سپریم کورٹ نے بینک ملازمین کو 5250 روپے پنشن کی تجویز مسترد کردی

سپریم کورٹ نے بینک ملازمین کو 5250 روپے پنشن کی تجویز مسترد کردی

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے بینک ملازمین کو پانچ ہزار دو سو پچاس روپے پنشن دینے کی تجویز مسترد کردی ہے جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے ہیں کہ 5250روپے پنشن کی رقم مناسب نہیں اس میں اضافہ کریں ہمیں یہ قبول نہیں ہے، ہم دیکھ لیتے ہیں پنشن کی رقم میں مزید کتنا اضافہ کر سکتے ہیں، منگل کے روز بینک ملازمین کی پنشن کی عدم ادائیگی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے آغاز پر ایچ بی ایل کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ انسانی بنیادوں پر معاملہ کے مناسب حل تک پہنچے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں یہ بتائیں پنشنرزکے مسئلہ کاکیاحل نکالاہے، ، یہ بتائیں خوشحال بی بی کو570روپے پنشن ملتی تھی،وہ اب آپ کی تجاویز سے کتنی خوشحال ہوگی۔وکیل نے بتایا کہ خوشحال بی بی کو 5250روپے پنشن ملے گی، عدالت نے ایچ بی ایل کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 5250پنشن کی رقم مناسب نہیں اس میں اضافہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ای او بی آئی کی پنشن بھی بڑھ رہی ہے، حکومت ای او بی آئی کی پنشن تسلی بخش کررہی ہے، پرائیویٹ ہونے والے بینک حکومت کے کچھ وعدے ہیں، ہم دیکھ لیتے ہیں کتنااضافہ کرسکتے ہیں، ایچ بی ایل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنشن پر5فیصد سالانہ اضافہ بھی دیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ پنشنرز کے دکھ اور دردکومحسوس کرتے ہیں۔دوران سماعت پی ٹی سی ایل کے سابق ملازمین بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پی ٹی سی ایل تمام عدالتی فورم سے مقدمہ ہار چکی ہے لیکن ملازمین کوپنشن دینے کوتیار نہیں ہے پی ٹی سی ایل ملازمین کی آپ پر نظر ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نظر نہ لگادینا، آپکامقدمہ جسٹس گلزار کے بنچ میں سماعت کیلئے لگارہے ہیں بعد ازاں عدالت نے بینک ملازمین پنشن کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

تجویز مسترد

مزید : علاقائی