتخاب میں مزید بکھرے گی اتوار کی شب سینٹ کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم پر ہونے والا رابطہ کمیٹی کا اجلاس تنازعہ کا شکار ہوگیا، ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف بغاوت کرنے والے رابطہ کمیٹی کے ارکان جن کی قیادت عامر خان کررہے ہیں، کہتے ہیں کامران ٹیسوری کو کسی صورت سینٹ کا ٹکٹ نہیں لینے دیں گے، قابل ذکربات یہ ہے عامر خان کے ساتھ محترمہ نسرین جلیل، رکن قومی اسمبلی خالد مقبول، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن، رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی، فیصلسبز واری سابق رکن قومی اسمبلی امین الحق جیسے ایم کیو ایم کے اہم رہنما شامل ہیں جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے خلاف بغاوت کرنے والوں کے بارے میں جوابی الزام میں کہا ہے کہ کامران ٹیسوری کو سینٹ کا ٹکٹ نہ دینا تو ایک بہانہ ہے۔ اصل کھیل میری سربراہی کو بے اختیار بنانا ہے، عامر خان کی قیادت میں بغاوت کرنے والے رابطہ کمیٹی کے ارکان نے کامران ٹیسوری کی رکنیت چھ ماہ کے لئے معطل کرکے رابطہ کمیٹی کی ڈپٹی کنویز شپسے فارغ کرنے کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے خلاف بغاوت کرنے والے رابطہ کمیٹی کے سارے ارکان کی رکنیت ورکرز کنونشن کے اجلاس تک معطل کر دی ہے ڈاکٹر فاروق ستار نے اعلان کیا ہے کہ ورکرز کنونشن میں وہ کچھ کہوں گا جو آج تک نہیں کہا ہے، ایم کیو ایم کے سینٹ کے چار ارکان ریٹائر ہورہے ہیں ایم کیو ایم میں سینٹ کے لئے ٹکٹوں پر محترمہ نسرین جلیل،بیرسٹر فروغ نسیم، امین الحق اور شبیر قائم خانی کے ناموں پر اتفاق اور کامران ٹیسوری کے نام پر شدید اختلاف پیدا ہوگیا تھا، کامران ٹیسوری کا شمار ایم کیو ایم کے نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ میں ہوتا ہے اور اس سے بھی اہم ان کی شہرت ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ پسندیدہ شخصیت کی ہے، جس کا اعتراف ڈاکٹر فاروق ستار کرتے ہیں اور خود کامران ٹیسوری بھی ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ سے اپنے تعلقات کو بروئے کار لاکر ایم کیو ایم کو ریلیف دلانے میں اپنی خدمات گنواتے رہتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار اپنے خلاف ہونے والی بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہوتے ہیں یانہیں؟ اس سے قطع نظر زمینی حقائق یہ ہیں کہ اب سندھ کے شہری حلقوں میں اردو بولنے والوں کا ’’مہاجر کارڈ‘‘ ووٹ بنک تو موجود ہے، مگر اس ووٹ بنک کا کوئی ایک ہول سیل ایجنٹ اس وقت نہیں ہے اس سے بھی اہم زمینی حقیقت یہ ہے 1987ء کے بلدیاتی انتخاب سے لے کر 2013ء کے عام انتخاب کے بعد پہلی بار ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے ووٹوں کی سینٹ کے لئے انفرادی خریدو فروخت دیکھنے کو ملے گی ورنہ اس سے پہلے ہمیشہ پارٹی قائد تنہا بارگین ایجنٹ تھے، ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی کی جو تعداد ہے۔ وہ چار سینیٹر منتخب کراسکتی ہے، مگر لگتا ہے کہ اگر ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف ہونے والی بغاوت برقرار رہی تو ایم کیو ایم کے لئے اپنا ایک سینٹر بھی منتخب کرانا آسان نہیں ہوگا اس کا سارا فائدہ جناب آصف علی زرداری کو ہوگا۔ جو اس وقت اس ’’منڈی‘‘ کے سب سے بڑے ’’سرمایہ کار‘‘ کی شہرت رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے باہر کے ووٹوں کی مدد سے دو مزید سینٹر منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی اور بلوچستان سے تین سینٹر، خیبرپختونخوا سے کم از کم دو اور فاٹا سے کم از کم تین سینٹر بہ آسانی کامیاب کرائے گی، جناب آصف علی زرداری کے دست راستسینیٹر قیوم سومرو نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں اس سوال کا جواب کہ جہاں کی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا کوئی رکن ہی نہیں ہے۔ وہاں کی اسمبلی سے آپ اپنا سینٹر کیسے منتخب کرائیں گے؟ یہ کہہ کر دے دیا تھا کہ ’’سینٹ میں آزاد امیدواروں کے انتخاب لڑنے پر آئین نے کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے‘‘۔ دیکھتے ہیں کہ ’’سینٹ الیکشن کی سیاست میں‘‘ ترغیبی فارمولا‘‘ کے تحت کیا کچھ سامنے آتا ہے جناب آصف علی زرداری کا بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمہ میں اپنے کردار کا اعتراف اپنی جگہ درست ہے یہ کام تو پیپلز پارٹی ستر کے عشرے میں بھی انجام دے چکی ہے 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کا بلوچستان سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں کوئی ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوا تھا اور صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخوا) میں قومی اسمبلی میں ایک امیدوار کامیاب ہوا تھا اور صوبائی اسمبلی میں صرف تین امیدوار، مگر اس کے باوجود بلوچستان اسمبلی میں اکثریت رکھنے والے وزیر اعلیٰ سردار عطاء اللہ خان مینگل کی حکومت برطرف کرکے ’’گاجر اور ڈنڈا‘‘ کے فارمولہ پر عمل کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت بلوچستان صوبے میں قائم کرلی تھی۔ بلوچستان کی اسمبلی میں ایک بھی رکن نہ ہونے کے باوجود اگر ذوالفقار علی بھٹو نے وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم کرانے، وہاں سے سینٹ میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر منتخب کرانے میں کوئی عار نہیں سمجھا تھا تو ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کے داماد آصف علی زرداری یہی کام آج کر رہے ہیں تو کیا برا کر رہے ہیں؟ البتہ آج معاملہ اس اعتبار سے ذرا مختلف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بعد آج الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے اور سپریم کورٹ نے بھی بری حکمرانی کی جگہ اچھی حکمرانی قائم کرانے کی ذمہ داری از خود نوٹس کے ذریعہ اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے دیکھئے سینٹ کے انتخاب میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے لئے لگنے والی ’’منڈی‘‘ کا الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ از خود نوٹس لیتی ہے یا نہیں؟ فاٹا کے ارکان تو آزاد ہیں مگر قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں جو ارکان آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے انہوں نے کسی نہ کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس لئے دستوری پابندی کے تحت وہ اس امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند ہیں۔ جس کو اس پارٹی نے نامزد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس ہر پارٹی کے ارکان کی تعداد موجود ہے اس لئے اگر وہ ایکشن لینا چاہے گا تو اس کے لئے ’’چمک‘‘ کے ذریعہ منتخب ہونے والے سینیٹرزکی نشاندہی مشکل نہیں ہو گی۔ تین مارچ کو ڈے آف پولنگ ایک ووٹ کس بھاؤ دستیاب ہوگا؟ آج کا بھاؤ بھی بتانے والے پانچ سے سات کروڑ بتا رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف کے بارے میں سندھ میں عمومی تاثر یہ تھا کہ وہ سندھ میں اپنی پارٹی کو ’’زرداری مفاہمت‘‘ پر قربان کر چکے ہیں۔مگر اب میاں نوازشریف اپنے حوالہ سے پیدا ہونے والے اس ’’تاثر‘‘ کو دور کرنے کی شعوری کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں ان کا حالیہ دو روزہ دورہ کراچی اسی سلسلے میں بتایا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کراچی کے سیکریٹری اطلاعات ناصر الدین محمود کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف نے وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان کو کراچی میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو کا ’’ٹاسک‘‘ دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ ہر سیٹ پر انتخاب لڑنے کے لئے مضبوط امیدواروں کی فہرست بنائیں تاکہ ان کے نام پارلیمانی بورڈ کو پیش کئے جا سکیں۔ ناصر الدین محمود کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں نوازشریف نے سندھ میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مقامی طور پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔ جناب سینٹرمشاہد اللہ خان کی قیادت میں قائم کمیٹی کیا انتخابی حکمت عملی اختیار کرے گی؟ اس حوالہ سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم سینٹر مشاہد اللہ خان کا انتخاب اس اعتبار سے ایک درست فیصلہ ہے کہ وہ کراچی کے زمینی حقائق سے بھی آگاہی رکھتے ہیں اور ایک تجربہ کار سیاسی کارکن بھی ہیں اور جناب مخدوم جاوید ہاشمی کی طرح زمانہ طالب علمی سے ہی ریاستی جبرو تشدد کے سامنے مردانہ وار مقابلہ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ انکا ماضی میں تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے رہا ہے۔ اس نامہ نگار کو سندھ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل شاہ محمود شاہ نے بتایا کہ میاں نوازشریف عنقریب اندرون سندھ جلسوں سے خطاب کرنے آئیں گے۔ جس کا آغاز ٹنڈو اللہ یار اور میر پور خاص سے ہوگا۔مسلم لیگ (ن) کے ذمہ داران کی توقعات اپنی جگہ مگر مسلم لیگ کو سندھ میں فعال اور متحرک کرنے کے لئے جلسے کرنا کافی نہیں ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف کو اس ’’تاثر‘‘ کو دور کرنے میں بہت کچھ کرنا پڑے گا جس سے مایوس ہو کر ان کے پرانے ساتھی یا تو خاموش ہو گئے یا پھر دوسری جماعتوں میں شامل ہو گئے۔ 2013ء کے عام انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کو کراچی سے ایک لاکھ سے زائد ووٹ اور اندرون سندھ سے کئی لاکھ ووٹ ملے تھے۔ لاڑ کانہ جیسے شہر میں اس کے امیدواروں کو ہزاروں ووٹ ملے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے کئی امیدوار اندرون سندھ سے منتخب ہوئے اور کئی امیدوار چند سو ووٹوں سے ہارے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا تھا۔ اس وقت بھی اندرون سندھ اور کراچی سے مسلم لیگ (ن) کی سندھ اسمبلی میں نمائندگی تو ہے مگر یہ ارکان اسمبلی میاں نوازشریف کے حالیہ دورہ کراچی میں نظر نہیں آئے۔ جسکا مطلب ہے کہ یا ان سے رابطہ نہیں کیا گیا یا انہوں نے از خود آنے سے احتراز کیا۔ وہ ابھی دیکھ رہے ہیں کہ الیکشن میں آصف علی زرداری کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ اگر آصف علی زرداری اپنے دعوؤں کے مطابق مسلم لیگ (ن) سے سینٹ کی چیئرمین شپ جیتنے میں کامیاب ہو گئے تو آنے والے انتخاب میں سندھ میں مسلم لیگ (ن) کو اتنی نشستیں بھی نہ مل پائیں گی جتنی 2013ء کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر اور آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت سے مل گئی تھیں۔ البتہ ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی میاں نوازشریف اپنی جارحانہ پالیسی سے یہ ’’تاثر‘‘ ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ نا اہل ہونے کے بعد سیاست میں ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ میاں نوازشریف کے شدید ذاتی اور سیاسی مخالف اب سندھ میں بر ملا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ نا اہل ہونے کے باوجود اس وقت ملک کے سب سے زیادہ مقبول عام عوامی لیڈر ہیں۔ عدلیہ کے بارے میں ان کے انداز تخاطب سے اختلاف رکھنے والے لوگ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تکنیکی بنیاد پر ان کو نا اہل قرار دیئے جانے کا فیصلہ ہمیشہ متنازعہ رہے گا اور مورخ اس فیصلے کو مولوی تمیز الدین کیس کی طرح کا تکنیکی فیصلہ قرار دے کر مسترد کرے گا۔ اس دورے میں میاں نوازشریف نے یوں تو کئی پروگراموں سے خطاب کیا جس میں تاجروں اور صنعت کاروں سے بھی خطاب تھا جس کو منعقد کرانے میں گورنر سندھ محمد زبیر مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور حال ہی میں پیپلزپارٹی کو خیر باد کہہ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے معروف صنعت کار اور روز نامہ جنگ کے کالم نگار اشتیاق بیگ کا فعال کردار رہا۔ تاہم میاں نوازشریف نے ’’جمہوریت‘‘ کے مستقل عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں جو کلیدی خطاب کیا وہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ پاکستان کی آئینی تاریخ پر مولوی تمیز الدین کیس سے لے کر اپنے عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کے فیصلوں پر اظہار خیال کیا۔ اس سیمینار کا اہتمام سندھ مسلم لیگ (ن) کے سکریٹری جنرل شاہ محمد شاہ نے کیا تھا اور ان کے بیٹے بیرسٹریاسر شاہ کی کوششوں کو بڑا دخل تھا اس سیمینار سے میر حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی،آئی اے رحمان، مہتاب اکبر راشدی صاحبہ انیس ہارون غلام شاہ اور دیگر نے خطاب کیا میاں نوازشریف کے اس دورہ کی اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے سرکاری وسائل استعمال نہیں کئے۔ انہوں نے قیام بھی ہوٹل میں کیا اور آمد و رفت کے لئے سرکاری گاڑی بھی استعمال نہیں کی۔ ان کے لئے گاڑی کا بندوبست میر حاصل بزنجو نے کیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1