نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا،احسان غنی

نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا،احسان غنی

اسلام آباد (صباح نیوز) انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کے سربراہ احسان غنی کا کہنا ہے کہ قومی ایکشن پلان میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خاتمے پر سب سے کم کام کیا گیا ہے جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر بھی مسائل کا سامنا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر یا مواد کی اشاعت روکنے سے متعلق آئندہ ہفتے نیکٹا ایک موبائل فون ایپ بھی لانچ کر رہا ہے جس کے ذریعے شہری کسی بھی نفرت انگیز مواد یا تقاریر کی فوری اطلاع دے سکیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی پر بھی اعلی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے جبکہ کریمینل جسٹس سسٹم میں اصلاحات پر کام بھی سست روی کا شکار ہے۔احسان غنی کے مطابق نیکٹا کے ذمے اس عملدرآمد سے متعلق اعداد و شمار کو حاصل کرنا، ماہانہ اجلاس کرنا اور یہ مانیٹر کرنا تھا کہ کن حصوں پر کام سست روی کا شکار ہے ۔کالعدم تنظیموں کی فنانسنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایسی تنظیموں اور شیڈول فور میں شامل افراد کے پانچ ہزار اکاؤنٹس بند کیے گئے ہیں جبکہ تقریبا تین سو ملین روپے منجمد کیے گئے ہیں۔تاہم ملکی یا بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال پر انھوں نے صوبوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...