جرمن مسجد پر بم حملے سے مثال قائم کرنا چاہتا تھا، ملزم کا اعتراف

جرمن مسجد پر بم حملے سے مثال قائم کرنا چاہتا تھا، ملزم کا اعتراف

برلن(این این آئی)مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن میں مسلمانوں کی ایک مسجد پر بم حملے کے ملزم نے اعتراف کر لیا ہے کہ اس حملے کے ساتھ وہ ایک مثال قائم کرناچاہتا تھا۔ یہ حملہ ڈیڑھ سال قبل ایک مسجد اور اس سے ملحقہ ایک کانفرنس سینٹر پر کیا گیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک عدالتی کارروائی کے دوران اس حملے کے ملزم نے یہ اعتراف تو کر لیا کہ ستمبر 2016ء میں جرمنی کے اسی مشرقی شہر میں آئی سی سی مسجد اور اس سے ملحقہ کانفرنس سینٹر کو بم حملے کا نشانہ اسی نے بنایا تھا۔تاہم ساتھ ہی ملزم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی طرف سے گھر پر بنائے گئے اس بم کے دھماکے میں کسی انسانی جان کو کوئی خطرہ ہو۔ اس وقت اس ملزم کی عمر 31 برس ہے اور اس نے قریب ڈیڑھ سال پہلے ایک بالٹی میں دھاتی پائپوں اور آتش گیر مادے کی مدد سے ایک ایسا بم تیار کیا تھا، جو اس نے اس مسجد اور کانفرنس سینٹر کے مرکزی دروازے کے سامنے رکھ دیا تھا۔ ملزم نے اس بم کا دھماکا ایک ٹائمر کی مدد سے کیا تھا۔ملزم نے عدالت کو بتایاکہ میں کسی کو ہلاک یا زخمی کرنا نہیں بلکہ صرف ایک مثال قائم کرنا چاہتا تھا۔استغاثہ کے مطابق ملزم نے اس جرم کا ارتکاب حکومت کی مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کی مخالفت میں اور غیر ملکیوں خاص طور پر مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے کیا تھا۔ ملزم نے اپنے خلاف استغاثہ کے اس موقف کا عدالت میں کوئی جواب نہ دیا۔

مزید : عالمی منظر