ایم کیو ایم میں پھر شکست و ریخت

ایم کیو ایم میں پھر شکست و ریخت
 ایم کیو ایم میں پھر شکست و ریخت

  

بات صرف ایم کیو ایم کی نہیں، پاکستان کے سیاسی ماحول کی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بناوٹ اور بنانے والے ہاتھوں اور ان کی دی ہوئی پالیسیوں کی ہے۔ ۔۔۔عوام کی مرضی سے کہیں زیادہ، چھپے طاقت ور حلقوں کی پسند نا پسند کی طرف اشارہ کرتی، کہی اور ان کہی کہانیوں کی ہے اور گزرتے وقت کے بدلتے تیوروں اور کروٹوں کی تبدیلی کی ہے ۔۔۔

ایم کیو ایم، جو کبھی ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ کہلاتی تھی، کراچی اور حیدر آباد سمیت،سندھ کے ان شہروں کی ایک ایسی ’’قوت‘‘ تھی، جہاں بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہوئی تھی۔ ’’مہاجروں‘‘ کو ’’قومیت‘‘ کا نعرہ دے کر اور ’’مظلومیت‘‘ کا پرچم تھما کر، ایسے تعصب میں رنگ دیا گیا کہ وہ کراچی، حیدر آباد وغیرہ میں کسی بھی ’’غیر مہاجر‘‘ کو قیام و رہائش کا حق دینے کو تیار نہ تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ’’مہاجر‘‘ کے ضمن میں ، سوائے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کے ، کسی بھی دوسرے فرد کو ’’مہاجر‘‘ نہ سمجھا جاتا تھا، خواہ اس کا پورا خاندان، قیام پاکستان کے وقت، شہید ہو گیا ہو۔ بھارتی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد، پنجاب کے علاوہ سندھ(کراچی، حیدر آباد) میں بھی آباد ہے اور ان ’’مہاجرین‘‘ نے تو ایسی ہجرت کی تھی کہ ان کا پورا پورا خاندان، اپنی جنم بھومیوں سے یوں رخصت ہوا کہ کوئی نشان تک وہاں باقی نہ رہا۔ کٹتے مرتے پاکستان آئے اور، خون شہادت سے قربانی کی لازول داستانیں رقم کیں، مگر یہ ’’ایم کیو ایم‘‘ والوں کے ہاں ’’مہاجر‘‘ قرار نہ پائے، اسی طرح یو پی ، سی پی سے تعلق رکھنے والے وہ نام ور مہاجر بھی جو ایم کیو ایم کے علاوہ کسی اور پارٹی سے تعلق رکھتے تھے، وہ بھی مہاجر کی تعریف پر پورے نہ اترتے تھے۔۔۔

’’ایم کیو ایم‘‘ نے پہلی بار 1988ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کراچی ، حیدر آباد کی تقریباً ساری نشستیں بھاری اکثریت سے جیت لیں، خبریں آئیں کہ پولنگ اسٹیشنوں پر کلاشنکوف رکھ کر، بیلٹ پیپرز پر مہریں لگوائی گئیں، مگر کسی ذمہ دار ادارے نے نوٹس نہ لیا اور کوئی نوٹس لیتا بھی کیوں کر؟کہ ’’ایم کیو ایم‘‘ کو خاص مقاصد کے لئے سامنے لایا گیا تھا۔ اس پارٹی کے بنوانے کے حوالے سے خاصی باتیں شروع دن سے گردش کرتی رہی ہیں۔ مگر ایک حوالہ، خود ہمارے سامنے کا ہے۔ روزنامہ پاکستان کے فورم (پاکستان فورم) میں، کراچی کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل(ر) نصیر اختر نے، آن ریکارڈ بتایا تھا (اور یہ بات ان کے حوالے سے ایک سے زیادہ بار روزنامہ پاکستان میں شائع ہو چکی ہے۔)کہ ’’ایم کیو ایم بنانے میں لیفٹیننٹ جنرل حمید گل اور لیفٹیننٹ ضیاء الحق خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ میں نے ( لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر نے) کوشش کی کہ نہ بنائی جائے مگر وہ مصر تھے۔‘‘

ہم نے لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر سے سوال کیا کہ آخر ایم کیو ایم بنانے پر اصرار کیوں تھا؟ تو جنرل نصیر اختر نے کہا تین مقاصد تھے، نمبر ایک پیپلزپارٹی کو سندھ کے بڑے شہروں سے دیہاتی علاقوں تک محدود کرنا دوسرا جماعت اسلامی کی بلیک میلنگ اور نورانی صاحب کی مخالفت سے بچنا۔‘‘یہ ان کے الفاظ ہیں جو جوں کے توں نقل کر دیئے گئے ہیں۔)جنرل(ر) پرویز مشرف نے اپنے آخری دور میں جس طرح ایم کیو ایم کو فری ہینڈ دے کر، انہیں ’’بدمست سانڈ‘‘ بنا دیا تھا وہ بھی دنیا کے سامنے ہے۔ بالخصوص 12مئی کے سانحے میں آگ اور خون کا جو کھیل کراچی میں کھیلا گیا اور جس کو جنرل مشرف نے مکے لہراتے ہوئے، ’’اپنی طاقت‘‘ کا مظاہرہ قرار دیا تھا۔ وہ واضح طور پر اس پارٹی کی ’’قوت‘‘ اور ’’جبر‘‘ کی جلی سرخیاں پھیلاتی کہانی ہے۔۔۔

کراچی، حیدر آباد اور سکھر جیسے شہروں میں عوام کو ٹی ٹی کے خوف اور ان دیکھی زنجیروں میں باندھ کر ’’ایم کیو ایم‘‘ کو ایک مؤثر ترین پارٹی بنا دیا گیا تھا۔ ۔۔۔ اور اس کا لیڈر اپنے آپ کو (نعوذ باللہ!) ان شہروں کے باسیوں کی زندگی موت کا مالک سمجھنے لگا تھا، اس کے اشارے پر، ایک ایک کارروائی میں پونے تین تین سو افراد کو جلا کر مار دینا معمولی بات تھی۔۔۔ مگر جب سرپرستوں نے ہاتھ اٹھا لیا، تو اب، یہ ’’طاقت ور اور منظم تر، پارٹی، روز بروز بکھرتی چلی جا رہی ہے۔ اگرچہ، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ابھی بھی بعض حلقوں کو اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس کے سربراہ کو ہٹایا ہے۔ مگر وہ اس پارٹی کو ختم نہیں کریں گے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے پر کاٹ دیئے جائیں۔‘‘

فاروق ستار، اس کے (الطاف حسین کے بعد) لیڈر بنے تھے، بقول مصطفیٰ کمال ’’ایک رات میں ان کو نہلا دھلا کر پارٹی سربراہ بنوا دیا گیا۔‘‘ مگر گزشتہ پریس کانفرنس کہ جس میں فاروق ستار نے کہا تھا ’’ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم سر زمین پارٹی سے اتحاد کریں۔‘‘۔۔۔ کے بعد، فاروق ستار کو پارٹی سربراہ کی حیثیت میں کس طرح برداشت کیا جا سکتا تھا ؟

آج ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اپنی میٹنگیں کر رہی ہے اور فاروق ستار اپنی جنرل کونسل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی نے اپنے تین نمائندے بھیجے تھے مگر فاروق ستار نے ان کی بات نہیں مانی۔ بہانہ سینٹ الیکشن میں، ٹکٹ کے اجراء کا بنا ہے۔ مگر معاملہ ہر حال میں مزید پارٹی کی شکست و ریخت کا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ آنے والے عام انتخابات میں ، کراچی حیدر آباد میں، ’’مہاجروں‘‘ کی نمائندگی کے نام پر نئی ’’قیادت‘‘ یا نئی پارٹی کو، ’’طاقت و اقتدار‘‘ کا پرچم تھمایا جائے گا۔

ایم کیو ایم کی ’’طبعی عمر‘‘ پوری ہوئی ہے یا نہیں، مگر یہ ضرور ہوا ہے کہ خوف و طمع کی وہ زنجیریں جن سے ورکروں اور ذمہ داروں کو جکڑا یا باندھا گیا تھا، وہ زنجیریں اگر ٹوٹی نہیں تو کمزور ضرور ہو گئی ہیں ۔ فاروق ستار خواہ کچھ بھی کر لیں ان کی قیادت پر اسی دن سوالیہ نشان لگ گیا تھا، جب انہوں نے ’’سر زمین پارٹی‘‘ سے، ’’جبری اتحاد‘‘ والی پریس کانفرنس کی تھی ۔۔۔۔۔۔ اب ’’ایم کیو ایم‘‘ مہاجر سے متحدہ کہلانے کے باوجود، دو سے تین حصوں میں بٹ گئی ہے تو اب اس کا مزید ٹکڑے ہونے کا سفر جاری رہے گا۔ اس کے مزید حصے بھی ممکن ہیں اور عہدے داروں کی مختلف جہتوں میں اڑان بھی ۔۔۔!

مزید : رائے /کالم