ہر صورت انصاف ہو گا ، آئی جی صاحب :تگڑے رہنا آپ پر انحصار کر رہے ہیں : چیف جسٹس

ہر صورت انصاف ہو گا ، آئی جی صاحب :تگڑے رہنا آپ پر انحصار کر رہے ہیں : چیف جسٹس

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوہاٹ میں میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں انصاف کرنے بیٹھے ہیں اور ہر صورت انصاف ہوگا۔ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان میان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے عاصمہ رانی قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی خیبرپختوخوا صلاح الدین محسود کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئی جی صاحب تگڑے رہنا ،ہم آپ پر انحصار کررہے ہیں۔آئی جی کے پی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ صوبائی حکومت کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے ٗبعض اوقات کیسز کی نوعیت کی وجہ سے وقت لگ جاتا ہے، لیکن ہم پوری جانفشانی سے تفتیش آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ ملزم کے ریڈ وارنٹ کیلئے درخواست لکھ دی گئی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں کوئی اثر نظر آیا تو کیس کی تفتیش خیبرپختونخوا سے منتقل کرا دیں گے، ہم یہاں انصاف کرنے بیٹھے ہیں، ہر صورت انصاف ہوگا'۔سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے تحریک انصاف کے ضلعی صدر کوہاٹ آفتاب عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سنا تھا پشتون بڑے غیرت مند ہوتے ہیں ٗآپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں بھاگنے دیا؟چیف جسٹس نے کہاکہ کیا پشتون چھپ کر بیٹھ سکتے ہیں؟ بچی کو مارا اور خود چھپ گئے ۔جسٹس ثاقب نثار نے آفتاب عالم کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر آپ اپنے بھتیجے کو لائیں گے تو آپ کی عزت ہوگی اور برادری میں نام بھی اونچا ہوگا، ہم حفاظتی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کی حکومت نے اثرانداز ہونے کی کوشش کی تو ایکشن لیں گے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ متاثرہ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ تحریک انصاف کوہاٹ کے ضلعی صدر نے دھمکیاں دیں ٗ جب ہم نے ضلعی صدر سے پوچھا تو اس نے الزامات کی صحت سے انکار کیا۔سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے درخواست کی کہ حکم سے پی ٹی آئی کا نام نکال دیں تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کا ذکر کسی صورت نہیں نکالیں گے ٗجو الزام ہے وہ ہے اور یہ الزام متاثرہ خاندان لگا رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہم اتنے بے حس ہوگئے کہ صنف نازک سے یہ سلوک کیا؟'اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کو طلب کیا تاہم وہ عدالت عظمیٰ میں پیش نہ ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فواد چودھری کہتے ہیں کہ ہماری پولیس بہت مثالی ہے ٗ انہیں طلب کر لیتے ہیں تاکہ پتا چلے کہ خیبرپختونخوا کی پولیس کتنی مثالی پولیس ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چاہے رات کے آٹھ بج جائیں مگر آج ہی پیش ہوں‘ فواد چوہدری کے پی کے پولیس کا بہت دفاع کرتے ہیں اپنی چیز بہت اچھی اور دوسروں کی بری لگتی ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ضلعی صدر کو کیس میں شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا شاہ زیب اور مجاہد کا موبائل ڈیٹا حاصل کیا گیا؟ ملزم مجاہد کو دوبئی سے کتنے عرصے میں واپس لایا جاسکتا ہے ملزم کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ریڈ وارنٹ ہم جاری کرسکتے ہیں؟ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ کیس کا ملزم دوبئی میں ہے یا سعودی عرب میں معلوم نہیں لگتا ہے ملزم نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوبئی میں ملزم کے پاس اقامہ ہے ۔عدالت عظمیٰ نے استفسار کیا کہ کیا متاثرہ خاندان کا کوئی فرد عدالت میں موجود ہے؟ جس پر کے پی پولیس حکام کی جانب سے کہا گیا کہ اگر عدالت کہے تو انہیں پیش کرسکتے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پیش نہ کریں ہم انہیں عزت سے بلائیں گے۔بعدازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

عاصمہ رانی قتل کیس

مزید : علاقائی