مقدمات میں فریق بننے سے انکار ، شائستہ انداز کا عدالتی بائیکاٹ ہے

مقدمات میں فریق بننے سے انکار ، شائستہ انداز کا عدالتی بائیکاٹ ہے
مقدمات میں فریق بننے سے انکار ، شائستہ انداز کا عدالتی بائیکاٹ ہے

  

تجزیہ :سعید چودھری

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں زیرسماعت دو مقدمات میں فریق بننے سے انکار کردیا ہے ،ان میں سے ایک کیس عدالت کی طرف سے نااہل قراردیئے گئے شخص کی کسی سیاسی جماعت کی سربراہی سنبھالنے سے متعلق قانونی ترمیم کے بارے میں ہے جبکہ دوسرا کیس آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کی تشریح کے بارے میں ہے کہ اس آرٹیکل میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے تو پھر یہ نااہلی کتنے عرصہ کے لئے ہوگی ۔نوازشریف نے ان دونوں مقدمات کی کارروائی کا حصہ بننے سے انکارکرکے شائستگی کے ساتھ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے ۔سپریم کورٹ میں ایک اور اہم مقدمہ جو گزشتہ روززیرسماعت آیا وہ وزیرمملکت طلال چودھری کے خلاف توہین عدالت ازخود نوٹس کیس تھا۔اس کیس میں طلاق چودھری کو شوکاز نوٹس دیا گیا اور انہیں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ایک ہفتہ کی مہلت دی گئی۔نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف 6درخواستیں زیرسماعت ہیں ،اس کیس کے حوالے سے سابق وزیراعظم کا موقف ہے کہ یہ قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے اور ان کی پارٹی نے انہیں صدر منتخب کیا ہے ،وہ اس کیس کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔ان دونوں مقدمات کا نوازشریف حصہ نہیں بنتے تو اس کے کیا قانونی اثرات مرتب ہوں گے ؟مسلم لیگ (ن) پارٹی صدارت کیس میں فریق ہے اور وہ میاں نوازشریف کو پارٹی صدر بنانے کے معاملے کا عدالت میں دفاع کرے گی ۔میاں نوازشریف کے فریق نہ بننے سے کیس کی نوعیت تبدیل نہیں ہوگی اور نہ ہی میاں نوازشریف کا کوئی ایسا حق مجروح ہوگا جس کا مقدمہ کا فریق ہوتے ہوئے دفاع کرنا مقصود ہوتا۔علاوہ ازیں یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ یکطرفہ کارروائی کا مطلب متعلقہ فریق کے خلاف اندھا دھندفیصلہ سنانا نہیں ہوتا بلکہ عدالت اس فریق کے حقوق کا خود خیال کرتی ہے ۔مسلم لیگ (ن) اپنے منتخب صدر کا دفاع کرنے کے لئے عدالت میں موجود ہوگی ،ایسی صورت میں پارٹی صدارت کیس میں عدالتی کارروائی کو یکطرفہ قراردینا قرین قیاس نہیں ہوگا ۔جہاں تک آئین کے آرٹیکل62(1)ایف کی تشریح کے کیس کا معاملہ ہے اس کیس میں نوازشریف نے اپنے دستخطوں سے جواب داخل کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس کیس میں فریق نہیں ہیں اور نہ ہی فریق بننا چاہتے ہیں ،اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم اس بنچ میں دو ایسے جج جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں جنہوں نے انہیں نااہل قراردیا تھا ،وہ اگر اس کیس میں فریق ہوتے تو ان دونوں ججوں کو بنچ میں شامل کرنے پر اعتراض کرتے کیوں کہ وہ پہلے ہی نااہلی کیس میں اپنا نقطہ نظر دے چکے ہیں ۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ اس کیس میں جو لو گ فریق ہیں میرے شامل ہونے سے ان کے کیس بھی تعصب کا شکار ہوسکتے ہیں،جس کا بین السطور مطلب اس بنچ پر عدم اعتماد ہے ۔آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کی تشریح کا جو معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے وہ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے سے پہلے کا ہے ،یہ کیس 2010ء میں دائر کیا گیا تھا تاہم 62(1)ایف پر عمل درآمد اور تشریح کا معاملہ دونوں کیسوں میں مشترک ہے ۔اس کیس میں نااہلی تاحیات قراردی گئی تو نوازشریف کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گاتاہم سپریم کورٹ نے تشریح کرکے 62(1)ایف کے تحت نااہلی کو ایک الیکشن یا مخصوص مدت تک محدود کردیا تو اس کا فائدہ نوازشریف کو بھی پہنچے گا چاہے وہ اس کیس میں فریق ہیں یا نہیں ہیں ۔62(1)ایف کی تشریح کے حوالہ سے مسلم لیگ (ن) نے عدالت سے امیدیں نہیں باندھ رکھی ہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) پارٹی صدارت کیس میں بھی حوصلہ افزا نتیجہ نہیں دیکھ رہی ۔اس حوالے سے میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت کے حالیہ بیانات کو دیکھا جائے تو ان کا تمام تر زور 2018ء کی الیکشن مہم اور ان انتخابات میں دوتہائی اکثریت کے حصول پر ہے تاکہ آئین میں ایسی ترامیم کی جاسکیں جس کی بنیاد پر میاں نوازشریف دوبارہ اسمبلی میں پہنچنے کے اہل ہوسکیں ۔یہاں تک طلال چودھری کیس کا تعلق ہے اس میں سپریم کورٹ نے طلاق چودھری کی تمام سابقہ تقاریر کا ریکارڈ منگوا رکھا ہے ،ان کی آخری تقریر پی سی او ججوں کے حوالے سے تھی کہ اعلیٰ عدلیہ میں پی سی او جج بھرے ہوئے ہیں ۔انہوں نے جڑانوالہ میں اپنی تقریر کے دوران نوازشریف سے مطالبہ کیا تھا کہ پی سی او ججوں کو عدلیہ سے نکالیں ۔اگر اس ایک تقریر کی بنیاد پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوتی ہے تو ان کے پاس اپنے دفاع کے لئے کافی نکات موجود ہوں گے تاہم دیگر تقاریر کے معاملہ پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہے ۔پی سی او ججز کے حوالے سے تقریر کے معاملہ پر وہ عدالت کو "ٹفٹ ٹائم"دے سکتے ہیں ۔وہ اپنے خلاف توہین عدالت کیس کی کارروائی کو اپنی آخری تقریر کے اردگرد گھمانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔وہ یہ مطالبہ بھی کرسکتے ہیں کہ ان کیس کوئی ایسا جج نہ سنے جس نے کبھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہو ۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس نکتہ کو پارٹی منشور میں شامل کروانا چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص اعلیٰ عدلیہ میں جج کے طور پر کام نہیں کرسکتا جنہوں نے زندگی میں کبھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہو،کیوں کہ عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کے لئے مجوزہ ترمیم کسی جماعت کے انتخابی منشور میں شامل ہونا ضروری ہے ،بصورت دیگر کوئی ایسی آئینی ترمیم نہیں کی جاسکتی جس سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی حرف آتا ہو۔طلال چودھری کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان ستمبر2000ء میں جب پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے تھے تو اس وقت پرویز مشرف کا پی سی او نافذ العمل تھا ،طلال چودھری کامقدمہ ،عدلیہ اور مسلم لیگ (ن) دونوں کے لئے ٹیسٹ کیس ہوگا۔

تجزیہ :سعید چودھری

مزید : تجزیہ