امریکہ ، جاپا ن ، ہانگ کانگ ، بر طانیہ کی سٹاک مارکیٹوں میں تاریخی مندی ، پاکستان میں بھی انڈیکس 415پوائنٹس گر گیا

امریکہ ، جاپا ن ، ہانگ کانگ ، بر طانیہ کی سٹاک مارکیٹوں میں تاریخی مندی ، ...

کراچی+واشنگٹن(اکنامک رپورٹر+آن لائن)عالمی مارکیٹوں کے زیر اثرپاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے منگل کومندی چھائی رہی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس44ہزار کی نفسیاتی حد سے بھی گرگیا اور415.69پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس43885.51پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔حصص کی فروخت کا دباؤ بڑھنے کے باعث 64.59فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو میں 63ارب25کروڑ90لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت4کروڑ64لاکھ 16ہزار شیئرزکم رہا۔تین روزہ تعطیلات کے بعد گزشتہ روز کئی عالمی اور حظے کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کے رجحانات کے زیر اثر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی کاروبار کا آغازمنفی زون میں ہوا اور ابتداء سے سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100انڈیکس میں پہلے ایک گھنٹے کے دوران شدید گراوٹ دیکھنے میں آیا اور 44ہزار کے نفسیاتی حد بھی گر تے ہوئے انڈیکس 800سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 43494پوائنٹس کی نچلی سطح پرجاپہنچا بعد ازاں محدود پیمانے پر حصص کی خریداری کا رجحان شروع ہوا جس کے نتیجے میں ریکوری آئی لیکن مندی کے اثرات زائل نہ ہوسکے اورمندی غالب آگئی اور مارکیٹ کے اختتام پر415.69پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس43885.51 کی سطح پر بند ہوا اسی طرح 205.17پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 31682.06پوائنٹس ہو گیا جبکہ کے ایس ای30انڈیکس247.05پوائنٹس کی کمی سے 21905پوائنٹس کی سطح پر آگیا ۔گزشتہ روز مجموعی طور پر370کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے114کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب کہ اس کے مقابلے میں239میں کمپنیوں کے حصص میں کمی اور17کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔بیشتر کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرنے کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 63ارب25کروڑ90لاکھ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم91کھرب71ارب 45کروڑ74لاکھ روپے سے گھٹ کر91کھرب8ارب 19کروڑ84لاکھ روپے ہو گیا ۔اسی طرح پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو 8 ارب روپے مالیت کے 23کروڑ 79لاکھ 56ہزار شیئرز کا کاوربار ہوا جب کہ اس کے مقابلے میں جمعہ کو10ارب روپے مالیت کے 28کروڑ43لاکھ 72ہزار شیئرز کا کاوربار ہوا تھا اس لحاظ سے جمعہ کی نسبت منگل کو لین دین کے لحاظ سے کاروباری سرگرمیاں بھی مایوس کن رہی ۔اسٹاک ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں محدود پیمانے پر اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے آج( بدھ) ریکوری آنے کی توقع ہے ۔دریں اثناء آن لائن کے مطابق امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس میں 1175 پوائنٹس کی تاریخی کمی کے بعد منگل کی صبح ایشیائی منڈیوں میں بھی تیزی سے کمی دیکھی گئی ۔یاد رہے کہ پیر کو امریکہ کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ انڈیکس 4.6 فیصد گرکر 24345.75 پوائنٹس تک پہنچ گئی جو کہ گذشتہ چند سالوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔جاپان کی نیکی 225 انڈیکس 5.3 فیصد گری اور ہانگ کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس 4.7 فیصد گری۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ کا محور لانگ ٹرم بنیادی اقتصادی معیار ہیں جو کہ اس وقت انتہائی مضبوط ہیں۔واضح رہے کہ 2008 کے اقتصادی بحران کے دوران ڈاؤ جونز انڈیکس میں 777.68 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی تھی جو کہ ایک ریکارڈ تھی۔2008 میں ڈاؤ جونز میں یہ ریکارڈ کمی اس وقت دیکھی گئی تھی جب کانگریس نے امریکی بینک لیمین برادرز کے دیوالیا ہونے کے بعد بھی 700 بلین ڈالر کا ایک بیل آوٹ پیکیج منظور نہیں کیا تھا۔پیر کے روز ہونے والی ڈاؤ جونز کی گراوٹ فیصد کے تناسب میں بھی اگست 2011 کے بعد سے سب سے بڑی گراوٹ ہے جب سٹینڈرز اینڈ پوئرز نے امریکی کی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی تھی۔ڈاؤ جونز میں کمی کے بعد ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک میں بھی کمی دیکھی گئی ہے اور لندن کی ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس میں بھی 100 پوائنڈس سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔سرمایہ کار امریکی اور عالمی معیشت میں پیش گوئیوں میں تبدیلی اور بینکوں سے قرضے لینے کی قیمت میں ممکنہ اضافے پر ردِعمل ظاہر کر رہے ہیں۔جمعے کے روز امریکی محکمہِ لیبر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں تنخواہوں میں آصافے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں بھی سٹاکس کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی۔اگر عوامی سطح پر تنخواہوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے تو افراطِ زر میں اضافے کا امکان ہوگا۔افراطِ زر میں اضافے کو روکنے کے لیے امریکہ کا سنٹرل بینک سود کی شرح میں اضافے کا اعلان کر گا جس کے بعد سرمایہ کاروں کو مشکلات ہو سکتی ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معیشت کی کمزوری نہیں ہے اور نہ ہی یہ گراوٹ اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ منڈیاں کمزور ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار سٹاک مارکیٹ سے ہٹ کر دیگر اثاثوں میں پیسے ڈال رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...